برائے اصلاح

عباد اللہ — اپریل 6، 2016 11:26 شام
عشق کی کیا پوچھتے ہو اہلِ عالم ہم نے تو
جنبشِ مژگاں سے ہر ذرے کو گوہر کر دیا
عالمِ ہستی کو کب حاصل تھا لوگو یہ کمال
ہم نے اس کے خار و خس کو رشکِ جوہر کر دیا
الف عین — اپریل 7، 2016 5:33 صبح
پہلے شعر میں زرے کی املا کے علاوہ پہلے مصرع میں روانی کی کمی ہے۔ الفاظ بدل کر دیکھیں۔
دوسرے شعر میں عالم ہستی کو یہی کمال کرنا چاہئے تھا؟
عباد اللہ — اپریل 7، 2016 8:38 صبح
ذرے کی املا درست کر دی ہے سر
عالم ہستی کو یہی کمال ہونا چاہئے تھا؟
سمجھ نہیں سکا
اور مصرعے کی روانی کو پھر سے دیکھتا ہوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.89153/