نوید ناظم — مارچ 5، 2017 9:26 صبح
دلیل لائیں، جذبات رہنے دیں کچھ دیر
نہیں تو منطق کی بات رہنے دیں کچھ دیر
ہٹا رہے ہیں رخ سے نقاب کیوں؟ ٹھہریں!
ابھی زمانے میں رات رہنے دیں کچھ دیر
یہ دھوپ ہے اس میں سایہ دیجئے واعظ
جو وعظ میں ہیں باغات، رہنے دیں کچھ دیر
عجیب سے ہیں اب کیا بتا سکوں گا میں
حضور میرے حالات رہنے دیں کچھ دیر
اگر نہیں دل میں کچھ تو غم سہی یارو
ہے یہ بھی ان کی سوغات، رہنے دیں کچھ دیر
ہمیں نہیں ہوتا کچھ بھی عشق میں ناصح
بس آپ اپنے خدشات رہنے دیں کچھ دیر
نوید ناظم — مارچ 5، 2017 9:27 صبح
محترم سر
الف عین
دیگر اساتذہء کرام
محمد ریحان قریشی — مارچ 5، 2017 9:42 صبح
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن(مجتث مثمن مخبون محذوف) اورمفاعلن مفعولن مفاعلن فعلن(مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن) کا خلط جائز ہے(تسکینِ اوسط کا استعمال ہر بحر میں درست ہے )۔
لیکن مفاعلن مفعولن مفاعلن فعلن بذاتِ خود کوئی بحر نہیں ہے اور یہ وزن بحورِ نوزدگانہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
اس لیے پوری غزل اس بحر میں نہیں کہنا جائز نہیں ہے۔
نوید ناظم — مارچ 5، 2017 10:39 صبح
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن(مجتث مثمن مخبون محذوف) اورمفاعلن مفعولن مفاعلن فعلن(مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن) کا خلط جائز ہے(تسکینِ اوسط کا استعمال ہر بحر میں درست ہے )۔
لیکن مفاعلن مفعولن مفاعلن فعلن بذاتِ خود کوئی بحر نہیں ہے اور یہ وزن بحورِ نوزدگانہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
اس لیے پوری غزل اس بحر میں نہیں کہنا جائز نہیں ہے۔
بہت شکریہ ریحان بھائی اس چارہ سازی کے لیے۔۔۔
خلط سے مراد ہم کیا لیں گے' مطلب اشعار کی تعداد کے لحاظ سے۔۔ ۔کیا ایک مصرعہ اس وزن پر کہا جا سکتا ہے شعر میں۔۔۔۔ کیا غزل میں چند اشعار اس وزن میں کہے جا سکتے ہیں؟ اس خلط کا پیمانہ کیا ہو گیا؟
محمد ریحان قریشی — مارچ 5، 2017 11:04 صبح
بہت شکریہ ریحان بھائی اس چارہ سازی کے لیے۔۔۔
خلط سے مراد ہم کیا لیں گے' مطلب اشعار کی تعداد کے لحاظ سے۔۔ ۔کیا ایک مصرعہ اس وزن پر کہا جا سکتا ہے شعر میں۔۔۔۔ کیا غزل میں چند اشعار اس وزن میں کہے جا سکتے ہیں؟ اس خلط کا پیمانہ کیا ہو گیا؟
غزل کے چند اشعار مسکن بحر میں کہے جا سکتے ہیں۔ پہلے مصرعے کو چھوڑ کر تمام مصرعے بھی کہے جا سکتے ہیں۔
سید عاطف علی — مارچ 5، 2017 11:24 صبح
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن(مجتث مثمن مخبون محذوف) اورمفاعلن مفعولن مفاعلن فعلن(مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن) کا خلط جائز ہے
دلچسپ بات ہے ۔ @محمدریحان قریشی ۔بھائی ۔ اس کی کوئی مثال ہو تو عنایت فرمائیےگا۔
راحیل فاروق — مارچ 5، 2017 11:31 صبح
محمد ریحان قریشی — مارچ 5، 2017 11:38 صبح
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن(مجتث مثمن مخبون محذوف) اورمفاعلن مفعولن مفاعلن فعلن(مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن) کا خلط جائز ہے(تسکینِ اوسط کا استعمال ہر بحر میں درست ہے )۔
لیکن مفاعلن مفعولن مفاعلن فعلن بذاتِ خود کوئی بحر نہیں ہے اور یہ وزن بحورِ نوزدگانہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
اس لیے پوری غزل اس بحر میں نہیں کہنا جائز نہیں ہے۔
ابھی معلوم ہوا ہے کہ فاعلاتن سے مفعولن تشغیث نامی زحاف سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اور اس بحر(مفاعلن مفعولن مفاعلن فعلن) کو مجتث مثمن مشغث مخبون محذوف کہتے ہیں۔
عروضیوں نے جائز قرار دے دیا ہے(مجھے ابھی بھی سلیکٹو خبن کے استعمال پر اعتراض ہے) تو میرا اسے غلط کہنا درست نہیں ہوگا۔
محمد ریحان قریشی — مارچ 5، 2017 11:46 صبح
دلچسپ بات ہے ۔ @محمدریحان قریشی ۔بھائی ۔ اس کی کوئی مثال ہو تو عنایت فرمائیےگا۔
خدائے من چہ درد آورست قصۂ کوچ
پرندہ می رود و آشیانہ می ماند
ناظم ہروی
ارتضی عافی — مارچ 5، 2017 1:08 شام
خدائے من چہ درد آورست قصۂ کوچ
پرندہ می رود و آشیانہ می ماند
ناظم ہروی
زبدعست
نوید ناظم — مارچ 5، 2017 3:14 شام
اللہ آپ کو سلامت رکھے' آپ کی غزلوں کو دیکھ دیکھ کر تو ہم شعر کہنا سیکھ رہے ہیں۔۔۔!!
نوید ناظم — مارچ 5، 2017 3:17 شام
ابھی معلوم ہوا ہے کہ فاعلاتن سے مفعولن تشغیث نامی زحاف سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اور اس بحر(مفاعلن مفعولن مفاعلن فعلن) کو مجتث مثمن مشغث مخبون محذوف کہتے ہیں۔
عروضیوں نے جائز قرار دے دیا ہے(مجھے ابھی بھی سلیکٹو خبن کے استعمال پر اعتراض ہے) تو میرا اسے غلط کہنا درست نہیں ہوگا۔
ریحان بھائی کیا اب یہ غزل قبول ہو جائے گی؟
محمد ریحان قریشی — مارچ 5، 2017 3:31 شام
ریحان بھائی کیا اب یہ غزل قبول ہو جائے گی؟
عروضیان کے لیے تو اوزان قابلِ قبول ہیں۔
الف عین — مارچ 5، 2017 4:32 شام
عروضیان کے لیے تو اوزان قابلِ قبول ہیں۔
لیکن میں عروضی نہیں، میں تو صرف مستعمل اور رواں بحریں پسند کرتا ہوں۔ اس قسم کے تجربے صرف انہیں لوگوں کو کرنا چاہیے جن اپنی عروض دانی کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں۔ مشہور شعراء میں شاید غالب کے علاوہ، وہ بھی ابتدائی زمانے میں، شاید ہی کسی کم مستعمل بحر کا استعمال کیا ہو۔ یہ پہلوانی پہلوانانِ عروض کو ہی مبارک ہو۔
محمد ریحان قریشی — مارچ 5، 2017 4:44 شام
لیکن میں عروضی نہیں، میں تو صرف مستعمل اور رواں بحریں پسند کرتا ہوں۔ اس قسم کے تجربے صرف انہیں لوگوں کو کرنا چاہیے جن اپنی عروض دانی کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں۔ مشہور شعراء میں شاید غالب کے علاوہ، وہ بھی ابتدائی زمانے میں، شاید ہی کسی کم مستعمل بحر کا استعمال کیا ہو۔ یہ پہلوانی پہلوانانِ عروض کو ہی مبارک ہو۔
سر غالب نے بھی صرف موجودہ دور کی ایک کم مستعمل بحر(مفتعلن فاعلات مفتعلن فع) کا استعمال کیا ہے لیکن وہ بھی قدما کے ہاں کافی مستعمل رہی ہے۔
سعدی کے دیوان کی پہلی غزل اسی بحر میں ہے۔