برائے اصلاح (فعولن فعولن فعولن فعولن)

نوید ناظم — جنوری 14، 2017 4:29 شام
مرے حال سے بے خبر' توبہ توبہ
"اور اس پر تمہاری نظر' توبہ توبہ"
میں نے جس شجر کو دیا خون اپنا
اب اُس سے ہی مانگوں ثمر' توبہ توبہ
بلایا ہے ہم دشت زادوں کو اس نے
بلایا بھی اوپر سے گھر' توبہ توبہ
وہ سینے کے اندر سے دل کھینچتا ہے؟
اُسے یہ بھی آئے ہنر ' توبہ توبہ
جی ہاں پُر خطر ہے محبت کا رستہ
جی بالکل ' بہت پُر خطر توبہ توبہ
سنا تھا ہوا راس آئی ہے اُس کو
وہ بھی اب نکالے گا پر؟ توبہ توبہ
کوئی راہ زن ان کے اندر چُھپا تھا
ملے مجھ کو جو ہم سفر' توبہ توبہ
نوید ناظم — جنوری 14، 2017 4:34 شام
محترم سر الف عین
دیگر اساتذہء کرام۔
الف عین — جنوری 15، 2017 5:38 صبح
میں نے جس شجر کو دیا خون اپنا
’منے‘ تقطیع ہوتا ہے۔ یہ اچھا نہیں لگتا۔ الفاظ بدلیں
لہو جس شجر کو دیا میں نے اپنا
یا اس قسم کا کچھ واضح مصرع کہو۔
بلایا ہے ہم دشت زادوں کو اس نے
بلایا بھی اوپر سے گھر' توبہ توبہ
۔۔واضح نہیں۔ سمجھ میں نہیں آیا۔
جی ہاں پُر خطر ہے محبت کا رستہ
جی بالکل ' بہت پُر خطر توبہ توبہ
۔۔‘جِہا‘ بجائے مکمل جی ہاں اچھا نہیں لگتا۔ الفاظ بدلو۔ میں خود مزورہ نہیں دے رہا۔
وہ بھی اب نکالے گا پر؟ توبہ توبہ
۔۔’وُبی‘ اچھا نہیں لگ رہا۔ دوسرا مصرع کہو
نوید ناظم — جنوری 16، 2017 4:25 شام
میں نے جس شجر کو دیا خون اپنا
’منے‘ تقطیع ہوتا ہے۔ یہ اچھا نہیں لگتا۔ الفاظ بدلیں
لہو جس شجر کو دیا میں نے اپنا
یا اس قسم کا کچھ واضح مصرع کہو۔
بلایا ہے ہم دشت زادوں کو اس نے
بلایا بھی اوپر سے گھر' توبہ توبہ
۔۔واضح نہیں۔ سمجھ میں نہیں آیا۔
جی ہاں پُر خطر ہے محبت کا رستہ
جی بالکل ' بہت پُر خطر توبہ توبہ
۔۔‘جِہا‘ بجائے مکمل جی ہاں اچھا نہیں لگتا۔ الفاظ بدلو۔ میں خود مزورہ نہیں دے رہا۔
وہ بھی اب نکالے گا پر؟ توبہ توبہ
۔۔’وُبی‘ اچھا نہیں لگ رہا۔ دوسرا مصرع کہو
بہت شکریہ سر۔۔۔
بلایا ہے ہم دشت زادوں کو اس نے
بلایا بھی اوپر سے گھر' توبہ توبہ
۔۔واضح نہیں۔ سمجھ میں نہیں آیا۔
سر اس میں بلانا' مدعو کرنے کےمعنیٰ میں ہے۔۔۔ دشت زادوں کو مدعو کیا' وہ بھی گھر میں۔۔۔توبہ توبہ۔ تاہم ابلاغ نہیں تو شعر حذف کرنا پڑے گا۔
۔۔‘جِہا‘ بجائے مکمل جی ہاں اچھا نہیں لگتا۔ الفاظ بدلو۔ میں خود مزورہ نہیں دے رہا۔
اس کو یوں کیا' دیکھیے گا۔۔۔
اجی پُر خطر ہے محبت کا رستہ
جی بالکل ' بہت پُر خطر توبہ توبہ
وہ بھی اب نکالے گا پر؟ توبہ توبہ
۔۔’وُبی‘ اچھا نہیں لگ رہا۔ دوسرا مصرع کہو
سر ایسے کیا ہے۔۔۔
سنا تھا ہوا راس آئی ہے اُس کو
لو اب وہ نکالے گا پر' توبہ توبہ
الف عین — جنوری 17، 2017 6:10 صبح
اب اشعار درست ہیں۔ دشت زادوں کو نکال ہی دو، خواہ مخواہ گھر اور غزل میں مدعو مت کرو
عاطف ملک — جنوری 20، 2017 8:25 شام
سنا تھا ہوا راس آئی ہے اُس کو
لو اب وہ نکالے گا پر' توبہ توبہ
بہت خوب جناب!
نوید ناظم — جنوری 21، 2017 11:36 صبح
بہت شکریہ!
امان زرگر — جنوری 21، 2017 12:06 شام
واہ جی واہ.
ساگرحیدرعباسی — جنوری 25، 2017 8:14 صبح
علاجِ دل کے لیے اب پھرتے ہو دربدر
بارہا تجھ سے کہا تھا محبت نہ کر
عشق بہاروں کو بھی اجاڑ دیتا ہے
عشق کی خاطر زمانے سے بغاوت نہ کر
وقت بھر دیتا ہے سبھی زخم زمانے کہ
اب جو ہو چکا اس کی شکایت نہ کر
اب جس حال میں بھی ہوں رہنے دے مجھے
مجھے میرے حال پہ چھوڑ کوئی عنایت نہ کر
یہاں کو ن تیرے درد کو بانٹے کا ساگر
نہ چھیڑ قصہِ دل غموں کی وضاحت نہ کر
poet sagar haider abbasi​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86.94172/