برائے اصلاح (فاعلاتن مفاعلن فعلن)

نوید ناظم — جنوری 12، 2017 11:37 صبح
بعد میں قیس بھی چلا آیا
دشت میں رہنے کا مزہ آیا
لوگ پھر لے کے آ گئے پتھر
ہاتھ میں جب بھی آئنہ آیا
خاک منزل پہ پھر پہنچنا تھا
جب مقابل ہی راستہ آیا
یہ تغافل ہے تو مرا دل دو
اب کے میں بھی اُسے سنا آیا
جب بھی آواز دی اداسی نے
میں نے اس کو یہی کہا' آیا
اٹھ تِری پیاس رنگ لے آئی
سامنے دیکھ مے کدہ آیا
آنکھ سے کل جو اشک ٹپکا تھا
وہ تِری یاد تھی' بہا آیا
نوید ناظم — جنوری 12، 2017 11:38 صبح
محترم سر الف عین
دیگر اساتذہء کرام۔
الف عین — جنوری 13، 2017 6:36 صبح
درست ہے غزل بس یہ شعر
یہ تغافل ہے تو مرا دل دو
اب کے میں بھی اُسے سنا آیا
سمجھ میں نہیں آیا۔ واضح نہیں۔
نوید ناظم — جنوری 13، 2017 10:23 صبح
درست ہے غزل بس یہ شعر
یہ تغافل ہے تو مرا دل دو
اب کے میں بھی اُسے سنا آیا
سمجھ میں نہیں آیا۔ واضح نہیں۔
شکریہ سر۔۔۔ شعر کا ابلاغ نہ ہو سکا۔۔۔ یوں دیکھیے گا
عشق میں ہجر اب نہیں چلنا
اب کے میں بھی اُسے سنا آیا
الف عین — جنوری 14، 2017 4:31 صبح
یہ بھی واضح نہیں۔ کیا مراد یہ ہے کہ
؎عشق میں ہجر اب قبول نہیں
نوید ناظم — جنوری 14، 2017 8:10 صبح
یہ بھی واضح نہیں۔ کیا مراد یہ ہے کہ
؎عشق میں ہجر اب قبول نہیں
جی سر یہی مراد ہے۔۔ " عشق میں ہجر اب قبول نہیں"۔۔۔ اب ملا واضح مصرعہ:)
الف عین — جنوری 15، 2017 5:29 صبح
جی سر یہی مراد ہے۔۔ " عشق میں ہجر اب قبول نہیں"۔۔۔ اب ملا واضح مصرعہ:)
اسی لیے میں بھی آسی بھائی کی طرح یہی کہتا ہوں کہ خود ہی غور کریں ایک بار۔ پہلے اپنی اصلاح خود کرنے کی کوشش کریں غزل کے ساتھ کچھ وقت گزار کر۔ اور اس کے بعد دوسروں کے مشورے کے لیے پیش کریں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%84%D9%86.94119/