برائے اصلاح

عباد اللہ — مارچ 17، 2016 11:37 صبح
ہم جو افلاس کی چکی میں پسے جاتے ہیں
مثلِ کندن زرِ خالص میں ڈھلے جاتے ہیں
ہم سے نیرنگِ زمانہ کی حقیقت پوچھو
کتنے گوہر ہیں جو مٹی میں ملے جاتے ہیں
اکمل زیدی — مارچ 17، 2016 11:40 صبح
ہم جو افلاس کی چکی میں پسے جاتے ہیں
مثلِ کندن زرِ خالص میں ڈھلے جاتے ہیں
ہم سے نیرنگِ زمانہ کی حقیقت پوچھو
کتنے گوہر ہیں جو مٹی میں ملے جاتے ہیں
تھوڑا سا فونٹ بڑا کرلیں . . . بظاھر تو اچھا لگ رہا ہے ...باقی ترکیب و ترتیب ...ماہران بتائیںگے ....
عباد اللہ — مارچ 17، 2016 11:42 صبح
تھوڑا سا فونٹ بڑا کرلیں . . . بظاھر تو اچھا لگ رہا ہے ...باقی ترکیب و ترتیب ...ماہران بتائیںگے ....
آپ کے حکم کی تعمیل ہوئی
شکریہ
عباد اللہ — مارچ 17، 2016 2:41 شام
الف عین
عباد اللہ — مارچ 17، 2016 2:42 شام
ابن رضا
عباد اللہ — مارچ 17، 2016 2:42 شام
محمد یعقوب آسی
الف عین — مارچ 18، 2016 3:57 صبح
اگر قطعہ ہے تو دونوں اشعار میں ربط نہیں۔
بطور غزل کے اشعار صلاح کی ضرورت نہیں
m faizan — مارچ 18، 2016 6:05 صبح
اگر قطعہ ہے تو دونوں اشعار میں ربط نہیں۔
بطور غزل کے اشعار صلاح کی ضرورت نہیں
محمد یعقوب آسی — مارچ 19، 2016 7:06 شام
ہم جو افلاس کی چکی میں پسے جاتے ہیں
مثلِ کندن زرِ خالص میں ڈھلے جاتے ہیں
ہم سے نیرنگِ زمانہ کی حقیقت پوچھو
کتنے گوہر ہیں جو مٹی میں ملے جاتے ہیں
اب کے قویٰ ویسے نہیں رہے۔ تفصیل میں نہیں جا سکوں گا۔ ایک دو موٹی موٹی باتیں عرض کر دوں۔
’’مثلِ کندن‘‘ ترکیب درست نہیں ہے۔ دوسری بات کہ کندن زرِخالص سے اعلیٰ تر چیز ہے۔’’ کندن‘‘ کی طرح ’’زرِ خالص‘‘ میں ڈھلنا؟ بات کچھ الجھ نہیں گئی؟
درست ترکیب ’’نیرنگیء زمانہ‘‘ ہے۔ ’’ہم سے پوچھو‘‘ میں جتنی قوت تھی وہ چوتھے مصرعے میں زائل ہو گئی ’’کتنے گوہر ہیں‘‘؟ اگر یہاں ’’ہم وہ گوہر ہیں‘‘ ہوتا تو قوتِ بیان قائم رہتی۔
ویسے بھی ایک بات خلافِ واقعہ ہے۔ غربت ہر شخص کو نہیں نکھارتی۔ یہاں پہلے دونوں مصرعوں میں کوئی منطقی ربط بنانا چاہئے تھا تاکہ ’’ہم جو‘‘ کے ساتھ جواز پیدا کر سکے۔ ایک امر خلافِ واقعہ بھی ہو، اگر آپ اس کا کوئی خوبصورت سا جواز لے آئیں تو شعر سج جاتا ہے۔
یوں ہی چلتے چلتے ایک شعر دیکھ لیجئے:
آگہی آگ ہی تو ہوتی ہے
کوئی کندن کوئی غبار ہُوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباد اللہ — مارچ 19، 2016 7:12 شام
اب کے قویٰ ویسے نہیں رہے۔ تفصیل میں نہیں جا سکوں گا۔ ایک دو موٹی موٹی باتیں عرض کر دوں۔
’’مثلِ کندن‘‘ ترکیب درست نہیں ہے۔ دوسری بات کہ کندن زرِخالص سے اعلیٰ تر چیز ہے۔’’ کندن‘‘ کی طرح ’’زرِ خالص‘‘ میں ڈھلنا؟ بات کچھ الجھ نہیں گئی؟
درست ترکیب ’’نیرنگیء زمانہ‘‘ ہے۔ ’’ہم سے پوچھو‘‘ میں جتنی قوت تھی وہ چوتھے مصرعے میں زائل ہو گئی ’’کتنے گوہر ہیں‘‘؟ اگر یہاں ’’ہم وہ گوہر ہیں‘‘ ہوتا تو قوتِ بیان قائم رہتی۔
ویسے بھی ایک بات خلافِ واقعہ ہے۔ غربت ہر شخص کو نہیں نکھارتی۔ یہاں پہلے دونوں مصرعوں میں کوئی منطقی ربط بنانا چاہئے تھا تاکہ ’’ہم جو‘‘ کے ساتھ جواز پیدا کر سکے۔
یوں ہی چلتے چلتے ایک شعر دیکھ لیجئے:
آگہی آگ ہی تو ہوتی ہے
کوئی کندن کوئی غبار ہُوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واہ واہ کیا شعر عطا فرمایا سر بہت شکریہ
میری خوش قسمتی آپ نے وقت دیا
قوی تو سر میں نے ابھی سٹارٹ لیا ھے آپ التفات فرماتے رہے تو بہتری کی امید ھے۔
تراکیب وغیرہ کے حوالے سے میرا مطالعہ صفر ہے آپ کچھ تجویز فرما دیجئیے
محمد یعقوب آسی — مارچ 19، 2016 7:14 شام
کسی کا بہت مشہور شعر ہے:
رات آئی تو مصیبت لے کر
چاند نکلا تری صورت لے کر​
محبوب کی صورت نظر آنا مصیبت تو نہیں ہوتا! وہ تو خوشی اور مسرت کا مقام ہوتا ہے۔ یہاں شاعر نے حسنِ ادا سے ایک بات بالکل خلافِ واقعہ کہہ دی اور یوں کہہ دی کہ اسے مان لینے کو جی چاہتا ہے۔ امید ہے، میرا نکتہ کھل گیا ہو گا۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 19، 2016 7:17 شام
واہ واہ کیا شعر عطا فرمایا سر بہت شکریہ
میری خوش قسمتی آپ نے وقت دیا
قوی تو سر میں نے ابھی سٹارٹ لیا ھے آپ التفات فرماتے رہے تو بہتری کی امید ھے۔
تراکیب وغیرہ کے حوالے سے میرا مطالعہ صفر ہے آپ کچھ تجویز فرما دیجئیے
صحت اجازت نہیں دیتی بھائی، معافی چاہتا ہوں۔ بس یوں ہی کبھی کبھار آ نکلتا ہوں، خوشی محمد ناظر کا ’’جوگی‘‘ کہہ لیجئے۔
مطالعہ از بس ضروری ہے، اس کا کوئی بدل نہیں! مطالعہ کرنا بھی ایسے ہے کہ اس میں نکتہ آفرینیاں خود تلاش کرنی ہیں۔ یہاں کوئی بھی آپ کو انگلی پکڑ کر نہیں چلا سکے گا! سچ یہی ہے۔ اب اسے نرم انداز میں کہہ لیجئے، یا سیدھے سادے انداز میں۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 19، 2016 7:19 شام
آج یہیں تک ۔۔ پھر ملیں گے اگر خدا لایا
عباد اللہ — مارچ 19، 2016 7:20 شام
صحت اجازت نہیں دیتی بھائی، معافی چاہتا ہوں۔ بس یوں ہی کبھی کبھار آ نکلتا ہوں، خوشی محمد ناظر کا ’’جوگی‘‘ کہہ لیجئے۔
مطالعہ از بس ضروری ہے، اس کا کوئی بدل نہیں! مطالعہ کرنا بھی ایسے ہے کہ اس میں نکتہ آفرینیاں خود تلاش کرنی ہیں۔ یہاں کوئی بھی آپ کو انگلی پکڑ کر نہیں چلا سکے گا! سچ یہی ہے۔ اب اسے نرم انداز میں کہہ لیجئے، یا سیدھے سادے انداز میں۔
اللہ صحتِ کاملہ عطا فرمائے
مفید مشوروں کے لئے ممنون ہوں
سلامت رہئیے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.88696/