برائے اصلاح

Ali.Alvin — مئی 24، 2016 10:22 صبح
جب درد ہوتا ہے تو دل خوش ہوتا ہے
اس درد پر میرے تو گل خوش ہوتا ہے
اس درد کی میں کیوں صدائیں چھوڈ دوں
سائل کا اس سے نرم جل خوش ہوتا ہے
Ali.Alvin — مئی 24، 2016 10:26 صبح
اسلام
جب درد ہوتا ہے تو دل خوش ہوتا ہے
اس درد پر میرے تو گل خوش ہوتا ہے
اس درد کی میں کیوں صدائیں چھوڈ دوں
سائل کا اس سے نرم جل خوش ہوتا ہے
و علیکم صدر محفل و تمام اراکین امید ہے سب خیریت سے ہونگے اس شعر کی اصلاح میں مدد چاہتا ہوں غلطی نکال کر آگاہ کرنا
من بے کس را خدا یار شم
شاہد شاہنواز — مئی 24، 2016 2:45 شام
مجھے اس کو تحت اللفظ پڑھنے میں دشواری ہوئی۔
مستفعلن مستفعلن مستفعلن ۔۔۔ اگر اس کی یہ بحر ہے بھی تو آپ نے سوائے ایک مصرعے کے، تقطیع میں اسے ٹھیک طرح بروزن نہ کیا۔
اس درد کی میں کیوں صدائیں چھوڈ دوں
شاہد شاہنواز — مئی 24، 2016 2:47 شام
تقطیع کی بات چھوڑئیے تو اشعار کا ادراک درست نہیں ہوتا۔
ان اشعار سے مراد کیا ہے، کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ درد ہونے سے دل کی خوشی۔ پھر گل کا ذکر، یعنی پھول۔یہاں کسی چمن کا ذکر نہیں آیا تو پھول کہاں سے آیا؟ ۔۔۔ درد کی صدائیں چھوڑنے سے کیا مراد ہے؟ ۔۔۔ سائل کون ہے؟ نرم جل ۔۔۔ کیا ہے؟
محمد ریحان قریشی — مئی 24، 2016 2:54 شام
دل اور گل غلط قوافی ہیں۔ حرفِ روی سے پچھلے حروف کی حرکات ایک جیسی ہونی چاہیئں۔
شاہد شاہنواز — مئی 24، 2016 3:01 شام
دل اور گل غلط قوافی ہیں۔ حرفِ روی سے پچھلے حرف کی حرکت ایک جیسی ہونی چاہیے۔
ہاں، قوافی میں تو جل، دل اورگل سے زبر، زیر اور پیش تینوں کا استعمال کیا ہے۔ وہ کیسے جائز ہوسکتا ہے۔۔۔
Ali.Alvin — مئی 24، 2016 9:10 شام
تقطیع کی بات چھوڑئیے تو اشعار کا ادراک درست نہیں ہوتا۔
ان اشعار سے مراد کیا ہے، کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ درد ہونے سے دل کی خوشی۔ پھر گل کا ذکر، یعنی پھول۔یہاں کسی چمن کا ذکر نہیں آیا تو پھول کہاں سے آیا؟ ۔۔۔ درد کی صدائیں چھوڑنے سے کیا مراد ہے؟ ۔۔۔ سائل کون ہے؟ نرم جل ۔۔۔ کیا ہے؟
جب مجھ کو درد محسوس ہوتا ہے یعنی جب تکلیف ہوتا ہے تو دل بہت خوش ہوتا ہے اور اس درد سے میرے گل سے مطلب دوست میرا میرے درد پر خوش ہوتا ہے اور میں درد کی صدائیں کیوں چھوڈ دوں سائل معنی جو صدا دیتی ہے ان کا نرم بزرگ خوش ہوتا ہے یعنی جب میں صدا دیتا ہوں تو سائل نہیں بلکہ؛ ان کو جو بزرگ ہے وہ بھی خوش ہوتا ہے اور ہاں غلط ہے تو درست کردے تا کہ میں پورا جان سکوں
تقطیع کی بات چھوڑئیے تو اشعار کا ادراک درست نہیں ہوتا۔
ان اشعار سے مراد کیا ہے، کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ درد ہونے سے دل کی خوشی۔ پھر گل کا ذکر، یعنی پھول۔یہاں کسی چمن کا ذکر نہیں آیا تو پھول کہاں سے آیا؟ ۔۔۔ درد کی صدائیں چھوڑنے سے کیا مراد ہے؟ ۔۔۔ سائل کون ہے؟ نرم جل ۔۔۔ کیا ہے؟[/QUOT
Ali.Alvin — مئی 24، 2016 9:14 شام
ہاں، قوافی میں تو جل، دل اورگل سے زبر، زیر اور پیش تینوں کا استعمال کیا ہے۔ وہ کیسے جائز ہوسکتا ہے۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے لیکن میں نے زبر اور پیش پر توجہ نہیں دیا ہے میں شاعر نہیں سیکھ رہا ہوں
Ali.Alvin — مئی 24، 2016 9:15 شام
ہاں ٹھیک ہے لیکن میں نے زبر اور پیش پر توجہ نہیں دیا ہے میں شاعر نہیں سیکھ رہا ہوں
اور گزارش ہے کہ رہنمائی کرے تاکہ مزید میں گہرائی سے واقف رہوں آئندہ
Ali.Alvin — مئی 24، 2016 9:19 شام
مجھے اس کو تحت اللفظ پڑھنے میں دشواری ہوئی۔
مستفعلن مستفعلن مستفعلن ۔۔۔ اگر اس کی یہ بحر ہے بھی تو آپ نے سوائے ایک مصرعے کے، تقطیع میں اسے ٹھیک طرح بروزن نہ کیا۔
اس درد کی میں کیوں صدائیں چھوڈ دوں
اس درد کی مستفعلن میں کیوں صدا مستفعلن ئیں چھوڈ دوں مستفعلن
Ali.Alvin — مئی 24، 2016 9:33 شام
جب مجھ کو درد محسوس ہوتا ہے یعنی جب تکلیف ہوتا ہے تو دل بہت خوش ہوتا ہے اور اس درد سے میرے گل سے مطلب دوست میرا میرے درد پر خوش ہوتا ہے اور میں درد کی صدائیں کیوں چھوڈ دوں سائل معنی جو صدا دیتی ہے ان کا نرم بزرگ خوش ہوتا ہے یعنی جب میں صدا دیتا ہوں تو سائل نہیں بلکہ؛ ان کو جو بزرگ ہے وہ بھی خوش ہوتا ہے اور ہاں غلط ہے تو درست کردے تا کہ میں پورا جان سکوں
سائل سے مراد فقیر جبکہ ہم لوگ اللہ خیر کہتے ہیں اور فقیر بھی جو گلیوں میں صدائیں دیتے ہیں اور سائل میرے دوست نے بتایا تھا اردو میں کہتے ہیں
Ali.Alvin — مئی 24، 2016 9:35 شام
سائل سے مراد فقیر جبکہ ہم لوگ اللہ خیر کہتے ہیں اور فقیر بھی جو گلیوں میں صدائیں دیتے ہیں اور سائل میرے دوست نے بتایا تھا اردو میں کہتے ہیں
التماس دعا خدا نگھدار دعا میں یاد رکھنا
شاہد شاہنواز — مئی 25، 2016 6:53 صبح
۔۔۔ جس طرح آپ نے گل کا ذکر کیا ہے، اس سے دوست مراد نہیں لیا جاسکتا۔
آپ کی شاعری کے بارے میں ایسے کوئی بھی سوالات پیدا نہیں ہوسکتے اگر وہ شاعری کے بنیادی اصولوں سے مطابقت رکھتی ہو۔
اس کے لیے آپ کو ہمارا سمجھانا بے کار جائے گا۔ دوسرے لوگ محض رائے دے سکتے ہیں، شاعری کو سنوارنا آپ کا کام ہے۔ آسان طریقہ یہ ہے کہ اردو ادب کے نامور شعراء کی غزلیات کا مطالعہ کیجئے اور اس کے ساتھ ان کی تشریحات بھی دیکھئے کہ کس لفظ سے وہ کیا مراد لیتے ہیں۔ تقطیع سے شاید آپ واقف ہیں لیکن الفاظ میں حروف کے اسقاط کا اصول بھی دھیان میں رکھئے تو تقطیع بہت بہتر ہوجائے گی۔
محمد ریحان قریشی — مئی 25، 2016 7:19 صبح
اور گزارش ہے کہ رہنمائی کرے تاکہ مزید میں گہرائی سے واقف رہوں آئندہ
علم قافیہ پر کوئی فارسی مضمون یا کتاب دیکھ لیں۔
شاہد شاہنواز — مئی 25، 2016 7:58 صبح
علم قافیہ پر کوئی فارسی مضمون یا کتاب دیکھ لیں۔
علم قافیہ کی کتاب دیکھ سکیں تو بہت بہتر، لیکن اگر یہ نہ کیا جائے تو اس کا حل بھی وہی اردو غزلیات کا مطالعہ ہے۔ آپ مطالعہ کریں گے تو جو غزلیات آپ کو اچھی لگیں گی، آپ یاد بھی کرسکتے ہیں۔ قافیے کو سمجھنا اس سے آسان ہوجائے گا۔ موٹی سی بات یہ ہے کہ رحمت، برکت، عزت، شہرت، دولت ۔۔۔ یہ سب ہم قافیہ دو وجوہات سے ہیں کہ ان سب کے آخر میں "ت" مشترک ہے اور رحمت کے م، برکت کے ک، عزت کے ز، شہرت کے ر اور دولت کے ل پر زبر ہے جو "ت" سے پہلے ہے۔ کوئی بھی دو الفاظ جن میں یہ دو باتیں مشترک ہوں، انہیں آپ ہم قافیہ سمجھ سکتے ہیں۔
Ali.Alvin — مئی 25، 2016 8:01 صبح
۔۔۔ جس طرح آپ نے گل کا ذکر کیا ہے، اس سے دوست مراد نہیں لیا جاسکتا۔
آپ کی شاعری کے بارے میں ایسے کوئی بھی سوالات پیدا نہیں ہوسکتے اگر وہ شاعری کے بنیادی اصولوں سے مطابقت رکھتی ہو۔
اس کے لیے آپ کو ہمارا سمجھانا بے کار جائے گا۔ دوسرے لوگ محض رائے دے سکتے ہیں، شاعری کو سنوارنا آپ کا کام ہے۔ آسان طریقہ یہ ہے کہ اردو ادب کے نامور شعراء کی غزلیات کا مطالعہ کیجئے اور اس کے ساتھ ان کی تشریحات بھی دیکھئے کہ کس لفظ سے وہ کیا مراد لیتے ہیں۔ تقطیع سے شاید آپ واقف ہیں لیکن الفاظ میں حروف کے اسقاط کا اصول بھی دھیان میں رکھئے تو تقطیع بہت بہتر ہوجائے گی۔
شکریہ بھیا خوش رہنا سلامت رہو
Ali.Alvin — مئی 25، 2016 8:02 صبح
علم قافیہ پر کوئی فارسی مضمون یا کتاب دیکھ لیں۔
جی بہت خوب ریحان صاحب
Ali.Alvin — مئی 25، 2016 8:04 صبح
علم قافیہ کی کتاب دیکھ سکیں تو بہت بہتر، لیکن اگر یہ نہ کیا جائے تو اس کا حل بھی وہی اردو غزلیات کا مطالعہ ہے۔ آپ مطالعہ کریں گے تو جو غزلیات آپ کو اچھی لگیں گی، آپ یاد بھی کرسکتے ہیں۔ قافیے کو سمجھنا اس سے آسان ہوجائے گا۔ موٹی سی بات یہ ہے کہ رحمت، برکت، عزت، شہرت، دولت ۔۔۔ یہ سب ہم قافیہ دو وجوہات سے ہیں کہ ان سب کے آخر میں "ت" مشترک ہے اور رحمت کے م، برکت کے ک، عزت کے ز، شہرت کے ر اور دولت کے ل پر زبر ہے جو "ت" سے پہلے ہے۔ کوئی بھی دو الفاظ جن میں یہ دو باتیں مشترک ہوں، انہیں آپ ہم قافیہ سمجھ سکتے ہیں۔
ممنون بھیا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.90063/