برائے اصلاح (فاعلن مفاعیلن۔۔۔۔ ہزج مربع اشتر)

نوید ناظم — دسمبر 25، 2016 6:45 شام
تجھ سے جو محبت ہے
وہ کھُلی حقیقت ہے
اب تو قدر کا معیار
صرف یہ کہ دولت ہے
درد ہی چلو دے دو
درد میں بھی لذت ہے
دشت زاد جو ٹھہرے
گھر سے ہم کو وحشت ہے
جھانکتے ہو کیا دل میں
اس میں صرف حسرت ہے
تجھ کو بھول جاوں گا
مجھ کو خود پہ حیرت ہے
سچ خطیب بولے گا!
اس میں اتنی جرات ہے
میں وفا ہی کرتا ہوں
یہ تو میری عادت ہے
اب تو بھول جا اُس کو
دیکھ یہ جو حالت ہے
سمجھو آگ ٹھنڈی ہے
عشق میں جو حدت ہے
اُس گلی میں جاتا ہوں
آگے میری قسمت ہے
نوید ناظم — دسمبر 25، 2016 6:47 شام
محترم الف عین صاحب
محترم راحیل فاروق صاحب
محترم محمد ریحان قریشی صاحب
فاخر رضا — دسمبر 25، 2016 7:15 شام
بہت خوبصورت. ماشاءاللہ
الف عین — دسمبر 26، 2016 5:35 صبح
درست ہے۔ اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
فیضان قیصر — دسمبر 26، 2016 11:07 صبح
واہ نوید بھائی کیا اچھی غزل ہے۔
نوید ناظم — دسمبر 27، 2016 4:54 صبح
درست ہے۔ اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
بہت شکریہ سر۔
نوید ناظم — دسمبر 27، 2016 4:54 صبح
بہت خوبصورت. ماشاءاللہ
جی نوازش۔
نوید ناظم — دسمبر 27، 2016 4:57 صبح
واہ نوید بھائی کیا اچھی غزل ہے۔
یہ آپ کی محبت :)
عاطف ملک — دسمبر 27، 2016 5:55 شام
بہت ہی خوبصورت غزل ہے!
ماشااللہ!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D9%86-%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B9%DB%8C%D9%84%D9%86%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%DB%81%D8%B2%D8%AC-%D9%85%D8%B1%D8%A8%D8%B9-%D8%A7%D8%B4%D8%AA%D8%B1.93732/