علی صہیب — جولائی 6، 2017 11:55 صبح
چشمِ جاناں میں وہ نشہ نہ رہا
اب محبت کا کچھ مزا نہ رہا
جلوۂ حسنِ دلربا نہ رہا
شوقِ نظّارۂ ادا نہ رہا
آرزوئے وصال بھی نہ رہی
خبطِ سودائے التجا نہ رہا
سبزۂ و گل میں کچھ کشش نہ رہی
لطفِ سیرِ چمن ذرا نہ رہا
لطفِ خوبانِ خوش ادا ہے وہی
کچھ ہمی کو دماغ تھا نہ رہا
کربِ تنہائی کاٹنے کے سوا
زیست کا کوئی مدعا نہ رہا
مہر و صدق و وفا فسانہ ہوئے
اب نہ گزرا ہوا زمانہ رہا!
چاہت و الفت و مروت و عشق
ایک بھی ان میں سے بچا نہ رہا
لوگ سنتے ہیں، سر کو دھنتے ہیں
میرا نوحہ بھی شاعرانہ رہا
رونقِ دشتِ عاشقاں نہ رہی
واں پہ قرنیؔ سا سرپھرا نہ رہا
(علی صہیب قرنیؔ)
علی صہیب — جولائی 6، 2017 12:11 شام
ایک شعر شامل ہونے سے رہ گیا، مدوّن کرنے کی کوشش کی مگر لڑی میں پرویا نہیں جا رہا! ادھر پیش ہے؛
لطفِ خوبانِ خوش ادا ہے وہی
کچھ ہمی کو دماغ تھا نہ رہا
محمد تابش صدیقی — جولائی 6، 2017 12:13 شام
اردو محفل میں خوش آمدید۔

اساتذہ کو ٹیگ کیے دیتا ہوں۔
الف عین
محمد وارث
محمد خلیل الرحمٰن
محمد ریحان قریشی
محمد تابش صدیقی — جولائی 6، 2017 12:17 شام
ایک شعر شامل ہونے سے رہ گیا، مدوّن کرنے کی کوشش کی مگر لڑی میں پرویا نہیں جا رہا! ادھر پیش ہے؛
لطفِ خوبانِ خوش ادا ہے وہی
کچھ ہمی کو دماغ تھا نہ رہا
یہ شعر کس شعر کے بعد آئے گا؟
علی صہیب — جولائی 6، 2017 12:17 شام
علی صہیب — جولائی 6، 2017 12:18 شام
یہ شعر کس شعر کے بعد آئے گا؟
سبزۂ و گل میں کچھ کشش۔۔۔۔
اس شعر کے بعد شامل کرنا چاہ رہا تھا!
محمد تابش صدیقی — جولائی 6، 2017 12:21 شام
سبزۂ و گل میں کچھ کشش۔۔۔۔
اس شعر کے بعد شامل کرنا چاہ رہا تھا!
شامل کر دیا گیا۔

علی صہیب — جولائی 6، 2017 12:23 شام
شامل کر دیا گیا۔
ایک عدد مزید شکریہ جناب ابنِ نظرؔ!


محمد تابش صدیقی — جولائی 6، 2017 12:24 شام
ایک عدد مزید شکریہ جناب ابنِ نظرؔ!

ابنِ ابنِ نظرؔ
محمد ریحان قریشی — جولائی 6، 2017 12:26 شام
بہت خوب. بہترین غزل ہے.
سر کو دھننا غالباً خلافِ محاورہ ہے.
عباد اللہ — جولائی 6، 2017 12:26 شام
معلوم ہوتا ہے کہ حافظ صاحب کو انڈر آبزرویشن رکھا گیا ہے


ویسے میاں
یہاں جا کر تعارف پیش کر دیجیو اور ہاں غزل کے لئے داد اصلاح کے لئے اساتذہ آتے ہی ہوں گے
محمد وارث — جولائی 6، 2017 12:30 شام
خوب غزل ہے حافظ صاحب!
علی صہیب — جولائی 6، 2017 12:34 شام
بہت خوب. بہترین غزل ہے.
سر کو دھننا غالباً خلافِ محاورہ ہے.
شکریہ جناب! ویسے بندہ اغلاط کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ مجوزہ متبادل الفاظ کا بھی منتظر ہے!
علی صہیب — جولائی 6، 2017 12:37 شام
معلوم ہوتا ہے کہ حافظ صاحب کو انڈر آبزرویشن رکھا گیا ہے


ویسے میاں
یہاں جا کر تعارف پیش کر دیجیو اور ہاں غزل کے لئے داد اصلاح کے لئے اساتذہ آتے ہی ہوں گے
مجھے بھی محسوس ہو رہا تھا کہ نو آموز محفلین کے ساتھ کچھ نہ کچھ امتیازی سلوک ہوتا ہے! باقی اپنی تعریف کرنے کی کوشش کرتا ہوں تعارف کی لڑی میں!

علی صہیب — جولائی 6، 2017 12:38 شام
نوازش جناب!!

الف عین — جولائی 6، 2017 5:07 شام
اردو محفل میں خوش آمدید قرنی۔ خوشی ہوئی کہ کہ ایک صاحب ذوق کا اضافہ ہوا۔
غزل مجھے تو پسند آئی۔ کیا کلاسیکی رنگ کی غزل ہے ماشاء اللہ۔ مبتدیانہ قطعی نہیں لگتی!!
سر دھننا درست محاورہ ہے، لیکن اگر بدلا نہ جا سکے تو بھی مجھے تو قبول ہے کم از کم،
البتہ مقطع کا ’واں‘ کچھ زیادہ ہی کلاسیکی ہو گیا۔ روانی مجروح ہو گئی ہے اس مصرع کی۔ کچھ متبادل سوچیں
علی صہیب — جولائی 7، 2017 8:01 صبح
اردو محفل میں خوش آمدید قرنی۔ خوشی ہوئی کہ کہ ایک صاحب ذوق کا اضافہ ہوا۔
غزل مجھے تو پسند آئی۔ کیا کلاسیکی رنگ کی غزل ہے ماشاء اللہ۔ مبتدیانہ قطعی نہیں لگتی!!
سر دھننا درست محاورہ ہے، لیکن اگر بدلا نہ جا سکے تو بھی مجھے تو قبول ہے کم از کم،
البتہ مقطع کا ’واں‘ کچھ زیادہ ہی کلاسیکی ہو گیا۔ روانی مجروح ہو گئی ہے اس مصرع کی۔ کچھ متبادل سوچیں
حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ محترم!

آخری شعر اس طرح مناسب رہے گا؟
رونقِ دشتِ عاشقاں نہ رہی
نہ رہا مجھ سا سرپھرا نہ رہا
الف عین — جولائی 7، 2017 12:43 شام
حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ محترم!

آخری شعر اس طرح مناسب رہے گا؟
رونقِ دشتِ عاشقاں نہ رہی
نہ رہا مجھ سا سرپھرا نہ رہا
بہت خوب
علی صہیب — جولائی 7، 2017 3:55 شام
بہت شکریہ!
