برائے اصلاح

عاطف ملک — جنوری 13، 2017 7:59 شام
غزل برائے اصلاح پیشِ نظر ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اِس لطف و محبت سے لگائے تھپڑ
میں نے تمغوں کی طرح منہ پہ سجائے تھپڑ
بانٹنے والا بھی جب بانٹ رہا تھا قسمت
ہم غریبوں کے مقدر میں تھے آئے تھپڑ
پہنچے "دیوانگئِ شوق" میں در پر تیرے
گویا کوچے میں تِرے "شوقیہ" کھائے تھپڑ
محترم بھائی نے گھونسوں سے خبر لی میری
قبلہ والد نے بھی چہرے پہ جمائے تھپڑ
تجھ کو تو عشرت و آرام ہے ترکے میں ملا
میں نے خوں اپنا جلا کر ہیں کمائے تھپڑ
تم نہ آئے تو یوں عاطف نے جمائی محفل
اپنے چہرے پہ سرِ بزم لگائے تھپڑ
الف عین — جنوری 14، 2017 4:59 صبح
دوبارہ؟ تھپڑوں کا ایسا شوق؟؟؟
عاطف ملک — جنوری 14، 2017 5:04 صبح
دوبارہ؟ تھپڑوں کا ایسا شوق؟؟؟
سر!
یہ اہلِ محفل کے لیے ہے۔۔۔۔۔جتنے تھپڑ پڑ چکے،وہ کافی ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.94148/