سمر رضوی — جنوری 22، 2017 7:52 شام
من بھگونے کو جی نہیں کرتا
خود پہ رونے کو جی نہیں کرتا
جس میں پڑتا ہو جاگنا آخر
ایسے سونے کو جی نہیں کرتا
کچھ بھی دینا ہے تو مکمل دے
اونے پونے کو دل نہیں کرتا
دل کی دھرتی پہ، درد اگتے ہیں
پیار بونے کو جی نہیں کرتا
مل ہمیشہ کیلئے، یا نہ مل
پا کے کھونے کو جی نہیں کرتا
تنگ "ہونی" سے آگیا ہوں سمر
اب تو "ہونے" کو جی نہیں کرتا
الف عین — جنوری 23، 2017 5:06 صبح
ایک آدھ خامی کو چھوڑ کر درست ہے غزل۔
مطع میں من کو بھگونا محاورے کے خلاف ہے۔ انکھیں تو بھگوئی جا سکتی ہیں لیکن من یا دل؟
مل ہمیشہ کیلئے، یا نہ مل
پا کے کھونے کو جی نہیں کرتا
پہلا مصرع خارج از بحر ہو گیا ہے۔ ایک تجویز
مل سدا کے لئے، کہ مل ہی نہیں
منصور محبوب چوہدری — جنوری 23، 2017 6:11 صبح
ایک آدھ خامی کو چھوڑ کر درست ہے غزل۔
مطع میں من کو بھگونا محاورے کے خلاف ہے۔ انکھیں تو بھگوئی جا سکتی ہیں لیکن من یا دل؟
مل ہمیشہ کیلئے، یا نہ مل
پا کے کھونے کو جی نہیں کرتا
پہلا مصرع خارج از بحر ہو گیا ہے۔ ایک تجویز
مل سدا کے لئے، کہ مل ہی نہیں
سر، سمجھنے کے کیے بحر کی نشان دیہی کر دیں تو مہربانی ہوگی
محمد ریحان قریشی — جنوری 23، 2017 6:14 صبح
سر، سمجھنے کے کیے بحر کی نشان دیہی کر دیں تو مہربانی ہوگی
فاعلاتن مفاعلن فعلن(خفیف مسدس سالم مخبون محذوف)
سمر رضوی — جنوری 23، 2017 10:32 صبح
ایک آدھ خامی کو چھوڑ کر درست ہے غزل۔
مطع میں من کو بھگونا محاورے کے خلاف ہے۔ انکھیں تو بھگوئی جا سکتی ہیں لیکن من یا دل؟
مل ہمیشہ کیلئے، یا نہ مل
پا کے کھونے کو جی نہیں کرتا
پہلا مصرع خارج از بحر ہو گیا ہے۔ ایک تجویز
مل سدا کے لئے، کہ مل ہی نہیں
بہت شکریہ جناب، مطلع کو تبدیل کر لوں گا
یہ شعر وزن میں رہے گا
ہے بچھڑنا ہی گر، تو مت ملئے
پا کے کھونے کو جی نہیں کرتا
الف عین — جنوری 23، 2017 1:43 شام
بہت شکریہ جناب، مطلع کو تبدیل کر لوں گا
یہ شعر وزن میں رہے گا
ہے بچھڑنا ہی گر، تو مت ملئے
پا کے کھونے کو جی نہیں کرتا
درست ہے۔ وزن درست ہے
سمر رضوی — جنوری 23، 2017 3:41 شام
بہت مہربانی الف عین صاحب راہنمائی کے لئے بہت مشکور ہوں