برائے اصلاح (مفاعیلن مفاعیلن فعولن)

نوید ناظم — جنوری 4، 2017 7:21 صبح
ترے آنے سے ایسا کیوں نہ ہوتا
دلِ بیمار اچھا کیوں نہ ہوتا
مجھے ہونا ہی تھا اس کا کسی دن
تجھے کیا اس سے' جا جا کیوں نہ ہوتا
ترے کندھوں پہ جو سر رکھ کے روتے
تو دل کا بوجھ ہلکا کیوں نہ ہوتا
دھکیلا ہے مجھے اُس نے یہاں تک
بھلا در' درد کا وا کیوں نہ ہوتا
ارے ہم سے نہ ہوتی بے وفائی
یہ فن بھی گرچہ سیکھا کیوں نہ ہوتا
دلِ کم بخت وہ صحرا ہے یارو
کہ پی جاتا یہ' دریا کیوں نہ ہوتا
الف عین — جنوری 5، 2017 5:24 صبح
غزل جب یہ ہے اک ناظم نویدی
تو ہر اک شعر اچھا کیوں نہ ہوتا!!!!
اچھی زمین نکالی ہے۔
بس یہ شعر پسند نہیں آیا۔
مجھے ہونا ہی تھا اس کا کسی دن
تجھے کیا اس سے' جا جا کیوں نہ ہوتا
یہاں قافیہ ناگوار لگتا ہے۔
اور یہ؎ بھی بہتر ہو سکتا ہے
ترے کندھوں پہ جو سر رکھ کے روتے
اگر یوں کہیں
ترے کاندھوں پہ سر رکھ کر جو روتے
تو کیا روانی میں اضافہ محسوس ہوتا ہے؟
نوید ناظم — جنوری 5، 2017 12:32 شام
غزل جب یہ ہے اک ناظم نویدی
تو ہر اک شعر اچھا کیوں نہ ہوتا!!!!
اچھی زمین نکالی ہے۔
بس یہ شعر پسند نہیں آیا۔
مجھے ہونا ہی تھا اس کا کسی دن
تجھے کیا اس سے' جا جا کیوں نہ ہوتا
یہاں قافیہ ناگوار لگتا ہے۔
اور یہ؎ بھی بہتر ہو سکتا ہے
ترے کندھوں پہ جو سر رکھ کے روتے
اگر یوں کہیں
ترے کاندھوں پہ سر رکھ کر جو روتے
تو کیا روانی میں اضافہ محسوس ہوتا ہے؟
سر بہت شکریہ۔۔۔۔!!!:)
اگر اس شعر کو یوں کر دوں تو کیا گرانی میں کچھ کمی واقع ہو سکتی ہے ؟
مجھے ہونا ہی تھا اس کا کسی دن
تجھے کیا اس سے' چل جا کیوں نہ ہوتا
ترے کاندھوں پہ سر رکھ کر جو روتے
سر بالکل اضافہ ہے۔۔۔ اور اب یہی مصرعہ غزل کا حصہ ہے!!!
الف عین — جنوری 7، 2017 10:10 صبح
جا جا یا چل جا ابے تبے والی زبان لگتی ہے۔اس لیے ناگوار لگتی ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B9%DB%8C%D9%84%D9%86-%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B9%DB%8C%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86.93959/