عباد اللہ — جنوری 24، 2016 4:28 شام
ہجر میں دل بہل گیا، بھول گئے وصال کو
کیوں نہ دعائیں دیجئے گردشِ ماہ و سال کو
نکتہ وروں کا کال تھا شہر کے شہر میں سو ہم
آپ ہی اپنے سامنے پیش ہوئے مثال کو
ابن رضا — جنوری 24، 2016 5:36 شام
پہلی اصلاح تو یہ ہے کہ اسے نستعلیق میں بدلا جائے
ہجر میں دل بہل گیا، بھول گئے وصال کو
کیوں نہ دعائیں دیجیے گردشِ ماہ و سال کو
نکتہ وروں کا کال تھا شہر کے شہر میں سو ہم
آپ ہی اپنے سامنے پیش ہوئے مثال کو
عباد اللہ — جنوری 24، 2016 6:14 شام
پہلی اصلاح تو یہ ہے کہ اسے نستعلیق میں بدلا جائے
بہت شکریہ ابنِ رضا صاحب
الف عین — جنوری 25، 2016 4:18 شام
اوزان تو درست ہیں۔ البتہ ’شہر کے شہر میں‘ محاورے کا مطلب وہ نہیں نکلتا جو یہاں خواہش کی گئی ہے۔ یہاں ’سارے شہر میں‘ ہونا چاہئے۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 26، 2016 7:34 صبح
ماشا اللہ اچھے اشعار ہیں۔ ایک تجویز پیش کر رہا ہوں مناسب لگے تو اختیار کر لیں۔
ہجر میں دل بہل گیا، بھول گئے وصال کو
کیوں نہ دعائیں دیجیے گردشِ ماہ و سال کو
نکتہ وروں کا کال تھا سارے ہی شہر میں سو ہم
سامنے اپنے آپ کے پیش ہوئے مثال کو