محمد فائق — اپریل 10، 2016 11:16 صبح
اہلِ دنیا نے نہ دیکھا کبھی کردار مرا
صرف دولت پہ ہی پرکھا گیا معیار مرا
حق کا شیدائی ہوں ہر حال میں حق بولوں گا
چاہے آجائے نہ کیوں سر تہِ تلوار مرا
بے وفائی کا ضرور ان سے میں بدلا لیتا
آڑے آتا نہ اگر جذبہء ایثار مرا
ہے یقیناً ہی کسی گل کی گلستاں میں کمی
ورنہ ویران نظر آتا نہ گلزار مرا
تا ابد نام رہے گا مرا قائم فائق
نام مٹنے نہیں دیں گے مرے اشعار مرا
Arshad khan — اپریل 11، 2016 10:20 صبح
بہت خوب. مطلع میں شاید معیار لکھنا چاہ رہے تھے میعار لکھ دیا ہے
محمد فائق — اپریل 11، 2016 10:52 صبح
شکریہ ارشد بھائی
الف عین — اپریل 11، 2016 6:16 شام
اگرچہ تلوار بھی فارسی ہی ہے لیکن تہ تیغ سنا ہے تہ تلوار اب تک نہیں سنا گیا۔
اصلاح کی ضرورت نہیں۔
محمد فائق — اپریل 11، 2016 9:05 شام
بہت شکریہ
سر تہِ تلوار رہنے دوں یا تبدیلی کی ضرورت ہے؟
الف عین — اپریل 12، 2016 5:41 صبح
بہت شکریہ
سر تہِ تلوار رہنے دوں یا تبدیلی کی ضرورت ہے؟
قافیہ ہ ہے تو چلنے دو۔ دوسرے احباب کیا کہتے ہیں؟
ابن رضا
ابن رضا — اپریل 12، 2016 6:02 صبح
قافیہ ہ ہے تو چلنے دو۔ دوسرے احباب کیا کہتے ہیں؟
ابن رضا
سر قافیہ تو ترکیب نے خراب کر دیا تلوار ہندی کا لفظ ہے اس کے ساتھ اضافت نہیں آتی
الف عین — اپریل 12، 2016 6:28 صبح
میں بھی یہی سوچ رہا تھا لیکن محض کنفرم کرنے کے لئے آن لائن لغت دیکھی تو گوگل سرچ میں ہی فارسی لغت میں ملا۔ لیکن ابھی دو بارہ اسی سرچ پیج کو دیکھا اور وہ
صفحہ کھولا تو معلوم ہوا کہ شہر کا نام ہے۔ محض گوگل سرچ نے مجھے بھی کنفیوز کر دیا!!
سید عاطف علی — اپریل 12، 2016 6:36 صبح
مقطع میں نام کی تکرار کو بھی ہٹانا دینا چاہیئے ۔
بقیہ غزل اچھی ہے ۔
محمد فائق — اپریل 12، 2016 8:06 صبح
حق کا شیدائی ہوں ہر حال میں حق بولوں گا
چاہے سر کر لے قلم کیوں نہ ستمگار مرا
یہ ٹھیک ہے؟
اکمل زیدی — اپریل 12، 2016 8:17 صبح
اگرچہ تلوار بھی فارسی ہی ہے لیکن تہ تیغ سنا ہے تہ تلوار اب تک نہیں سنا گیا۔
اصلاح کی ضرورت نہیں۔
سر جی اگر
"چاہے آجائے نہ کیوں سر
تہِ تلوار مرا" کو اس کو اس طرح کردیں "چاہے آجائے نہ کیوں سر
برسر تلوار مرا" ؟؟
الف عین — اپریل 13، 2016 6:18 صبح
وہی اعتراض اب بھی قائم ہے۔ تلوار کے ساتھ فارسی اضافت نہیں لگ سکتی
محمد فائق — اپریل 13، 2016 9:34 صبح
حق کا شیدائی ہوں ہر حال میں حق بولوں گا
چاہے سر کر لے قلم کیوں نہ ستمگار مرا
یہ ٹھیک ہے سر؟
محمد فائق — اپریل 13، 2016 8:08 شام
وہی اعتراض اب بھی قائم ہے۔ تلوار کے ساتھ فارسی اضافت نہیں لگ سکتی
وہی اعتراض اب بھی قائم ہے۔ تلوار کے ساتھ فارسی اضافت نہیں لگ سکتی
حق کا شیدائی ہوں ہر حال میں حق بولوں گا
چاہے سر کر لے قلم کیوں نہ ستمگار مرا
یہ ٹھیک ہے سر؟
محمد امین صدیق — اپریل 13، 2016 9:00 شام
اہلِ دنیا نے نہ دیکھا کبھی کردار مرا
صرف دولت پہ ہی پرکھا گیا معیار مرا
حق کا شیدائی ہوں ہر حال میں حق بولوں گا
چاہے آجائے نہ کیوں سر تہِ تلوار مرا
بے وفائی کا ضرور ان سے میں بدلا لیتا
آڑے آتا نہ اگر جذبہء ایثار مرا
ہے یقیناً ہی کسی گل کی گلستاں میں کمی
ورنہ ویران نظر آتا نہ گلزار مرا
تا ابد نام رہے گا مرا قائم فائق
نام مٹنے نہیں دیں گے مرے اشعار مرا


اپنے فیس بک ٹائم لائن پر ڈال دی ہے ،اگر آپ برا نہ مانیں تو !

الف عین — اپریل 14، 2016 5:31 صبح
حق کا شیدائی ہوں ہر حال میں حق بولوں گا
چاہے سر کر لے قلم کیوں نہ ستمگار مرا
یہ ٹھیک ہے سر؟
ٹھیک ہے۔