برائے اصلاح (فاعلاتن فاعلاتن)

نوید ناظم — فروری 26، 2017 10:30 صبح
آپ تو نازک بدن ہیں
مان لیں، ایسا نہ کیجے
لوگ پتھر بن چکے ہیں
خود کو آئینہ نہ کیجے
کون کہتا ہے وفا کا
ٹھیک ہے' اچھا! نہ کیجے
زلف کو لہرا رہے ہیں ؟
شب کو شرمندہ نہ کیجے
مت نکالیں خود کو مجھ سے
مجھ کو یوں آدھا نہ کیجے
میرے دل سے کھیلئے آپ
بس اسے پھینکا نہ کیجے
جا رہا ہوں بزم سے میں
ٹھہریں جی! غصہ نہ کیجے
نوید ناظم — فروری 26، 2017 10:32 صبح
محترم سر الف عین
دیگر اساتذہء کرام
الف عین — فروری 27، 2017 7:34 صبح
اچھی غزل ہے، درست۔
لیکن
میرے دل سے کھیلئے آپ
بس اسے پھینکا نہ کیجے
پہلا مصرع رواں نہیں ہے۔
چاہے میرے دل سے کھیلیں
کہنے میں ہی کیا حرج ہے۔ ’آپ‘ تو understood ہے
نوید ناظم — فروری 27، 2017 8:29 صبح
اچھی غزل ہے، درست۔
لیکن
میرے دل سے کھیلئے آپ
بس اسے پھینکا نہ کیجے
پہلا مصرع رواں نہیں ہے۔
چاہے میرے دل سے کھیلیں
کہنے میں ہی کیا حرج ہے۔ ’آپ‘ تو understood ہے
بہت شکریہ سر۔۔۔۔
اگر اس مصرعے کو یوں کر دیا جائے تو ؟
دل سے جتنا چاہیں کھیلیں
بس اسے پھینکا نہ کیجے
الف عین — فروری 28، 2017 6:40 صبح
خوب ہے متبادل مصرع

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86.95048/