برائے اصلاح

فیضان قیصر — اپریل 24، 2017 10:46 صبح
تمھاری قرابت کی آسودگی میں
نشاطِ محبت نہیں پا سکا دل
تمھاری ادا کے فسوں کے زیاں پر
پشیمان ہے بس کہے اور کیا دل
مگر تم کو کیسی یہ رنجیدگی ہے
ندامت بھی تم کو یہ کس بات کی ہے
سنو گل بدن تم سراپا وفا ہو
تمھاری محبت بصد دیدنی ہے
شکایت تو مجھکو مری ذات سے ہے
مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے
یہ آزردگی دیکھ کر بھی مری جاں
تمھیں رنج کی بھی ضرورت نہیں ہے
تمھاری لگاوٹ اکارت گئ کیوں
سنو سچ تمھیں اب بتانے لگا ہوں
تمھاری تسلیِ خاطر کو ہی میں
حقیقت سے پردہ اٹھانے لگا ہوں
گمان و یقیں کی لڑائی میں جب سے
شکستہ یقینِ محبت ہوا ہے
سبھی رنگ الفت کے بے کیف ہیں اب
محبت سے دل کا یقیں اٹھ چکا ہے

فیضان قیصر — اپریل 24، 2017 10:47 صبح
الف عین سر
راحیل فاروق
فیضان قیصر — اپریل 24، 2017 10:50 صبح
محمد ریحان قریشی صاحب
الف عین — اپریل 24، 2017 5:34 شام
اچھی نظم ہے۔ بحر و اوزان کے نک سک سے درست۔ بس ا یک یہ لفظ کھٹکا۔ اس کو بدل دو کسی طرح
بصد دیدنی
فیضان قیصر — اپریل 25، 2017 12:20 شام
اچھی نظم ہے۔ بحر و اوزان کے نک سک سے درست۔ بس ا یک یہ لفظ کھٹکا۔ اس کو بدل دو کسی طرح
بصد دیدنی

بے حد شکریہ سر۔ بصد اور دیدنی دونوں کو تبدیل کرنا ہے؟
الف عین — اپریل 26، 2017 6:14 صبح
بے حد شکریہ سر۔ بصد اور دیدنی دونوں کو تبدیل کرنا ہے؟
نہیں، دونوں ایک ساتھ غلط ہیں۔ اور تنافر کا عیب بھی ہو گیا ہے۔ مفہوم کے اعتبار سے بھی بصد کے معنی سمجھ میں نہیں آتے۔ بس یہی لفظ بدل دو۔
تو بس دیدنی ہے
ایک متبادل
فیضان قیصر — اپریل 26، 2017 2:25 شام
نہیں، دونوں ایک ساتھ غلط ہیں۔ اور تنافر کا عیب بھی ہو گیا ہے۔ مفہوم کے اعتبار سے بھی بصد کے معنی سمجھ میں نہیں آتے۔ بس یہی لفظ بدل دو۔
تو بس دیدنی ہے
ایک متبادل
جی بہتر سر۔ متبادل عطا کرنے کا شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.96003/