برائے اصلاح (بحرِخفیف)

نوید ناظم — دسمبر 28، 2016 1:01 شام
درد دل میں کہاں ہے' رہنے دو
دکھ بھری داستاں ہے' رہنے دو
بے وفائی پہ اب دلیلیں کیوں
ہم پہ سب کچھ عیاں ہے' رہنے دو
اس میں کردار تو نہیں شامل
بس بیاں ہی بیاں ہے' رہنے دو
یہ محبت نہ کر سکو گے تم
اس میں بھی تو زیاں ہے' رہنے دو
بیچ کر جو ضمیر ملتی ہے
وہ بھی کوئی اماں ہے' رہنے دو
دشت اس کو بھی راس آیا ہے
یہ نوید اب جہاں ہے' رہنے دو
نوید ناظم — دسمبر 28، 2016 1:51 شام
محترم سر الف عین صاحب
محترم راحیل فاروق صاحب
محترم محمد ریحان قریشی صاحب
الف عین — دسمبر 29، 2016 3:32 صبح
تکنیکی طور پر درست۔
لیکن
یہ محبت نہ کر سکو گے تم
اس میں بھی تو زیاں ہے' رہنے دو
’یہ‘ اور ’تو‘ بھرتی کے لگ رہے ہیں۔ اگر الفاظ بدل دو تو بہتر ہے۔ جیسے
یار تم عشق کر نہ پاؤ گے
یہ تو کارِ زیاں۔۔۔
مقطع میں بھی ’یہ نوید‘ اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ الفاظ بدل کر دیکھیں۔
نوید ناظم — دسمبر 29، 2016 10:02 صبح
تکنیکی طور پر درست۔
لیکن
یہ محبت نہ کر سکو گے تم
اس میں بھی تو زیاں ہے' رہنے دو
’یہ‘ اور ’تو‘ بھرتی کے لگ رہے ہیں۔ اگر الفاظ بدل دو تو بہتر ہے۔ جیسے
یار تم عشق کر نہ پاؤ گے
یہ تو کارِ زیاں۔۔۔
مقطع میں بھی ’یہ نوید‘ اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ الفاظ بدل کر دیکھیں۔

سر بہت شکریہ۔۔۔
ملاحظہ کیجیے۔۔۔
تم محبت بھی کر نہ پاؤ گے
یہ بھی کارِ زیاں ہے' رہنے دو
دشت سے کیوں نوید آئے گا
چھوڑ دو بس' جہاں ہے رہنے دو
سر دو اشعار اور ہوئے ہیں ان پر بھی نظر فرمایئے گا۔۔۔
داغِ الفت ہے اس کو دھونا کیا
یہ جو دل پر نشاں ہے' رہنے دو
اس میں آبا کی خوشبو شامل ہے
یہ جو کچا مکاں ہے' رہنے دو
الف عین — دسمبر 30، 2016 5:45 صبح
درست ہیں سب اشعار

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%A8%D8%AD%D8%B1%D9%90%D8%AE%D9%81%DB%8C%D9%81.93789/