برائے اصلاح

عابد علی خاکسار — نومبر 25، 2017 4:29 صبح
محترم استاد@الف عین صاحب
ریحان قریشی صاحب
امجد علی راجا صاحب
گراں پے از دو سرا لا الہ الا اللہ
محیطء ارض و سما لا الہ الا اللہ
نہیں ہے تیر و تفنگ نہ تختءسلطانی
ہے زورءشیرء خدا لا الہ الااللہ
ستم نہ چھین سکا ہےکبھی سلاسل میں
بلال کے دل کی صدا لا الہ الا اللہ
فنا پذیر وجودء جہاں ہے سب لیکن
بس اک ہے راہ ء بقا لا الہ الا اللہ
فقیر کو یہ بنائے غنی زمانے میں
متاعء بیش بہا لا الہ الا اللہ
روا ہیں یوں تو وظائف بہت مگر عابد
حریمء قرب ء خدا لا الہ الا اللہ
عابد علی خاکسار — نومبر 25، 2017 12:16 شام
الف عین صاحب
ریحان قریشی صاحب
خلیل الرحمان صاحب
امجد علی راجا صاحب
الف عین — نومبر 26، 2017 5:18 صبح
ہمزہ بجائے اضافت کیوں؟
کچھ مصرع بحر سے خارج ہیں۔ ان کی درستی ہو جائے تو بات آگے کی جائے۔
یاسر اعوان — نومبر 26، 2017 6:11 صبح
سلام۔
میرا نام یاسر اعوان میں بھی کچھ ٹوٹے پھوٹے الفاظ لکھ لیتا ہوں اپنی تحریر اصلاح کے لیے یہاں بجھوانے کا۔کیا طریقہ ہے۔
شکریہ
عابد علی خاکسار — نومبر 26، 2017 6:51 صبح
ہمزہ بجائے اضافت کیوں؟
کچھ مصرع بحر سے خارج ہیں۔ ان کی درستی ہو جائے تو بات آگے کی جائے۔
سر موبائل میں زیر نہیں ہے اس لیے ء بجگہ زیر استعمال کرتا ہوں
عابد علی خاکسار — نومبر 29، 2017 4:36 صبح
الف عین صاحب اگر طبیعت پر گراں نہ گزرے تو ایک نظر
الف عین — نومبر 30، 2017 5:33 صبح
گراں پے از دو سرا لا الہ الا اللہ
محیطء ارض و سما لا الہ الا اللہ
÷÷÷ ؛ہلا مصرع سمجھ نہیں سکا۔
نہیں ہے تیر و تفنگ نہ تختءسلطانی
ہے زورءشیرء خدا لا الہ الااللہ
÷÷پہلا مصرع بحر سے خارج ہے۔
ستم نہ چھین سکا ہےکبھی سلاسل میں
بلال کے دل کی صدا لا الہ الا اللہ
÷÷ پہلا مصرع بے معنی لگتا ہے۔ دوسرا بحر میں نہیں
فنا پذیر وجودء جہاں ہے سب لیکن
بس اک ہے راہ ء بقا لا الہ الا اللہ
÷÷پہلے مصرع میں ’سب‘ بیان کو گڑبڑا رہا ہے۔ دوسرے میں ’بس اک‘ صوتی طور پر اچھا نہیں۔
فقیر کو یہ بنائے غنی زمانے میں
متاعء بیش بہا لا الہ الا اللہ
۔۔درست ہے
روا ہیں یوں تو وظائف بہت مگر عابد
حریمء قرب ء خدا لا الہ الا اللہ
÷÷یہاں حریمِ قرب سمجھ میں نہیں آیا۔
عابد علی خاکسار — نومبر 30، 2017 8:56 صبح
گراں پے از دو سرا لا الہ الا اللہ
محیطء ارض و سما لا الہ الا اللہ
÷÷÷ ؛ہلا مصرع سمجھ نہیں سکا۔
نہیں ہے تیر و تفنگ نہ تختءسلطانی
ہے زورءشیرء خدا لا الہ الااللہ
÷÷پہلا مصرع بحر سے خارج ہے۔
ستم نہ چھین سکا ہےکبھی سلاسل میں
بلال کے دل کی صدا لا الہ الا اللہ
÷÷ پہلا مصرع بے معنی لگتا ہے۔ دوسرا بحر میں نہیں
فنا پذیر وجودء جہاں ہے سب لیکن
بس اک ہے راہ ء بقا لا الہ الا اللہ
÷÷پہلے مصرع میں ’سب‘ بیان کو گڑبڑا رہا ہے۔ دوسرے میں ’بس اک‘ صوتی طور پر اچھا نہیں۔
فقیر کو یہ بنائے غنی زمانے میں
متاعء بیش بہا لا الہ الا اللہ
۔۔درست ہے
روا ہیں یوں تو وظائف بہت مگر عابد
حریمء قرب ء خدا لا الہ الا اللہ
÷÷یہاں حریمِ قرب سمجھ میں نہیں آیا۔

بہت مہربانی سر ۔۔ پہلے مصرعے میں گراں ہے از دو سرا ۔۔ میں کہنا چاہ رہا ہوں کہ لاالہ الااللہ دو جہاں سے بھاری ہے
عابد علی خاکسار — دسمبر 2، 2017 4:59 صبح
بہت مہربانی سر ۔۔ پہلے مصرعے میں گراں ہے از دو سرا ۔۔ میں کہنا چاہ رہا ہوں کہ لاالہ الااللہ دو جہاں سے بھاری ہے
الف عین صاحب سر دو سرا بمعنی دو جہاں دو سرا کی و کیا گر سکتی ہے
الف عین — دسمبر 2، 2017 1:24 شام
الف عین صاحب سر دو سرا بمعنی دو جہاں دو سرا کی و کیا گر سکتی ہے
دوسرا کی واو گر رہی ہے۔ دال نہیں۔
عابد علی خاکسار — دسمبر 3، 2017 4:11 صبح
دوسرا کی واو گر رہی ہے۔ دال نہیں۔
شکریہ سر ۔۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.99217/