برائے اصلاح ( مفعولن فاعلن فعولن)

نوید ناظم — دسمبر 12، 2016 4:27 شام
دل جو پہلو میں تھا ' نہیں ہے
کیا یہ بھی سانحہ نہیں ہے؟
اس نے خود چُن لی ہے جدائی
یہ دوری' حادثہ نہیں ہے
مجھ کو بس ہجر کھا رہا ہے
مجھ کو کچھ عارضہ نہیں ہے
جس کا بھی ہو مری بلا سے
وہ دلبر جو مرا نہیں ہے
کیوں خود کو دیکھتے ہو ان میں
آنکھیں ہیں' آئنہ نہیں ہے
اک دل ہے میرے پاس لیجے
ورنہ تو کچھ بچا نہیں ہے
کہتے ہیں بزم سے چلا جا
کہتے ہیں اٹھ' سنا نہیں ہے
خوش تھے پہلے نوید دل پر
اب وہ دل بھی رہا نہیں ہے
نوید ناظم — دسمبر 12، 2016 4:28 شام
محترم الف عین صاحب
محترم راحیل فاروق صاحب
الف عین — دسمبر 13، 2016 5:50 صبح
مزمل شیخ بسمل
نوید ناظم — دسمبر 15، 2016 10:02 صبح
سر الف عین
راحیل فاروق بھائی۔۔۔۔ رائے کا منتظر ہوں۔۔۔
نوید ناظم — دسمبر 17، 2016 7:29 صبح
مفعول/مفعولن فاعلن فعولن۔
محمد ریحان قریشی — دسمبر 18، 2016 6:25 صبح
مفعول/مفعولن فاعلن فعولن۔
اصل بحر مفعول مفاعلن فعولن(ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف) ہے۔ تسکینِ اوسط کے ذریعے وزن مفعولن فاعلن فعولن(ہزج مسدس اخرم اشتر محذوف یا پھر ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف مسکن) حاصل کیا جا سکتا ہے۔
دل جو پہلو میں تھا ' نہیں ہے
کیا یہ بھی سانحہ نہیں ہے؟
اس نے خود چُن لی ہے جدائی
یہ دوری' حادثہ نہیں ہے
مجھ کو بس ہجر کھا رہا ہے
مجھ کو کچھ عارضہ نہیں ہے
جس کا بھی ہو مری بلا سے
وہ دلبر جو مرا نہیں ہے
کیوں خود کو دیکھتے ہو ان میں
آنکھیں ہیں' آئنہ نہیں ہے
اک دل ہے میرے پاس لیجے
ورنہ تو کچھ بچا نہیں ہے
کہتے ہیں بزم سے چلا جا
کہتے ہیں اٹھ' سنا نہیں ہے
خوش تھے پہلے نوید دل پر
اب وہ دل بھی رہا نہیں ہے
اس نے خود چن لی ہے جدائی
لی کی ی کا دبنا مستحسن نہیں ہے۔
مجھ کو بس ہجر کھا رہا ہے
مجھ کو کچھ عاعضہ نہیں ہے
عیبَ تقابلِ ردیفین موجود ہے اس شعر میں۔ دوسرا مصرع شاید یوں بہتر رہے
مجھ کو کوئی عارضہ نہیں ہے
باقی تمام اشعار کے اوزان مجھے درست معلوم ہوئے۔
نوید ناظم — دسمبر 18، 2016 7:36 شام
اصل بحر مفعول مفاعلن فعولن(ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف) ہے۔ تسکینِ اوسط کے ذریعے وزن مفعولن فاعلن فعولن(ہزج مسدس اخرم اشتر محذوف یا پھر ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف مسکن) حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس نے خود چن لی ہے جدائی
لی کی ی کا دبنا مستحسن نہیں ہے۔
مجھ کو بس ہجر کھا رہا ہے
مجھ کو کچھ عاعضہ نہیں ہے
عیبَ تقابلِ ردیفین موجود ہے اس شعر میں۔ دوسرا مصرع شاید یوں بہتر رہے
مجھ کو کوئی عارضہ نہیں ہے
باقی تمام اشعار کے اوزان مجھے درست معلوم ہوئے۔

انتہائی ممنون ہوں کہ آپ نے شفقت فرمائی۔۔ اب ملاحظہ کیجے گا۔۔۔۔
1۔ چن لی ہے خود جدائی اس نے

بس ہجر ہی کھا رہا ہے دل کو
مجھ کو کوئی عارضہ نہیں ہے
الف عین — دسمبر 19، 2016 6:05 صبح
شکریہ ریحان جنہوں نے بسمل کی جگہ بھر دی یہاں۔ مجھے یہی شک تھا کہ یہ اوزان قبول کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ اب تصحیح کے بعد اوزان درست ہو گیے ہیں۔
البتہ یہ شعر
جس کا بھی ہو مری بلا سے
وہ دلبر جو مرا نہیں ہے
یوں تو کوئی غلطی نہیں۔ لیکن مَرا، کو مِرا ، زبر کے ساتھ بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ ’دلبر‘ لفظ کی اشد ضرورت تو نہیں ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے۔
وہ جومیرا ہوا نہیں ہے۔
نوید ناظم — دسمبر 19، 2016 6:51 صبح
شکریہ ریحان جنہوں نے بسمل کی جگہ بھر دی یہاں۔ مجھے یہی شک تھا کہ یہ اوزان قبول کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ اب تصحیح کے بعد اوزان درست ہو گیے ہیں۔
البتہ یہ شعر
جس کا بھی ہو مری بلا سے
وہ دلبر جو مرا نہیں ہے
یوں تو کوئی غلطی نہیں۔ لیکن مَرا، کو مِرا ، زبر کے ساتھ بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ ’دلبر‘ لفظ کی اشد ضرورت تو نہیں ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے۔
وہ جومیرا ہوا نہیں ہے۔
بے حد شکریہ سر۔۔۔
مصرعہ کو آپ کے حکم کے مطابق کر دیا ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%85%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86.93519/