نوید ناظم — فروری 21، 2017 11:24 صبح
زلف اگر شام نہ ہو پھر کہنا
وہ نظر جام نہ ہو پھر کہنا
کیوں نہیں زخم دکھاتا دل کے
اُس کا دل رام نہ ہو پھر کہنا
ہاں! محبت میں زیاں ہوتا ہے
گر تو ناکام نہ ہو پھر کہنا
پوچھ خود سے مِرے دل کی چوری
یہ ِترا کام نہ ہو پھر کہنا
لے چلو اُس کی گلی میں مجھ کو
دل کو آرام نہ ہو پھر کہنا
جھوٹ کے شہر میں سچ بولے گا؟
الٹا بدنام نہ ہو پھر کہنا
ہم بھی صیاد سے کچھ واقف ہیں
دانہ گر دام نہ پو پھر کہنا
نوید ناظم — فروری 21، 2017 11:26 صبح
محترم سر
الف عین
دیگر اساتذہءِ کرام
La Alma — فروری 21، 2017 11:38 صبح
اچھی غزل کہی ہے بس ردیف میں " تو " کی کمی محسوس ہوئی . شاید بحر کی مجبوری آڑے آئی ہو گی .
زلف اگر شام نہ ہو تو پھر کہنا
وہ نظر جام نہ ہو تو پھر کہنا
الف عین — فروری 21، 2017 1:44 شام
درست ہے غزل۔ لا المیٰ کی بات میں بھی وزن تو ہے۔ لیکن پھر بھی قبول کی جا سکتی ہے۔
نوید ناظم — فروری 22، 2017 5:13 صبح
اچھی غزل کہی ہے بس ردیف میں " تو " کی کمی محسوس ہوئی . شاید بحر کی مجبوری آڑے آئی ہو گی .
زلف اگر شام نہ ہو تو پھر کہنا
وہ نظر جام نہ ہو تو پھر کہنا
شکریہ، آپ کی بات درست۔۔۔ یہ کمی تو ہے اس میں!
نوید ناظم — فروری 22، 2017 5:21 صبح
درست ہے غزل۔ لا المیٰ کی بات میں بھی وزن تو ہے۔ لیکن پھر بھی قبول کی جا سکتی ہے۔
بہت شکریہ سر!!
سید لبید غزنوی — فروری 22، 2017 6:39 صبح
اچھی غزل کہی ہے بس ردیف میں " تو " کی کمی محسوس ہوئی . شاید بحر کی مجبوری آڑے آئی ہو گی .
زلف اگر شام نہ ہو تو پھر کہنا
وہ نظر جام نہ ہو تو پھر کہنا
لاجواب ۔۔۔۔بہت اچھی غزل ہے ۔۔۔اور اس بات پے گر عمل ہو تو چاشنی مزید بڑھ جائے گی ۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — فروری 22، 2017 6:59 صبح
پوچھ خود سے مِرے دل کی چوری
یہ ِترا کام نہ ہو پھر کہنا
لے چلو اُس کی گلی میں مجھ کو
دل کو آرام نہ ہو پھر کہنا
بہت ہی اعلیٰ اور خوبصورت غزل ہے ۔ ڈھیروں داد بھیا
نوید ناظم — فروری 22، 2017 7:41 صبح
لاجواب ۔۔۔۔بہت اچھی غزل ہے ۔۔۔اور اس بات پے گر عمل ہو تو چاشنی مزید بڑھ جائے گی ۔
بہت شکریہ

نوید ناظم — فروری 22، 2017 7:42 صبح
بہت ہی اعلیٰ اور خوبصورت غزل ہے ۔ ڈھیروں داد بھیا
ڈاکٹر صاحب، بڑی نوازش!