توقیر عالم — دسمبر 3، 2017 7:44 صبح
عجب ہم پر ہے عالم تشنگی کا
خضر کو بول دو اس کو مٹا دے
اسے تو بھولنا ممکن نہیں ہے
یہی ہے راستہ خود کو بھلا دے
نہیں آساں محبت کا تماشہ
یہی وہ کھیل جو سب کو ہرا دے
ہے یہ ممکن دلِ ناشاد میرا
جنونِ عشق میں خود کو جلا دے
الف عین — دسمبر 4، 2017 10:46 صبح
پہلا شعر ۔۔ الفاظ کا استعمال پسندیدہ نہیں۔بول دو‘ کی بجائے کچھ اور کہو۔
دوسرا درست
تیسرا شعر۔ ثانی یوں کر دو
یہ کھیل ایسا ہے جو سب کو ۔۔۔
چوتھا۔ ہے یہ ممکن‘ کا ٹکڑا پسند نہیں آیا۔کہیں ایسا نہ ہو قسم کے الفاظ ہوں تو بہتر ابلاغ ہو۔
توقیر عالم — دسمبر 4، 2017 12:32 شام
پہلا شعر ۔۔ الفاظ کا استعمال پسندیدہ نہیں۔بول دو‘ کی بجائے کچھ اور کہو۔
۔
عجب ہم پر ہے عالم تشنگی کا
کہو اب خضر سے اس کو مٹا دے
تیسرا شعر۔ ثانی یوں کر دو
یہ کھیل ایسا ہے جو سب کو ۔۔۔
نہیں آساں محبت کا تماشہ
یہ ایسا کھیل جو سب کو ہرا دے
الف عین — دسمبر 5، 2017 1:14 شام
نہیں آساں محبت کا تماشہ
یہ ایسا کھیل جو سب کو ہرا دے
۔۔ میرے مجوزہ مصرع میں ’ہے‘ شامل تھا، جس سے بات مکمل ہوتی ہے۔