برائے اصلاح ( بحر رمل )

نوید ناظم — فروری 1، 2017 6:04 صبح
زلف زنجیر بھی ہو سکتی ہے
اور نظر تِیر بھی ہو سکتی ہے
عشق میں موت سے بچ جانے کی
کوئی تدبیر بھی ہو سکتی ہے؟
لوگ کہتے ہیں محبت اس کو
بچ کے' تقدیر بھی ہو سکتی ہے
زیست جو ہم نے گزاری ہے وہ
دکھ کی تفسیر بھی ہو سکتی ہے
اُس کی ہر بات میں یہ خوبی ہے
دل پہ تحریر بھی ہو سکتی ہے
غم کے موضوع میں جو وسعت ہے
اس پہ تقریر بھی ہو سکتی ہے
ہم جسے پھول سمجھ بیٹھے تھے
تیری تصویر بھی ہو سکتی ہے
نوید ناظم — فروری 1، 2017 6:07 صبح
محترم سر الف عین
دیگر اساتذہءِ کرام
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 1، 2017 6:33 صبح
بہترین بہت خوبصورت ،صدا شاد و آباد رہیں۔
سید عاطف علی — فروری 1، 2017 7:16 صبح
لوگ کہتے ہیں محبت اس کو
بچ کے' تقدیر بھی ہو سکتی ہے
دوسرا مصرع بہتر ہونا چاہیئے ۔ مبہم سا ہے۔
زیست جو ہم نے گزاری ہے وہ
دکھ کی تفسیر بھی ہو سکتی ہے
دکھ کی جگہ غم بہتر ہے۔
لفظ کے محل کی رعایت کےلحاظ سے۔
عظیم — فروری 1، 2017 7:30 صبح
عشق میں موت سے بچ جانے کی
کوئی تدبیر بھی ہو سکتی ہے؟
بہت اچھا شعر ہے ماشاء اللہ ۔
زیست جو ہم نے گزاری ہے وہ
دکھ کی تفسیر بھی ہو سکتی ہے
سید عاطف علی بھائی کی بات کے علاوہ مجھے 'زیست' کا استعمال اچھا نہیں لگ رہا ۔ اس کی جگہ 'زندگی' استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
÷زندگی ہم نے جو گزاری وہ
یا اس سے ملتا جلتا کچھ اور ۔
ہم جسے پھول سمجھ بیٹھے تھے
تیری تصویر بھی ہو سکتی ہے
یہ شعر بھی اچھا ہے ماشاء اللہ ۔
سید ذیشان حیدر — فروری 1، 2017 8:07 صبح
واہ نوید بھائی۔ بہت خوب
نوید ناظم — فروری 1، 2017 8:28 صبح
دوسرا مصرع بہتر ہونا چاہیئے ۔ مبہم سا ہے۔
دکھ کی جگہ غم بہتر ہے۔
لفظ کے محل کی رعایت کےلحاظ سے۔
بے حد شکریہ کہ آپ نے شفقت فرمائی۔۔۔
دکھ کی جگہ غم بہتر ہے۔
جی ٹھیک' پہلے 'غم' ہی لکھا پھر پتہ نہیں کیوں بدل دیا۔۔۔ دوبارہ غم کیے دیتا ہوں،
دوسرا مصرع بہتر ہونا چاہیئے ۔ مبہم سا ہے۔
سر دوسرے مصرعہ کے لیے مجھے اساتذہ سے رعایت چاہیے۔
نوید ناظم — فروری 1، 2017 8:34 صبح
بہت اچھا شعر ہے ماشاء اللہ ۔
سید عاطف علی بھائی کی بات کے علاوہ مجھے 'زیست' کا استعمال اچھا نہیں لگ رہا ۔ اس کی جگہ 'زندگی' استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
÷زندگی ہم نے جو گزاری وہ
یا اس سے ملتا جلتا کچھ اور ۔
یہ شعر بھی اچھا ہے ماشاء اللہ ۔
جی بہت شکریہ۔۔۔
زندگی ہم نے جو گزاری وہ
اتفاق ہے کہ جو مصرعہ آپ نے کہا بالکل یہی کہا تھا پہلے پھر اسے بھی دل دیا' پتہ نہیں کیوں۔۔۔ درست ہے' زندگی بجائے زیست بھلا لگے گا۔۔۔ یہی مصرعہ لے رہا ہوں اب۔
نوید ناظم — فروری 1، 2017 8:37 صبح
بہترین بہت خوبصورت ،صدا شاد و آباد رہیں۔
دعا اورداد دونوں کا بہت شکریہ!
نوید ناظم — فروری 1، 2017 8:38 صبح
واہ نوید بھائی۔ بہت خوب
بڑی نوازش!!
محمد ریحان قریشی — فروری 1، 2017 11:12 صبح
بہت اچھا شعر ہے ماشاء اللہ ۔
سید عاطف علی بھائی کی بات کے علاوہ مجھے 'زیست' کا استعمال اچھا نہیں لگ رہا ۔ اس کی جگہ 'زندگی' استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
÷زندگی ہم نے جو گزاری وہ
یا اس سے ملتا جلتا کچھ اور ۔
یہ شعر بھی اچھا ہے ماشاء اللہ ۔
آپ کا تجویز کردہ مصرع بحرِ خفیف میں ہے۔
نوید ناظم — فروری 1، 2017 12:30 شام
آپ کا تجویز کردہ مصرع بحرِ خفیف میں ہے۔
شکریہ ریحان بھائی۔۔۔ یہ مصرعہ ایسے کیا تھا۔۔
زندگی ہم نے گزاری ہے جو
غم کی تفسیر بھی ہو سکتی ہے
امید ہے کہ شعر ٹھیک ہو گا ؟؟
عاطف ملک — فروری 1، 2017 1:53 شام
ہم جسے پھول سمجھ بیٹھے تھے
تیری تصویر بھی ہو سکتی ہے
بہت خوب نوید بھائی!
سبھی اشعار خوب ہیں۔
ڈھیروں داد
الف عین — فروری 2، 2017 10:42 صبح
باقی تو احباب کی مدد سے درست ہو گیا۔ لیکن اس بحر کی تبدیلی کا کسی نے کچھ کہا نہ نوید نے ترمیم کی
غم کے موضوع میں جو وسعت ہے
یہ بھی فاعلاتن مفاعلن فعلن ہو گئی ہے۔
محمد ریحان قریشی — فروری 2، 2017 10:48 صبح
باقی تو احباب کی مدد سے درست ہو گیا۔ لیکن اس بحر کی تبدیلی کا کسی نے کچھ کہا نہ نوید نے ترمیم کی
غم کے موضوع میں جو وسعت ہے
یہ بھی فاعلاتن مفاعلن فعلن ہو گئی ہے۔
سر اگر میں کو یک حرفی تقطیع کیا جائے تو مصرع درست ہے۔
سید عاطف علی — فروری 2، 2017 10:55 صبح
غم کے موضوع میں جو وسعت ہے
غم کے موضوع ۔مِ جو ۔وسعت ہے
اس طرح بحر ٹھیک ہوجاتی ہے مصرع کی۔
نوید ناظم — فروری 2، 2017 2:43 شام
بہت خوب نوید بھائی!
سبھی اشعار خوب ہیں۔
ڈھیروں داد
بہت شکریہ!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%A8%D8%AD%D8%B1-%D8%B1%D9%85%D9%84.94552/