برائے اصلاح

محمد فائق — جون 25، 2016 11:10 شام
میرے دشمن تو رہیں گے یہ زمانے والے
کھلتے رہتے ہیں کھری کھوٹی سنانے والے
کس زباں سے وہ ہمیں درسِ محبت دیں گے
سیدھے منہ بات بھی اپنوں سے نہ کرنے والے
پار ہوجائے سفینہ_یہ بہت مشکل ہے
ہیں سفینے میں سفینے کو ڈوبانے والے
جائے تو جائے کہاں_تخت نشیں ہیں ظالم
عدل و انصاف کی امید لگانے والے
بعدِ تحقیق وہی لوگ گنہگار ملے
دوسروں پر تھے جو الزام لگانے والے
دے رہے ہیں ترے اشعار گواہی فائق
بھول پائیں گے نہیں تجھ کو زمانے والے
عباد اللہ — جون 25، 2016 11:14 شام
واہ واہ
محمد فائق — جون 25، 2016 11:20 شام
TE="عباد اللہ, post: 1798563, member: 13489"]واہ واہ[/QUOTE]
شکریہ عباد بھائی
محمد تابش صدیقی — جون 25، 2016 11:24 شام
بہت خوب
ڈوبانے کو ڈبونے کر دیں
محمد فائق — جون 25، 2016 11:26 شام
بہت خوب
ڈوبانے کو ڈبونے کر دیں
جی شکریہ بھائی
محمد ریحان قریشی — جون 26، 2016 6:28 صبح
بہت خوب۔
ڈبونے اور کرنے غلط قوافی ہیں۔ اصل قوافی لگا ، سنا وغیرہ ہیں جو الف پر ختم ہوتے ہیں۔ نے ہر قافیے میں مشترک ہونے کی وجہ سے ردیف کا حصہ بن گیا ہے۔
الف عین — جون 26، 2016 6:16 شام
ان دونوں کے قوافی غلط ہیں۔
کس زباں سے وہ ہمیں درسِ محبت دیں گے
سیدھے منہ بات بھی اپنوں سے نہ کرنے والے
پار ہوجائے سفینہ_یہ بہت مشکل ہے
ہیں سفینے میں سفینے کو ڈوبانے والے
ڈبانے نہیں، ڈبونے درستہوتا ہے۔ ویسے ڈبانے قافیہ درست ہے، لفظ درست نہیں۔
جائے تو جائے کہاں_تخت نشیں ہیں ظالم
عدل و انصاف کی امید لگانے والے
فاعل کون ہے، یعنی کون کہاں جائے؟ اگر امید لگانے والے جائیں تو ’جائے‘ غلط ہے، جائیں ہونا چاہیئے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.90631/