برائے اصلاح

من — اپریل 1، 2016 3:06 شام
ایک بے معنی سی حسرت چشم تر میں رہ گئی
ابلہ پا ہو چکے منزل سفر میں رہ گئی
گردش ایام راہِ پُر خطر میں رہ گئی
یاد اک انمول سی اُس رہ گزر میں رہ گئی
کسکے جانے کا گلی کوچوں میں برپا شور ہے
اپنی رسوائی کی چرچا بھی خبر میں رہ گئی
رات بھر ہم جاگ کر اک کہکشاں ڈھونڈا کیے
روشنی آنکھوں کی شاید. اس نگر میں رہ گئی
تلخیوں سے اسکے لہجے کی, نہیں نکلی یہ جاں
کچھ تو تریاقی تھی جو اسکے زہر میں رہ گئی
کاشف اختر — اپریل 1، 2016 3:27 شام
واہ واہ بہت خوب ! اساتذہ کا انتظار کریں ! ویسے غزل بہت عمدہ ہے
من — اپریل 3، 2016 3:51 شام
اب تک کوئی اصلاح کرنے نہیں ایا :arrogant:
کاشف اختر — اپریل 3، 2016 4:38 شام
اب تک کوئی اصلاح کرنے نہیں ایا :arrogant:
آپ نے ٹیگ نہیں کیا ۔ اب جلد ہی آجائیں گے الف عین ۔
من — اپریل 3، 2016 5:00 شام
آپ نے ٹیگ نہیں کیا ۔ اب جلد ہی آجائیں گے الف عین ۔
ٹیگ تو بہتوں کو کیا جی
محمد تابش صدیقی — اپریل 3، 2016 5:08 شام
ٹیگ تو بہتوں کو کیا جی
جواب آپ نے جہاں ٹیگ کیا ہے، وہ ٹیگز کسی پوسٹ کو تلاش کرنے میں آسانی کے لئے ہیں۔
کسی کو ٹیگ کرنے کے لئے اس طرح ٹیگ کیا جاتا ہے جیسے کاشف بھائی نے استادِ محترم کو کیا ہے۔
اس کے لئے @ لکھ کر بغیر سپیس کے جس فرد کو ٹیگ کرنا ہو، اس کا نام لکھنا شروع کریں۔ ناموں کی فہرست آنا شروع ہو جائے گی، مطلوبہ نام سیلکٹ کر لیں۔
من — اپریل 3، 2016 5:11 شام
[QUOجزاکم اللہ ="محمد تابش صدیقی, post: 1770586, member: 12202"]جواب آپ نے جہاں ٹیگ کیا ہے، وہ ٹیگز کسی پوسٹ کو تلاش کرنے میں آسانی کے لئے ہیں۔
کسی کو ٹیگ کرنے کے لئے اس طرح ٹیگ کیا جاتا ہے جیسے کاشف بھائی نے استادِ محترم کو کیا ہے۔
اس کے لئے @ لکھ کر بغیر سپیس کے جس فرد کو ٹیگ کرنا ہو، اس کا نام لکھنا شروع کریں۔ ناموں کی فہرست آنا شروع ہو جائے گی، مطلوبہ نام سیلکٹ کر لیں۔[/QUOTE]
اوہ جز
سلمان دانش جی — اپریل 3، 2016 5:33 شام
من صاحبہ۔ محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے یہ غزل فوری لکھی اور بنا نظرِ ثانی شریکِ محفل کر دی ہے۔ کیونکہ آپکی شاعرانہ صلاحیتوں کے پیش نظر اس غزل کا معیار آپ کے پہلے سخن جیسا نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ کئی مصرعوں میں الفاظ کی ترتیب نظر ثانی چاہتی ہے ۔
لفظ " چرچا " مونث نہیں مذکر ہے
مقطع میں "زہر" کا وزن بھی درست نہیں ہے
الف عین — اپریل 4، 2016 4:40 صبح
اچھی غزل ہے، لیکن کچھ اغلاط ہیں جیسا سلمان نے لکھا ہے۔ چرچا ہندی میں بمعنی گفتگو مؤنث ہے۔ اردو میں بمعنی شہرت مذکر ہے۔
رات بھر ہم جاگ کر اک کہکشاں ڈھونڈا کیے
روشنی آنکھوں کی شاید. اس نگر میں رہ گئی
واضح نہیں، کون سا نگر، اِس یا اُس؟
من — اپریل 4، 2016 4:54 صبح
من صاحبہ۔ محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے یہ غزل فوری لکھی اور بنا نظرِ ثانی شریکِ محفل کر دی ہے۔ کیونکہ آپکی شاعرانہ صلاحیتوں کے پیش نظر اس غزل کا معیار آپ کے پہلے سخن جیسا نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ کئی مصرعوں میں الفاظ کی ترتیب نظر ثانی چاہتی ہے ۔
لفظ " چرچا " مونث نہیں مذکر ہے
مقطع میں "زہر" کا وزن بھی درست نہیں ہے
بہت شکریہ
من — اپریل 4، 2016 4:55 صبح
اچھی غزل ہے، لیکن کچھ اغلاط ہیں جیسا سلمان نے لکھا ہے۔ چرچا ہندی میں بمعنی گفتگو مؤنث ہے۔ اردو میں بمعنی شہرت مذکر ہے۔
رات بھر ہم جاگ کر اک کہکشاں ڈھونڈا کیے
روشنی آنکھوں کی شاید. اس نگر میں رہ گئی
واضح نہیں، کون سا نگر، اِس یا اُس؟
اُس نگر ہے نشاندہی کے لیے شکریہ استاد محترم
من — اپریل 4، 2016 6:13 شام
دل میں گھر کر کے لبوں تک آ نہ پائیں چاہتیں
بات چونکہ گھر کی تھی سو گھر کی گھر میں رہ گی
دیتی ہیں نیندوں پہ پہرا بے نشاں پرچھائیاں
ایک دہشت سی میری انکھوں کے ڈر میں رہ گئی
ہم نکل پاے نا من یادوں کے خاک و خشت سے
زندگی اپنی انہی دیوار و در میں رہ گئی
تین شعر اور ارسال ہیں اصلاح کی غرض سے
الف عین — اپریل 5، 2016 7:26 صبح
دیتی ہیں نیندوں پہ پہرا بے نشاں پرچھائیاں
ایک دہشت سی میری انکھوں کے ڈر میں رہ گئی
واضح نہیں دوسرا مصرع۔باقی درست ہیں۔
من — اپریل 5، 2016 7:28 صبح
دیتی ہیں نیندوں پہ پہرا بے نشاں پرچھائیاں
ایک دہشت سی میری انکھوں کے ڈر میں رہ گئی
واضح نہیں دوسرا مصرع۔باقی درست ہیں۔
جی شکریہ
سید لبید غزنوی — اپریل 5، 2016 8:19 صبح
بہت خوب عمدہ غزل ہے ۔۔۔تمام اشعار خوب سے خوب تر ہیں۔۔۔کچھ اشعار میں تھوڑی سی بے ربطگیاں ہیں جن کی طرف استاد محترم الف عین نے اور سلمان دانش بھائی نے توجہ دلائی ہے۔۔۔
کر کوشش کہ غزل ہو خوب سے خوب تر است
کہ کوشش کرتی ہے بندے کو بلند سے بلند تراست
من — اپریل 5، 2016 9:23 صبح
بہت خوب عمدہ غزل ہے ۔۔۔تمام اشعار خوب سے خوب تر ہیں۔۔۔کچھ اشعار میں تھوڑی سی بے ربطگیاں ہیں جن کی طرف استاد محترم الف عین نے اور سلمان دانش بھائی نے توجہ دلائی ہے۔۔۔
کر کوشش کہ غزل ہو خوب است
کہ کوشش کرتی ہے بندے کو بلند است
واہ شعر خوب کہا اور شکریہ تعریف کا
من — اپریل 12، 2016 5:36 شام
اصلاح کے بعد غزل پیش ہے
من — اپریل 12، 2016 5:37 شام
منؔ
ایک بے معنی سی حسرت چشم تر میں رہ گئی
ابلہ پا ہو کہ بھی منزل سفر میں رہ گئی
گردش ایام راہِ پُر خطر میں رہ گئی
یاد اک انمول سی اُس رہ گزر میں رہ گئی
اس نے مڑ کر بھی نا دیکھا وقت رخصت ایک بار
کیا کمی میری صدائے بے اثر میں رہ گئی
شور برپا تھا اگرچہ لوٹ جانے کا ترے
اپنی رسوائی کی شہرت کیوں خبر میں رہ گئی
رات بھر ہم جاگ کر اک کہکشاں ڈھونڈا کیے
روشنی آنکھوں کی شاید. اُس نگر میں رہ گئی
صبح کی نرمی میں نکلی تھی محبت اوڑھ کر
جھلسی جھلسی ایک لڑکی دوپہر میں رہ گئی
تیز بارش اور ہم تم اوٹ میں اس پیڑ کی
وصل کی ساعت وہیں اس اک شجر میں رہ گئی
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں تھا اک مدوجزر
ناؤ قسمت کی مری پھنس کے بھنور میں رہ گئی
دل میں گھر کر کے لبوں تک آ نہ پائیں چاہتیں
بات چونکہ گھر کی تھی سو گھر کی گھر میں رہ گی
دیتی ہیں نیندوں پہ پہرا بے نشاں پرچھائیاں
ایک وحشت سی میری انکھوں کے ڈر میں رہ گئی
ہم نکل پاے نا منؔ یادوں کے خاک و خشت سے
زندگی اپنی انہی دیوار و در میں رہ گئی
منؔ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.89025/