برائے اصلاح ( فاعلاتن فعلاتن فعلن)

نوید ناظم — جنوری 9، 2017 10:03 صبح
ہم نے جس کو بھی جہاں دیکھا ہے
درد سینے میں نہاں دیکھا ہے
جب محبت میں وفا ہوتی تھی
تم نے وہ دور کہاں دیکھا ہے
لوٹ کر اب وہ نہیں آئے گا
دوست ہم نے بھی جہاں دیکھا ہے
حضرتِ شَیخ ہوں گے میخانے
رات ان کو بھی وہاں دیکھا ہے
درد جو لب پہ نہیں تھا وہ بھی
تیری آنکھوں میں عیاں دیکھا ہے
دل سے شعلے بھی اٹھا کرتے تھے
تم نے تو صرف دھواں دیکھا ہے
یہ محبت ہمیں راس آئے گی
ہم نے اس میں بھی زیاں دیکھا ہے
نوید ناظم — جنوری 9، 2017 10:05 صبح
محترم سر الف عین
دیگر اساتذہء کرام۔
الف عین — جنوری 10، 2017 3:27 صبح
مطلع دو لخت محسوس ہو رہا ہے۔ اور
حضرتِ شَیخ ہوں گے میخانے
رات ان کو بھی وہاں دیکھا ہے
پہلے مصرع کے الفاظ بدل دیں۔ ہوں گے کا ’ہُ گے‘ تقطیع ہونا اچھا نہیں۔
شیخ مے خانے میں ہوں گے شاید
نوید ناظم — جنوری 10، 2017 4:42 صبح
مطلع دو لخت محسوس ہو رہا ہے۔ اور
حضرتِ شَیخ ہوں گے میخانے
رات ان کو بھی وہاں دیکھا ہے
پہلے مصرع کے الفاظ بدل دیں۔ ہوں گے کا ’ہُ گے‘ تقطیع ہونا اچھا نہیں۔
شیخ مے خانے میں ہوں گے شاید

بہت شکریہ سر۔۔
مطلع لکھتے ہوئے مجھے بھی دو لخت لگا، لیکن کوئی متبادل ذہن میں نہ آیا تو مجبوراً اسی پر اکتفا کر لیا کہ یہی قریب ترین محسوس ہوا۔
شیخ مے خانے میں ہوں گے شاید۔۔۔ سبحان اللہ' اس میں تو روانی اور اسلوب دونوں بہتر ہو گئے۔
منصور محبوب چوہدری — جنوری 11، 2017 4:28 شام
ہم نے جسے بھی جہاں دیکھا ہے
درد سینے میں نہاں دیکھا ہے
منصور محبوب چوہدری — جنوری 11، 2017 4:53 شام
وہ دور تم نے کہاں دیکھا ہے
یار ہم نے بھی جہاں دیکھا ہے
منصور محبوب چوہدری — جنوری 11، 2017 5:10 شام
آگ دل کی نہیں بجھتی نوید
ہر طرف ہم نے دھواں دیکھا ہے
منصور محبوب چوہدری — جنوری 11، 2017 5:12 شام
طرف سے بہتر سمت ہوگا - شاید - گستاخی معاف
محمد ریحان قریشی — جنوری 13، 2017 7:32 صبح
طرف سے بہتر سمت ہوگا - شاید - گستاخی معاف
طرف اور سمت ہم وزن نہیں سمت سے مصرع خارج از بحر ہو جائے گا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%84%D9%86.94066/