مالک مہرو وفا ہو
درد میرے کی دوا ہو
سنتا ہوں باز گشت تیری
دل مِرے کی تم صدا ہو
میں صنم چاہتا تجھے ہوں
جانے کیوں مجھ سے خفا ہو
بول تیرے ہیں سریلے
جیسے بلبل کی صدا ہو
دید کی حسرت ہے دل میں
دورزلفی سے سدا ہو
درد میرے کی دوا ہو
سنتا ہوں باز گشت تیری
دل مِرے کی تم صدا ہو
میں صنم چاہتا تجھے ہوں
جانے کیوں مجھ سے خفا ہو
بول تیرے ہیں سریلے
جیسے بلبل کی صدا ہو
دید کی حسرت ہے دل میں
دورزلفی سے سدا ہو