برائے اصلاح

عباد اللہ — مارچ 21، 2016 4:21 صبح
دل کا پیہم یہی اصرار کہ مر کر دیکھیں
مصلحت عقل کی کہتی ھے ٹھہر کر دیکھیں
جسم پر خاک کی پوشاک پہن کر سرِ شام
دشتِ ظلمات سے اک بار گزر کر دیکھیں
آئینہ حسن کی حدت سے پگھل جائے گا
اک ذرا آپ کھبی اس کو سنور کر دیکھیں
دشتِ ادبار سے اٹھے گا تحیر کا دھواں
میری صہبائے غزل جام میں بھر کر دیکھیں
دیکھئے مصحفِ داور کا یہی ھے ارشاد!!
لوحِ ہستی پہ محبت کو امر کر دیکھیں
ہم وہ آشفتہ کہ تزئینِ غزل کی خاطر
صرف قرطاس پہ سب خونِ جگر کر دیکھیں
میری حق گوئی سے خائف ہیں یہ اہلِ مسند
سوچتے ہیں کہ مجھے شہر بدر کر دیکھیں
عباد اللہ
محمد تابش صدیقی — مارچ 21، 2016 4:29 صبح
بھائی فونٹ سائز کچھ بڑھا دیں، تاکہ پڑھا جا سکے۔ :)
سید اسد معروف — مارچ 30، 2016 9:02 صبح
بہت خوب
ہم وہ آشفتہ کہ تزئینِ غزل کی خاطر
صرف قرطاس پہ سب خونِ جگر کر دیکھیں
عباد اللہ — مارچ 30، 2016 9:54 صبح
بہت خوب
ہم وہ آشفتہ کہ تزئینِ غزل کی خاطر
صرف قرطاس پہ سب خونِ جگر کر دیکھیں
بہت شکریہ
عباد اللہ — اپریل 3، 2016 5:04 شام
الف عین ابن رضا
الف عین — اپریل 4، 2016 4:29 صبح
واہ، اچھی غزل ہے۔ اصلاح کی ضرورت نہیں میرے خیال میں۔
عباد اللہ — اپریل 9، 2016 7:59 شام
واہ، اچھی غزل ہے۔ اصلاح کی ضرورت نہیں میرے خیال میں۔
بہت شکریہ سر
کاشف اختر — اپریل 9، 2016 8:14 شام
بہت خوب واہ عمدہ غزل ہے!
سید لبید غزنوی — اپریل 21، 2016 2:43 صبح
ما شاء اللہ عمدہ غزل ہے۔۔۔بہت سی داد
اللہ آپ کے علم و عمل میں اضافہ فرمائے آمین
عباد اللہ — اپریل 21، 2016 12:09 شام
ما شاء اللہ عمدہ غزل ہے۔۔۔بہت سی داد
اللہ آپ کے علم و عمل میں اضافہ فرمائے آمین
بہت شکریہ بھیا
عباد اللہ — مئی 12، 2016 8:41 صبح
بہت خوب واہ عمدہ غزل ہے!
بہت شکریہ بھیا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.88777/