منذر رضا — اکتوبر 12، 2018 4:19 شام
اساتذہ کرام سے اصلاح کی درخواست ہے
محمد وارث
الف عین
محمد تابش صدیقی
یاسر شاہ
سید عاطف علی روٹھ گئے ہیں وہ ہم سے
زندگی تھی جن کے دم سے
اس لہو سے خط لکھیں گے
ٹپکے گا جو چشم نم سے (م پہ زیر)
موت مری ہو گئی ہے صرف
تیری ابرو کے خم سے
گھبرا گئے ہیں ہم اے چرخ
اس تری گردش پیہم سے
ہائے نجات نہیں ملتی
اب اس مہرو کے غم سے
سید عاطف علی — اکتوبر 12، 2018 4:44 شام
مصرعوں میں کھینچ تان کرنی پڑ رہی ہے بحر سے مطابقت رکھنے میں ۔ زندگی۔لہو ۔گھبرا ۔
ان الفاظ کی بندش ضعیف ہے۔
خود غور کریں بہتر ہو جائے گی ۔
منذر رضا — اکتوبر 12، 2018 4:56 شام
سید عاطف علی آپ کوئی الفاظ بتلا سکتے ہیں؟؟؟
بندہ شکر گزار ہو گا؟؟؟
منذر رضا — اکتوبر 12، 2018 5:15 شام
انیس جان — اکتوبر 12، 2018 6:12 شام
میاں اس کو اضافت کہتے ہیں دو میم ہے کون سے میم پر زیر ہے خود ہی لگا دیا کرو کہنے کی ضرورت نہیں ہے جیسے
ٹپکے گا جو چشمِ نم سے
منذر رضا — اکتوبر 13، 2018 4:56 صبح
انیس جان
میرے پاس یہ ہے نہیں موبایل پر
انیس جان صاحب
الف عین — اکتوبر 13، 2018 7:28 صبح
میں اس کے افاعیل نہیں سمجھ سکا
اگر فعلن فعلن فعلن فع/فعل ہے تو کئی حروف کا اسقاط کرنا پڑ رہا ہے جو اچھا نہیں
کچھ مصرع فاعلاتن فاعلاتن کی بحر میں ہیں
منذر رضا — اکتوبر 13، 2018 8:16 صبح
جی
الف عین صاحب اول الذکر بحر ہے۔۔۔۔۔
حروف کا اسقاط تو کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 13، 2018 12:39 شام
حروف کا اسقاط تو کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔۔
بہت ہلکا لے رہے ہیں اردو کو آپ! جب حروف کا اسقاط کرنا پڑرہا ہے تو الفاظ کی ترتیب بدل کر کوشش کیجیے۔
مثال کے طور پر
اس تری گردشِ پیہم سے
کو
تیری گردشِ پیہم سے
کر دیکھیے۔
علی ھٰذا القیاس؟
منذر رضا — اکتوبر 13، 2018 3:47 شام
جی
محمد خلیل الرحمٰن صاحب۔۔۔۔
ایسے کوشش کرتا ہوں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
رہنمائی کا شکریہ۔۔۔۔
راؤ ساجد مصطفائی — اکتوبر 13، 2018 3:50 شام
اساتذہ کرام سے اصلاح کی درخواست ہے
محمد وارث
الف عین
محمد تابش صدیقی
یاسر شاہ
سید عاطف علیروٹھ گئے ہیں وہ ہم سے
زندگی تھی جن کے دم سے
اس لہو سے خط لکھیں گے
ٹپکے گا جو چشم نم سے (م پہ زیر)
موت مری ہو گئی ہے صرف
تیری ابرو کے خم سے
گھبرا گئے ہیں ہم اے چرخ
اس تری گردش پیہم سے
ہائے نجات نہیں ملتی
اب اس مہرو کے غم سے
تیری آبرو کے خم سے
راؤ ساجد مصطفائی — اکتوبر 13، 2018 3:53 شام
اساتذہ کرام سے اصلاح کی درخواست ہے
محمد وارث
الف عین
محمد تابش صدیقی
یاسر شاہ
سید عاطف علیروٹھ گئے ہیں وہ ہم سے
زندگی تھی جن کے دم سے
اس لہو سے خط لکھیں گے
ٹپکے گا جو چشم نم سے (م پہ زیر)
موت مری ہو گئی ہے صرف
تیری ابرو کے خم سے
گھبرا گئے ہیں ہم اے چرخ
اس تری گردش پیہم سے
ہائے نجات نہیں ملتی
اب اس مہرو کے غم سے
تھی زندگی جن کے دم سے ۔
اگر ایسا ہو جائے تو کیا خیال ہے
منذر رضا — اکتوبر 13، 2018 5:00 شام
راؤ ساجد مصطفائیجی بہت بہتر۔۔۔۔
ایسے زیادہ رواں ہے۔۔۔۔
شکریہ
منذر رضا — اکتوبر 13، 2018 5:01 شام
معذرت کے ساتھ۔۔۔۔۔
حضور یہاں ابرو کا ذکر ہے۔۔۔۔
آبرو کا نہیں۔۔۔۔
الف عین — اکتوبر 14، 2018 7:10 صبح
معذرت کے ساتھ۔۔۔۔۔
حضور یہاں ابرو کا ذکر ہے۔۔۔۔
آبرو کا نہیں۔۔۔۔
ممکن ہے ابرو ہی لکھنا چاہا ہو لیکن موبائل کی بورڈ نے آٹو کریکٹ کر دیا ہو
الفاظ بدل کر غزل خود ہی دوبارہ پیش کریں
منذر رضا — اکتوبر 14، 2018 10:55 صبح
روٹھ گئے ہیں وہ ہم سے
زیست تھی جن کے دم سے
اس لہو سے خط لکھیں گے
ٹپکے گا جو چشمِ نم سے
موت مری ہو گئی ہے صرف
تیری ابرو کے خم سے
گھبرا گئے ہیں ہم اے چرخ
اب تری گردش پیہم سے
ہائے نجات نہیں ملتی
اب اس مہرو کے غم سے
یاسر شاہ — اکتوبر 14، 2018 11:17 صبح
علاج سے پہلے :
روٹھ گئے ہیں وہ ہم سے
زندگی تھی جن کے دم سے
اس لہو سے خط لکھیں گے
ٹپکے گا جو چشم نم سے (م پہ زیر)
موت مری ہو گئی ہے صرف
تیری ابرو کے خم سے
گھبرا گئے ہیں ہم اے چرخ
اس تری گردش پیہم سے
ہائے نجات نہیں ملتی
اب اس مہرو کے غم سے
علاج کے بعد :
آج وہ روٹھ گئےہم سے
زیست تھی کل جن کے دم سے
ہم اسی خون سے لکھیں گےخط
ٹپکے گا جو چشم نم سے
مارے گئے ہم تو صاحب
آپ کی ابرو کے خم سے
ہم گھبرا گئے ہیں اے چرخ
اس تری گردش پیہم سے
ہائے خلاصی نہیں ممکن (آپ کا مصرعہ بھی موزوں ہے )
اب اس مہرو کے غم سےلیجئے ایک اور اولاد معنوی یعنی غزل -

منذر رضا — اکتوبر 14، 2018 11:39 صبح
یاسر شاہ
حضور شکریے کہ الفاظ نہیں میرے پاس۔۔۔۔
بےحد شکریہ۔۔۔۔