رحیم ساگر بلوچ — دسمبر 12، 2013 9:41 صبح
ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﻮﭼﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺍ
ﮐﺮﻭﮞ
ﻟﮕﮯ ﮈﺭ ﮐﻪ ﺍﺱ ﻛﻮ ﻧﻪ ﺭﺳﻮﺍ ﻛﺮﻭﮞ
ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﺯ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﻭﻩ ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﺟﺲ ﻛﻮ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮬﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﻭﻩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺳﻤﯿﭩﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺭﯾﺖ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺟﻮ ﺑﮑﮭﺮﺍ ﮐﺮﻭﮞ
ﻭﻩ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺗﺒﺴﻢ ﺗﮑﻠﻢ ﻏﻀﺐ
ﺳﺮ ﺷﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺑﻦ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ
ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮬﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﺗﺮﯼ ﺟﮭﯿﻞ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮭﺮﯾﮟ ﺍﭨﮭﯿﮟ
ﺟﻮ ﮐﻨﮑﺮ ﻧﻈﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮑﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﻣﻠﯿﮟ ﻣﺪﺗﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﮬﻢ
ﺗﺠﮭﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ
ﻛﺮﻭﮞ
ابن رضا — دسمبر 12، 2013 10:19 صبح
سوچتا ہوں ساگر کے شعروں پہ کچھ کہوں
پھر یہ بھی سوچتا ہو بہتر ہے چپ رہوں
کوشش جاری رکھیں ایک نہ ایک دن محنت رنگ لائے گی

سلمان حمید — دسمبر 12، 2013 10:26 صبح
اچھی غزل ہے رحیم بھائی، داد قبول کریں

وزن کے اعتبار سے تو مجھے بالکل ٹھیک لگی لیکن بہت باریکیوں کے بارے میں اساتذہ ہی بتا سکتے ہیں۔ آپ بھی میری طرح عشقیہ شاعری فرمانے کا شوق رکھتے ہیں

سید عاطف علی — دسمبر 12، 2013 10:30 صبح
ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺑﻦ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ
ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮬﺎ ﮐﺮﻭﮞ
بلوچ بھائی یہاں آپ اگر رگوں کے ساتھ سانسوں کے بجائے خون کا مضمون باندھیں تو شعر ذرااور اپیل کرے گا ۔
رحیم ساگر بلوچ — دسمبر 12، 2013 11:00 صبح
سوچتا ہوں ساگر کے شعروں پہ کچھ کہوں
پھر یہ بھی سوچتا ہو بہتر ہے چپ رہوں
کوشش جاری رکھیں ایک نہ ایک دن محنت رنگ لائے گی
مجھے بہت خوشی ھوگی که آپ کچھ تنقید فرمائیں کیونکه میں چاھتا ھوں که ميں کچھ سیکھ جاوں. اور اپنے احساسات اور جذبات خوبصورت طریقے سے قلمبند کر سکوں.
رحیم ساگر بلوچ — دسمبر 12، 2013 11:09 صبح
اچھی غزل ہے رحیم بھائی، داد قبول کریں

وزن کے اعتبار سے تو مجھے بالکل ٹھیک لگی لیکن بہت باریکیوں کے بارے میں اساتذہ ہی بتا سکتے ہیں۔ آپ بھی میری طرح عشقیہ شاعری فرمانے کا شوق رکھتے ہیں
سلمان بھائی مشکور ھوں آپ کا.... اور کچھ نھیں آتا نا اس لئے
سلمان حمید — دسمبر 12، 2013 11:19 صبح
سلمان بھائی مشکور ھوں آپ کا.... اور کچھ نھیں آتا نا اس لئے
مجھے میرے ایک استاد نے کہا تھا کہ یہ صرف آغاز ہے اور جتنی جلدی ہو سکے اس بھنور سے نکلو اگر ادھر ہی پھنس کے رہ گئے تو سطحی شاعر بن کے رہ جاؤ گے اور میں اپنے استاد کی بات پہ عمل نہ کر سکا کیوں کہ زبردستی ہوتی نہیں اور جو خود بخود لکھی جاتی ہے وہ عشقیہ ہی ہوتی ہے

رحیم ساگر بلوچ — دسمبر 12، 2013 12:20 شام
مجھے میرے ایک استاد نے کہا تھا کہ یہ صرف آغاز ہے اور جتنی جلدی ہو سکے اس بھنور سے نکلو اگر ادھر ہی پھنس کے رہ گئے تو سطحی شاعر بن کے رہ جاؤ گے اور میں اپنے استاد کی بات پہ عمل نہ کر سکا کیوں کہ زبردستی ہوتی نہیں اور جو خود بخود لکھی جاتی ہے وہ عشقیہ ہی ہوتی ہے
هاها فقط شاعري مين یا..... آپ کا کوئی استاد بھی ھے مین تو لاوارث بچے کی مانند ھون اب ایسا نھین لکھون تو کیا لکھون..
رحیم ساگر بلوچ — دسمبر 12، 2013 12:29 شام
بلوچ بھائی یہاں آپ اگر رگوں کے ساتھ سانسوں کے بجائے خون کا مضمون باندھیں تو شعر ذرااور اپیل کرے گا ۔
شکریه جناب عاطف صاحب
الف عین — دسمبر 13، 2013 3:29 صبح
اچھی کوشش ہے، ان شاء اللہ دیکھوں گا۔ فی الحال تو لاگ آف ہونا ہئ