برائے اصلاح

عباد اللہ — مئی 13، 2016 8:12 شام
تکرار کا حظ اٹھا رہے ہیں
ہم بات یونہی بڑھا رہے ہیں
پیمانِ گزشتۂ محبت
یاد آ کے بہت ستا رہے ہیں
خود اپنے قرار و قول ہیں جو
آئینہ ہمیں دکھا رہے ہیں
اب ہوش نہیں رہا ہے ساقی
سنبھل کے ذرا !! بتا رہے ہیں ( فعو تسلیم کرنے کو دل نہیں چاہتا)
لمحات کی قدر ہم سے پوچھو
ہم عمر یونہی گنوا رہے ہیں
یہ جن کی ہے آج حکمرانی
یہ بھی کبھی خاکِ پا رہے ہیں
کس سمت مرے پڑے ہو یارو
ہم کب سے تمہیں بلا رہے ہیں
La Alma — مئی 13، 2016 10:21 شام
اچھی ہے ۔
بحر و اوزان سے قطع نظر چند فروگزاشت ھیں ۔
"اب ہوش نہیں رہا ہے ساقی
سنبھل کے ذرا !! بتا رہے ھیں "
اتنا ہوش ہے کہ ساقی کو متنبہ کر سکیں ؟
" لمحات کی قدر ہم سے پوچھو
ہم عمر یونہی گنوا رہے ھیں "
یہ تو متضاد بیانات ھیں اگر وقت کی واقعی قدر ہوتی تو عمر یونہی نہ گزارتے ۔
"کس سمت مرے پڑے ہو یارو " ،دوستوں سے بات کرنے کا یہ اندازِ تخاطب! حیرت ہے۔
باقی ایک عمدہ کاوش ہے ۔
عباد اللہ — مئی 14، 2016 8:18 صبح
لا علمہ جی اول تو بہت شکریہ اور پھر
بحر و اوزان سے قطع نظر
کیوں سنبھل کے علاوہ بھی کہیں مسئلہ ہے ھے؟
اتنا ہوش ہے کہ ساقی کو متنبہ کر سکیں ؟
جی یہ میری کیفیت ہے اسے میں ہی سمجھ سکتا ہوں!!
یہ تو متضاد بیانات ھیں اگر وقت کی واقعی قدر ہوتی تو عمر یونہی نہ گزارتے
صنعت تضاد
دوستوں سے بات کرنے کا یہ اندازِ تخاطب!
آپ کو غالباََ ایسے دوستوں سے واسطہ نہیں پڑا !!
باقی ایک عمدہ کاوش ہے
ان

کے بعد عمدہ ہونے کا کیا سوال؟
آپ کے توجہ فرمانے پر بہت شکریہ
الف عین — مئی 14، 2016 8:37 صبح
محض دل چاہنے پر عروض کے اصول تبدیل نہیں ہوتے!
عباد اللہ — مئی 14، 2016 8:47 صبح
محض دل چاہنے پر عروض کے اصول تبدیل نہیں ہوتے!
سر باقاعدہ طور پر عروض کا علم میں نے حاصل نہیں کیا
دل کی بات کو کم علمی کے باعث ترجیح دی
اسے ترک کئے لیتے ہیں
مزید شاعری پر اگر آپ کی رائے میسر آئے ۔۔۔۔!
عباد اللہ — مئی 14، 2016 8:50 صبح
یوں بھی سنبھل میں شائد میری قرات غلط ہو جس کی وجہ سے غلط باندھا
میں اسے سمبھل پڑھتا ہوں سبھل نہیں
آپ رہنمائی فرمائیں
اکمل زیدی — مئی 14، 2016 8:56 صبح
کس سمت مرے پڑے ہو یارو
ہم کب سے تمہیں بلا رہے ہیں
واہ کیا بیساختگی ہے ...
اکمل زیدی — مئی 14، 2016 8:59 صبح
"اب ہوش نہیں رہا ہے ساقی
سنبھل کے ذرا !! بتا رہے ھیں "
اتنا ہوش ہے کہ ساقی کو متنبہ کر سکیں ؟
سنبھل کے ذرا !! بتا رہے ھیں
یہ مصرعہ ہی جواب ہے
اکمل زیدی — مئی 14، 2016 9:00 صبح
" لمحات کی قدر ہم سے پوچھو
ہم عمر یونہی گنوا رہے ھیں "
یہ تو متضاد بیانات ھیں اگر وقت کی واقعی قدر ہوتی تو عمر یونہی نہ گزارتے ۔
جب ہی تو کہا جارہا ہے کے گنوانے والا ...باخبر ہے . .
اکمل زیدی — مئی 14، 2016 9:01 صبح
"کس سمت مرے پڑے ہو یارو " ،دوستوں سے بات کرنے کا یہ اندازِ تخاطب! حیرت ہے۔
ویسے لطف اسی میں ہے ...دوست لکھنؤ کے نہیں ہیں شاید .. دلی کے ہیں :D
الف عین — مئی 14، 2016 9:04 صبح
باقی تو درست کہا جا سکتا ہے، لیکن سب سے ہلکا شعر وہی ہے جس میں سنبھل کے درست تلفظ کو ماننے کو جی نہیں چاہ رہا!! یہ ’سبل‘ ہی تقطیع ہو گا۔
اس شعر پر ہی اتنا زور کیوں؟ ساقی کا کام ہی جام دینا ہے، اس کو سنبھلنے کا مشورہ؟ اس کے علوہ ’بتانا‘ لفظ بھی اچھا نہیں۔ کوئی چیز بتائی جاتی ہے، کسی کے دام، یا نام، یا سول کا جواب۔ یہاں کیا بتایا گیا ہے؟
عباد اللہ — مئی 14، 2016 9:09 صبح
واہ کیا بیساختگی ہے ...
شکریہ بھیا
عباد اللہ — مئی 14، 2016 9:11 صبح
-
عباد اللہ — مئی 14، 2016 9:12 صبح
باقی تو درست کہا جا سکتا ہے، لیکن سب سے ہلکا شعر وہی ہے جس میں سنبھل کے درست تلفظ کو ماننے کو جی نہیں چاہ رہا!! یہ ’سبل‘ ہی تقطیع ہو گا۔
اس شعر پر ہی اتنا زور کیوں؟ ساقی کا کام ہی جام دینا ہے، اس کو سنبھلنے کا مشورہ؟ اس کے علوہ ’بتانا‘ لفظ بھی اچھا نہیں۔ کوئی چیز بتائی جاتی ہے، کسی کے دام، یا نام، یا سول کا جواب۔ یہاں کیا بتایا گیا ہے؟
اس شعر کو ترک کر دیا سر
La Alma — مئی 14، 2016 9:21 صبح
واہ کیا بیساختگی ہے ...
ویسے اگر دوستوں کو ہی کوئی اعتراض نہیں ، تو پھر ہمارا دخل در 'نا' معقولات چہ معنی دارد ۔
عباد اللہ — مئی 14، 2016 9:57 صبح
ویسے اگر دوستوں کو ہی کوئی اعتراض نہیں ، تو پھر ہمارا دخل در 'نا' معقولات چہ معنی دارد ۔
کرب ملاحظہ ہو
ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا
جون یاروں کے یار تھے ہم تو
اب ایسے نامعقول دوستوں سے ایسا ہی خطاب ممکن ہے
عباد اللہ — مئی 14، 2016 7:10 شام
جانے کیوں مجھے یقین ہے کہ یہ چوٹ نادانستہ ہے
ویسے ہے بہت خوب داد قبول کیجئے
وہ شعرا کے طنز و تشنیع بلکہ دشنام کے مضامین شاید اسی ذیل میں آتے ہیں
گلزار خان — مئی 14، 2016 8:22 شام
لمحات کی قدر ہم سے پوچھو
ہم عمر یونہی گنوا رہے ہیں
بہت عمدہ :):)
عباد اللہ — مئی 14، 2016 8:52 شام
شکریہ بھیا
یہ کہاں انا کے چکر میں پڑ گئے
بڑی نامراد شے ہے
راحیل فاروق — مئی 14، 2016 8:58 شام
عباد اللہ ، قدرتِ کلام کی بہت داد۔
سنبھل والا شعر مجھے معناً پسند آیا۔ مگر وزن کا معاملہ تکدر پیدا کرتا ہے۔
اس بحر میں شعر کہنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ اور اتنے رواں شعر کہ سبحان اللہ!
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.89887/