برائے اصلاح

انیس جان — جولائی 16، 2025 8:44 صبح
کسی کو بھی نہیں پاتا, جو ہیں غموں کا ہجوم
وگرنہ ہوتا تھا ہر وقت دوستوں کا ہجوم
بجائے سینے کے رکھا ہوا ہے پیٹھ پہ ڈھال
کھڑا ہیں پشت پہ میرے منافقوں کا ہجوم
خدا کے نام پر انسان کو جلاتے ہیں
تمام شہر میں رہتا ہیں پاگلوں کا ہجوم
میں جانتا ہوں ہر اک درد مند کی تکلیف
مجھے بھی گھیرے ہوئے ہیں مصیبتوں کا ہجوم
انیس دیکھا ہے, ہر شخص نے, گراتا ہوا
کنویں میں حضرتِ یوسف کو بھائیوں کا ہجوم
الف عین یاسر شاہ
صریر — جولائی 16، 2025 5:07 شام
کسی کو بھی نہیں پاتا, جو ہیں غموں کا ہجوم
وگرنہ ہوتا تھا ہر وقت دوستوں کا ہجوم
بجائے سینے کے رکھا ہوا ہے پیٹھ پہ ڈھال
کھڑا ہیں پشت پہ میرے منافقوں کا ہجوم
خدا کے نام پر انسان کو جلاتے ہیں
تمام شہر میں رہتا ہیں پاگلوں کا ہجوم
میں جانتا ہوں ہر اک درد مند کی تکلیف
مجھے بھی گھیرے ہوئے ہیں مصیبتوں کا ہجوم
انیس دیکھا ہے, ہر شخص نے, گراتا ہوا
کنویں میں حضرتِ یوسف کو بھائیوں کا ہجوم
الف عین یاسر شاہ
بہت خوب! 👍🏻
الف عین — جولائی 16، 2025 6:53 شام
کسی کو بھی نہیں پاتا, جو ہیں غموں کا ہجوم
وگرنہ ہوتا تھا ہر وقت دوستوں کا ہجوم
ہجوم تو واحد ہے نا، ... جو ہے غموں کا ہجوم. ہونا چاہئے یک "کسی کو بھی نہیں پاتا" سے بہتر ٹکڑا بن سکتا ہے، جیسے
کوئی نظر نہیں آتا، جو ہے غموں....
بجائے سینے کے رکھا ہوا ہے پیٹھ پہ ڈھال
کھڑا ہیں پشت پہ میرے منافقوں کا ہجوم
ہجوم یہاں بھی جمع ہو گیا، یہ Collective Noun ہے
باقی درست ہے
خدا کے نام پر انسان کو جلاتے ہیں
تمام شہر میں رہتا ہیں پاگلوں کا ہجوم
میں جانتا ہوں ہر اک درد مند کی تکلیف
مجھے بھی گھیرے ہوئے ہیں مصیبتوں کا ہجوم
ہجوم ان اشعار میں بھی جمع ہو گیا، یہ Collective Noun ہے
پہلے شعر میں پتہ نہیں چلتا کہ کس وقوعے کی طرف اشارہ ہے۔
کو جلاتے ہیں؟ اگر اس کا بھی فاعل ہجوم ہے تو وہی بات اوپر کی....
دوسرا شعر واحد کے صیغے "ہے" کے ساتھ ٹھیک ہے
انیس دیکھا ہے, ہر شخص نے, گراتا ہوا
کنویں میں حضرتِ یوسف کو بھائیوں کا ہجوم
مصرع اولی میں کچھ روانی کی کمی، اور گرامر کی غلطی لگ رہی ہے، بلکہ نثر بنا کر دیکھو تو
( انیس) ہر شخص نے حضرت یوسف کو بھائیوں کا ہجوم گراتا ہوا دیکھا ہے
درست یوں ہونا چاہئے، جو اگرچہ صحیح نہیں لگتا
ہر شخص نے( ان کے ) بھائیوں کے ہجوم نےحضرت یوسف کو گراتے ہوئے دیکھا ہے
بلکہ مزید درست یوں ہو گا، تاکہ دو عدد "نے" سے چھٹکارا ملے
ہر شخص نے دیکھا ہے کہ حضرت یوسف کو ان کے ہی بھائیوں کا ہجوم گرا رہا ہے
کوما کی ضرورت نہیں ہے، وہ بھی تمہارے کی بورڈ میں انگریزی کے کاما کا کیا کام؟
انیس جان — جولائی 17، 2025 1:23 شام
بہت شکریہ حوصلہ افزائی کیلیے
انیس جان — جولائی 17، 2025 3:18 شام
مصرع اولی میں کچھ روانی کی کمی، اور گرامر کی غلطی لگ رہی ہے، بلکہ نثر بنا کر دیکھو تو
( انیس) ہر شخص نے حضرت یوسف کو بھائیوں کا ہجوم گراتا ہوا دیکھا ہے
استادِ محترم یہ متبال شعر دیکھیے گا ,ساتھ میں ایک نیا شعر بھی ہے
سوال, کس نے گرایا کنویں میں یوسف کو
جواب سب کو پتہ ہے کہ "بھائیوں کا ہجوم"
ہمارے درد سے اس قدر تیری بے فکری
انیس دیکھ کے دل میں ہے وسوسوں کاہجوم
انیس جان — جولائی 17، 2025 3:45 شام
الف عین سر یہ ایک اور شعر بھی ہے
کبھی تو گوشہِ خلوت سے نکلا کیجے گا
تمہاری تاک میں رہتا ہے بےدلوں کا ہجوم
صریر — جولائی 17، 2025 5:15 شام
الف عین سر یہ ایک اور شعر بھی ہے
کبھی تو گوشہِ خلوت سے نکلا کیجے گا
تمہاری تاک میں رہتا ہے بےدلوں کا ہجوم
شتر گربہ۔
کیجے/کیجیے کا تخاطب، ضمیر آپ کے ساتھ ہوگا،
تم/تمہاری/تمہارے وغیرہ ضمیروں کے ساتھ دیکھو/کرو وغیرہ کا تخاطب۔
نکل کے دیکھو ذرا گوشۂ خلوت سے کبھی
تمہاری تاک‌میں رہتا ۔۔۔۔
صریر — جولائی 17، 2025 5:30 شام
ہمارے درد سے اس قدر تیری بے فکری
انیس دیکھ کے دل میں ہے وسوسوں کاہجوم
یہاں پہ لفظ 'قَدَر' کا محل ہے، دال کے زبر کے ساتھ۔
شعر میں مخاطب کون ہے؟
انیس جان — جولائی 18، 2025 7:16 صبح
شتر گربہ۔
کیجے/کیجیے کا تخاطب، ضمیر آپ کے ساتھ ہوگا،
تم/تمہاری/تمہارے وغیرہ ضمیروں کے ساتھ دیکھو/کرو وغیرہ کا تخاطب۔
نکل کے دیکھو ذرا گوشۂ خلوت سے کبھی
تمہاری تاک‌میں رہتا ۔۔۔۔
اوہ
میں کوئی اور متبادل شعر بھیجتا ہوں
آپ کے متبادل شعر میں بھی مجھے "گوشہِ خلوت" وزن میں نہیں لگ رہا
بہت شکریہ اصلاح کیلیے
صریر — جولائی 18، 2025 3:57 شام
اوہ
میں کوئی اور متبادل شعر بھیجتا ہوں
آپ کے متبادل شعر میں بھی مجھے "گوشہِ خلوت" وزن میں نہیں لگ رہا
بہت شکریہ اصلاح کیلیے
واقعی، مجھے بھی سارا دن اس مصرعے سے بے چینی سے محسوس ہو رہی تھی کہ کل رات جو مصرعہ میں نے لکھا ہے، وہ وزن سے باہر تو نہیں۔
الف عین — جولائی 19، 2025 5:02 شام
نکل کے دیکھو کبھی اپنے غار خلوت سے
یہ تو ایک فوری طور پر ذہن میں آ گیا تھا، غار خلوت کی بجائے اس کا ہم وزن کچھ اور بی ہو سکتا ہے
کتنی کا ہم معنی کس قدر میں قدر کے تلفظ میں ق اور د، دونوں مفتوح ہیں
دال پر سکون کے ساتھ قدر بمعنی عزت و احترام
کہیں شاید یہ فرق بتانے کے لیے ساحر کے مصرع میں تبدیلی کی ھی میں نے
اس قدِر قدر سے دیکھو نہ ہماری جانب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.121753/