برائے اصلاح

عباد اللہ — مئی 7، 2016 9:40 شام
محبتوں کی تمازتوں میں جو جل بجھے ہیں انہیں خبر ہے
فراق کیا ہے
وصال کیا ہے
فراق قبل از وصال کیا ہے
وصال بعد از فراق کیا ہے
وہ دشتِ سفاک میں ازل سے
جو پیڑ تشنہ دہن کھڑا ہے
اسے خبر ہے کہ آب کی چند بوندیوں کے جھلستے صحرا میں دام کیا ہیں
وہ سننے والے کی راہ تکتا ہوا سخنور
وہ ابرِ باراں کی منتظر خشک باتجھ دھرتی
وہ چشمِ باطن کے فیض کا انتظار کرتا ہوا ستارہ
اسے خبر ہے
فراق کیا ہے
وصال کیا ہے
فراق قبل از وصال کیا ہے
وصال بعد از فراق کیا ہے
عباد اللہ — مئی 7، 2016 9:47 شام
ابن رضا بھیا
راحیل فاروق سر
الف عین عین سر
الف عین — مئی 8، 2016 5:55 صبح
فراق قبل میں تنافر ہے ق کی تکرار کی وجہ سے۔
بحر و اوزان کاکوئی مسئلہ نہیں۔
عباد اللہ — مئی 8، 2016 11:14 صبح
فراق قبل میں تنافر ہے ق کی تکرار کی وجہ سے۔
بحر و اوزان کاکوئی مسئلہ نہیں۔
مجھ سے تو یہ درست نہیں ہوا سر آپ ہی مشورہ دیں
محمد ریحان قریشی — مئی 8، 2016 11:30 صبح
مجھ سے تو یہ درست نہیں ہوا سر آپ ہی مشورہ دیں
کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ خیال خوب ہے اس لیے جائز ہو سکتا ہے۔
خواجہ حافظ ،جو کہ دنیا کے سب سے بڑے غزل گو مانے جاتے ہیں۔ ان کی بھی ایک بہترین غزل میں ہر قافیے والے مصرعے میں موجود ہے۔
ساقی بہ نورِ بادہ بر افروز جامِ ما
مطرب بگو کہ کارِ جہاں شد بہ کامِ ما
مزمل حسین — مئی 8، 2016 11:43 صبح
وہ دشتِ سفاک میں ازل سے
جو پیڑ تشنہ دہن کھڑا ہے
اسے خبر ہے کہ آب کی چند بوندیوں کے جھلستے صحرا میں دام کیا ہیں
وہ سننے والے کی راہ تکتا ہوا سخنور
وہ ابرِ باراں کی منتظر خشک باتجھ دھرتی
وہ چشمِ باطن کے فیض کا انتظار کرتا ہوا ستارہ
اسے خبر ہے
فراق کیا ہے
وصال کیا ہے
فراق قبل از وصال کیا ہے
وصال بعد از فراق کیا ہے
کیا کہنے ہیں ما شاء اللہ!
سبحان اللہ سبحان اللہ!
ابن رضا — مئی 8، 2016 12:05 شام
بہت خوب!
عباد اللہ — مئی 8، 2016 12:20 شام
بہت شکریہ بھیا
عباد اللہ — مئی 8، 2016 12:22 شام
کیا کہنے ہیں ما شاء اللہ!
سبحان اللہ سبحان اللہ!
شکریہ بھیا
سلامت رہیں
La Alma — مئی 8، 2016 12:29 شام
فراق قبل از وصال کیا ہے(ملن سے پہلے جدائی کیا ہے )
وصال بعد از فراق کیا ہے (جدائی کے بعد ملں کیا ہے )
اگر آپ "قبل از " اور " بعد از " پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تو اس طرح کر کے دیکھ لیں
وصال قبل از فراق کیا ہے (جدائی سے پہلے ملن کیا ہے )
فراق بعد از وصال کیا (ملن کے بعد جدائی کیا ہے )
نظم کے مفہوم پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیونکہ دونوں صورتوں میں فراق اور وصال کو ایک دوسرے کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے ۔
عباد اللہ — مئی 8، 2016 12:36 شام
فراق قبل از وصال کیا ہے(ملن سے پہلے جدائی کیا ہے )
وصال بعد از فراق کیا ہے (جدائی کے بعد ملں کیا ہے )
اگر آپ "قبل از " اور " بعد از " پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تو اس طرح کر کے دیکھ لیں
وصال قبل از فراق کیا ہے (جدائی سے پہلے ملن کیا ہے )
فراق بعد از وصال کیا (ملن کے بعد جدائی کیا ہے )
نظم کے مفہوم پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیونکہ دونوں صورتوں میں فراق اور وصال کو ایک دوسرے کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے ۔
مشورہ کے لئے ممنون ہوں
بہت شکریہ
عباد اللہ — مئی 17، 2016 8:46 صبح
کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ خیال خوب ہے اس لیے جائز ہو سکتا ہے۔
خواجہ حافظ ،جو کہ دنیا کے سب سے بڑے غزل گو مانے جاتے ہیں۔ ان کی بھی ایک بہترین غزل میں ہر قافیے والے مصرعے میں موجود ہے۔
ساقی بہ نورِ بادہ بر افروز جامِ ما
مطرب بگو کہ کارِ جہاں شد بہ کامِ ما
شکریہ ریحان
میں اسے بدلنے پر قدرت بھی نہیں رکھتا ہوں اور راضی بھی نہیں ہوں!
روا ناروا کا جھگڑا ختم

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.89799/