برائے اصلاح

عباد اللہ — مارچ 2، 2016 7:30 شام
دل داد گانِ عشق کو رکھتی ہے مضطرب
حد سے بڑھی ہوئی یہ اذیت کبھی کبھی
کچھ سہل تو نہیں ہے ہماری نگہ کا بوجھ
لیکن اٹھائیے گا یہ زحمت کبھی کبھی
کندھا دیا ہے گر تو برا مت کہیں حضور
ایسے میں بول پڑتی ہے میت کبھی کبھی
طرفہ مزاج ہیں ترے شیدائیوں کے بھی
نفرت کھبی کھبی ہے محبت کبھی کبھی
نام آوری کی دھن نہیں فنکار کا مزاج
فن و ہنر کی موت ہے شہرت کبھی کبھی
شب ہائے ماہتاب میں فرقت کے رتجگے
ہاں ہم نے بھی سہی ہے یہ آفت کبھی کبھی
کرب آگہی کے ہم نے ڈبوئے ہیں جام میں
یوں بھی ہوئی ہے ہم کو سہولت کبھی کبھی
اغیار پر ہے آپ کا ہر لحظہ التفات
ہم پر بھی کیجئے گا عنایت کبھی کبھی
الف عین — مارچ 3، 2016 5:51 صبح
اصلاح کی ضرورت نہیں اس غزل پر۔ ماشاء اللہ
محمد تابش صدیقی — مارچ 3، 2016 5:57 صبح
بہت خوب۔
اس مصرع میں غالباً ٹائپو ہے، درست کر لیں:
کچھ سہل تو نہیں سے ہماری نگہ کا بوجھ
سید عاطف علی — مارچ 3، 2016 6:05 صبح
اصلاح کی ضرورت نہیں اس غزل پر۔ ماشاء اللہ
ایک مطلع کہیں اور غزل کی شکل دیں ۔بہت اچھے اشعار ہیں ۔
عباد اللہ — مارچ 3، 2016 12:30 شام
اصلاح کی ضرورت نہیں اس غزل پر۔ ماشاء اللہ
بہت شکریہ سر
عباد اللہ — مارچ 3، 2016 12:31 شام
بہت خوب۔
اس مصرع میں غالباً ٹائپو ہے، درست کر لیں:
کچھ سہل تو نہیں سے ہماری نگہ کا بوجھ
بہت شکریہ سر درست کر دیا
عباد اللہ — مارچ 3، 2016 12:31 شام
ایک مطلع کہیں اور غزل کی شکل دیں ۔بہت اچھے اشعار ہیں ۔
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں
صفی حیدر — مارچ 3، 2016 2:28 شام
بہت خوب ۔۔ عمدہ تخلیق ہے ۔۔۔
سید اسد معروف — مارچ 4، 2016 7:29 صبح
بہت خوب۔
عباد اللہ — مارچ 12، 2016 10:02 صبح
بہت خوب ۔۔ عمدہ تخلیق ہے ۔۔۔
نوازش
عباد اللہ — مارچ 12، 2016 10:03 صبح
ممنون

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.88420/