Arshad Khan khattak — مئی 13، 2014 7:52 شام
گزرا تری گلی سے تو بیمار کی طرح
پلٹا تری گلی سے تو گل زار کی طرح
لوٹا نہ جو کبھی میں ترے آشیانے پر
تیری صدا لگی مجھے آزار کی طرح
دل میں مرے بسا ہے جو وہ ایک گل بدن
ہم پہ سدا گرا ہے وہ کہسار کی طرح
میں بھولتا نہیں ترے افکار کو کبھی
صاحب ترے خیال بهی رخسار کی طرح
میرے تو جو دماغ پہ چهایا ہے اے خٹک
کیوں گر گیا ہے ہم پہ وہ دیوار کی طرح
قیصرانی — مئی 13، 2014 8:50 شام
برائے اصلاح کے ساتھ نظم یا غزل کا نام بھی لکھ دیا کریں، ورنہ ایک ہی عنوان کے بہت سارے دھاگے الجھن بھی پیدا کر سکتے ہیں

Arshad Khan khattak — مئی 13، 2014 9:07 شام
جی ضرور
الف عین — مئی 14، 2014 10:27 صبح
گزرا تری گلی سے تو بیمار کی طرح
پلٹا تری گلی سے تو گل زار کی طرح
÷÷درست، دونوں مصرعوں میں البتہ ’تو‘ اچھا نہیں کگتا۔
لوٹا نہ جو کبھی میں ترے آشیانے پر
تیری صدا لگی مجھے آزار کی طرح
÷÷مفہوم؟
دل میں مرے بسا ہے جو وہ ایک گل بدن
ہم پہ سدا گرا ہے وہ کہسار کی طرح
۔۔جہاں ’پر’ آ سکتا ہے، وہاں ’پہ‘ نہ استعمال کیا جائے۔ یوں بھی ’پہ‘ سے مراد ’اگر ’ہوترا ہے۔
محبوب کہسار کی طرح گرا؟ کیسے؟
میں بھولتا نہیں ترے افکار کو کبھی
صاحب ترے خیال بهی رخسار کی طرح
÷÷دو لخت ہے شعر
میرے تو جو دماغ پہ چهایا ہے اے خٹک
کیوں گر گیا ہے ہم پہ وہ دیوار کی طرح
÷اب محبوب دیوار کی طرح بھی گر گیا، نہ جانے کس شے کا بنا ہے!!!
Arshad Khan khattak — مئی 14، 2014 4:44 شام
شعر 2 شاعر محبوب کی گلی میں جاتا ہے اور محبوب اسے خوب سناتا ہے ......باقی اپ سمجھ دار ہے
محبوب کہسار کی طرح گرا مطلب ہے محبوب شاعر کے لیے عذاب جان ہے اور اس پر دن رات مظالم ڈہاتا ہے اور اس کے لیے یہ ظلم روکنا ناممکن ہے جیسے پہاڑ کے لیے واپس کهڑا ہونا
شاعر نہ محبوب کو بهولتا ہے نہ اس کے. .......
آخری شعر میں شاعر کی کمر ٹوٹ گئی ان مظالم کے ہاتھوں. .....انتہائی بے بسی کا عالم ہے
ساقی۔ — مئی 14، 2014 6:36 شام
ش
آخری شعر میں شاعر کی کمر ٹوٹ گئی ان مظالم کے ہاتھوں. .....انتہائی بے بسی کا عالم ہے
چولہا پہلے ہی گھر میں کبھی کبھار جلتا ہے اوپر سے کمر بھی ٹوٹ گئی ہے ۔

اللہ خیر کرے۔ زندگی کچھ اور مشکل ہو جائے گی ۔بیگم کے طعنے الگ سننے پڑیں گے۔

Arshad Khan khattak — مئی 15، 2014 5:28 صبح
چولہا پہلے ہی گھر میں کبھی کبھار جلتا ہے اوپر سے کمر بھی ٹوٹ گئی ہے ۔

اللہ خیر کرے۔ زندگی کچھ اور مشکل ہو جائے گی ۔بیگم کے طعنے الگ سننے پڑیں گے۔
ہاہا ہا ہا ہا اللہ بس خیر کرے
Arshad Khan khattak — مئی 15، 2014 5:47 صبح
گزرا تری گلی سے تو بیمار کی طرح
پلٹا تری گلی سے تو گل زار کی طرح
÷÷درست، دونوں مصرعوں میں البتہ ’تو‘ اچھا نہیں کگتا۔
لوٹا نہ جو کبھی میں ترے آشیانے پر
تیری صدا لگی مجھے آزار کی طرح
÷÷مفہوم؟
دل میں مرے بسا ہے جو وہ ایک گل بدن
ہم پہ سدا گرا ہے وہ کہسار کی طرح
۔۔جہاں ’پر’ آ سکتا ہے، وہاں ’پہ‘ نہ استعمال کیا جائے۔ یوں بھی ’پہ‘ سے مراد ’اگر ’ہوترا ہے۔
محبوب کہسار کی طرح گرا؟ کیسے؟
میں بھولتا نہیں ترے افکار کو کبھی
صاحب ترے خیال بهی رخسار کی طرح
÷÷دو لخت ہے شعر
میرے تو جو دماغ پہ چهایا ہے اے خٹک
کیوں گر گیا ہے ہم پہ وہ دیوار کی طرح
÷اب محبوب دیوار کی طرح بھی گر گیا، نہ جانے کس شے کا بنا ہے!!!
استاد محترم آپ نے پوچھا کس شے کا بنا ہے تو جناب افغانستان کی مٹی بہت سخت ہوتی ہے اسی کا بنا ہے! ہا ہا ہا استاد محترم یہ تو میرا خیال ہے. ...اپ کچھ اور سنوارے اس کلام کو
Arshad Khan khattak — مئی 15، 2014 5:49 صبح
گزرا تری گلی سے تو بیمار کی طرح
پلٹا تری گلی سے تو گل زار کی طرح
÷÷درست، دونوں مصرعوں میں البتہ ’تو‘ اچھا نہیں کگتا۔
لوٹا نہ جو کبھی میں ترے آشیانے پر
تیری صدا لگی مجھے آزار کی طرح
÷÷مفہوم؟
دل میں مرے بسا ہے جو وہ ایک گل بدن
ہم پہ سدا گرا ہے وہ کہسار کی طرح
۔۔جہاں ’پر’ آ سکتا ہے، وہاں ’پہ‘ نہ استعمال کیا جائے۔ یوں بھی ’پہ‘ سے مراد ’اگر ’ہوترا ہے۔
محبوب کہسار کی طرح گرا؟ کیسے؟
میں بھولتا نہیں ترے افکار کو کبھی
صاحب ترے خیال بهی رخسار کی طرح
÷÷دو لخت ہے شعر
میرے تو جو دماغ پہ چهایا ہے اے خٹک
کیوں گر گیا ہے ہم پہ وہ دیوار کی طرح
÷اب محبوب دیوار کی طرح بھی گر گیا، نہ جانے کس شے کا بنا ہے!!!
استاد محترم آپ نے پوچھا کس شے کا بنا ہے تو جناب افغانستان کی مٹی بہت سخت ہوتی ہے اسی کا بنا ہے! ہا ہا ہا استاد محترم یہ تو میرا خیال ہے. ...اپ کچھ اور سنوارے اس کلام کو