عاطف ملک — اکتوبر 5، 2016 11:53 صبح
یونہی بیٹھے بیٹھے یہ سطور لکھ دیں.
تمام اساتذہ کرام اور محفلین سے تنقید و اصلاح کی گزارش کے ساتھ پیشِ نظر ہے........
صرف اتنا سا تجھ سے ناتا ہے
دل تِری ٹھوکروں پہ آتا ہے
مانگتا ہوں دعا میں اس کی خوشی
مجھ کو جو ہر گھڑی ستاتا ہے
حالِ دل جب اسے سناتاہوں
سن کے ظالم وہ مسکراتا ہے
دل میں اس کےحوالے کر آیا
چیزیں رکھ کر جو بھول جاتا ہے
یوں ہی دونوں جدا نہیں چلتے
چاند سورج سے خار کھاتا ہے
دردِ دل کی دوا ہو کیا عاطف
صبر ہی آتے آتے آتا ہے
محمدابوعبداللہ — اکتوبر 5، 2016 12:15 شام
دردِ دل کی دوا ہو کیا عاطف
دل دے پائین تسی اوتے دے آئے او، دوا کدھر چاہیدی ہن.
محمدابوعبداللہ — اکتوبر 5، 2016 12:15 شام
دردِ دل کی دوا ہو کیا عاطف
دل دے پائین تسی اوتے دے آئے او، دوا کدھر چاہیدی ہن.
علی امان — اکتوبر 5، 2016 5:33 شام
واہ، واہ، عین میم۔
بیٹھے بیٹھے اچھے شعر کہہ دیئے۔
داد اس بنا پر اشعار میں تصنع اور تکلف نہیں ہے۔ یہ بہت اچھی اور ضروری صفت ہے۔ لوگ گاڑھے الفاظ اور الجھی تراکیب کو کمال سمجھتے ہیں، جن سے زیادہ تر کلام میں لفظی و معنوی تعقید پیدا ہوجاتی ہے۔
دردِ دل کی دوا ہو کیا عاطف
صبر ہی آتے آتے آتا ہے
ہر جگہ تقدیم نہیں چلتی، ہی مقدم ہو کر اپنا معنی اصلی کھو بیٹھا ہے۔ اس کی جگہ تو لگا دیں یا کچھ اور۔
صرف اتنا سا تجھ سے ناتا ہے
دل تِری ٹھوکروں پہ آتا ہے
ٹھوکروں پہ آنا میرے خیال میں خلاف محاورہ ہے۔
الف عین — اکتوبر 5، 2016 5:41 شام
صرف بیٹھے بیٹھے لکھنے سے ہی کام نہیں چلتا۔ ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنا بھی ضروری ہے۔ خود احتسابی بہترین اصلاح ہوتی ہے۔
اب اسی غزل کو دیکھیں۔ مطلع ہی دو لخت لگ رہا ہے۔ محاورہ بھی غلط ہے اور دونوں مصرعوں میں ربط بھی نہیں۔
مجھ کو جو ہر گھڑی ستاتا ہے
سے کئی گنا بہتر اور واں یوں ہو گا۔
جو مجھے ہر گھڑی ستاتا ہے
یہ کوئی ایسی بڑی بھاری اصلاح نہیں ہے جسے شاعر خود نہ کر سکتا ہو!!
اسی طرح
صبر ہی آتے آتے آتا ہے
کو بھی اگر یوں کہیں تو
آتے آتےہی صبر آتا ہے
فرق محسوس ہوا؟؟؟؟
حالِ دل جب اسے سناتاہوں
سن کے ظالم وہ مسکراتا ہے
محض بھرتی کا شعر ہے
الف عین — اکتوبر 5، 2016 5:42 شام
میرے پیغام لکھنے کے دوران ہی علی امان کا پیغام بھی آ گیا۔ ان کی دونوں باتیں مشترک ہیں اس میں بھی۔
عاطف ملک — اکتوبر 5، 2016 5:43 شام
واہ، واہ، عین میم۔
بیٹھے بیٹھے اچھے شعر کہہ دیئے۔
داد اس بنا پر اشعار میں تصنع اور تکلف نہیں ہے۔
ٹھوکروں پہ آنا میرے خیال میں خلاف محاورہ ہے۔
داد کے لیے ممنون ہوں....وقت ملتے ہی تصیح کی کوشش کروں گا...
عاطف ملک — اکتوبر 5، 2016 5:48 شام
صرف بیٹھے بیٹھے لکھنے سے ہی کام نہیں چلتا۔ ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنا بھی ضروری ہے۔ خود احتسابی بہترین اصلاح ہوتی ہے۔
اب اسی غزل کو دیکھیں۔ مطلع ہی دو لخت لگ رہا ہے۔ محاورہ بھی غلط ہے اور دونوں مصرعوں میں ربط بھی نہیں۔
مجھ کو جو ہر گھڑی ستاتا ہے
سے کئی گنا بہتر اور واں یوں ہو گا۔
جو مجھے ہر گھڑی ستاتا ہے
یہ کوئی ایسی بڑی بھاری اصلاح نہیں ہے جسے شاعر خود نہ کر سکتا ہو!!
اسی طرح
صبر ہی آتے آتے آتا ہے
کو بھی اگر یوں کہیں تو
آتے آتےہی صبر آتا ہے
فرق محسوس ہوا؟؟؟؟
بہت بہتر سر!
انشا اللہ بہتر کرنے کی کوشش کروں گا.......
اور بیٹھے بیٹھے لکھنے سے پرہیز بھی
علی امان — اکتوبر 5، 2016 5:53 شام
استاد الف عین صاحب کا بھی شکریہ ادا کریں۔ انہوں نے تفصیلی تنقید کر دی ہے۔