اب کے قویٰ ویسے نہیں رہے۔ تفصیل میں نہیں جا سکوں گا۔ ایک دو موٹی موٹی باتیں عرض کر دوں۔
’’مثلِ کندن‘‘ ترکیب درست نہیں ہے۔ دوسری بات کہ کندن زرِخالص سے اعلیٰ تر چیز ہے۔’’ کندن‘‘ کی طرح ’’زرِ خالص‘‘ میں ڈھلنا؟ بات کچھ الجھ نہیں گئی؟
درست ترکیب ’’نیرنگیء زمانہ‘‘ ہے۔ ’’ہم سے پوچھو‘‘ میں جتنی قوت تھی وہ چوتھے مصرعے میں زائل ہو گئی ’’کتنے گوہر ہیں‘‘؟ اگر یہاں ’’ہم وہ گوہر ہیں‘‘ ہوتا تو قوتِ بیان قائم رہتی۔
ویسے بھی ایک بات خلافِ واقعہ ہے۔ غربت ہر شخص کو نہیں نکھارتی۔ یہاں پہلے دونوں مصرعوں میں کوئی منطقی ربط بنانا چاہئے تھا تاکہ ’’ہم جو‘‘ کے ساتھ جواز پیدا کر سکے۔
یوں ہی چلتے چلتے ایک شعر دیکھ لیجئے:
آگہی آگ ہی تو ہوتی ہے
کوئی کندن کوئی غبار ہُوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔