برائے اصلاح (مفعول مفاعلن فعولن)

نوید ناظم — دسمبر 27، 2016 6:14 صبح
اس دل میں مکیں کوئی نہیں ہے
سچ کہہ دوں' نہیں کوئی نہیں ہے
تُو بھی تو ہے باسی اِس جہاں کا
تجھ پر بھی یقیں کوئی نہیں ہے
دیکھے ہے کیا کہ دور تک بھی
اے جانِ حزیں کوئی نہیں ہے
وہ چھوڑ گیا محل یہ دل کا
اب تخت نشیں کوئی نہیں ہے
یہ ٹھیک ہے' ہوں گے حُسن والے
تجھ سا تو حسیں کوئی نہیں ہے
کرتا ہے تُو بات آسماں کی
اپنی تو زمیں کوئی نہیں ہے
سجدے ہیں نوید نام کے اب
بے تاب جبیں کوئی نہیں ہے
نوید ناظم — دسمبر 27، 2016 6:19 صبح
محترم سر الف عین صاحب
محترم راحیل فاروق صاحب
محترم محمد ریحان قریشی صاحب
الف عین — دسمبر 27، 2016 7:49 صبح
درست ہے غزل۔
اس شعر میں
تُو بھی تو ہے باسی اِس جہاں کا
باسی کا ’ی‘ کا اسقاط خوشگوار تاثتر نہیں دے رہا۔ الفاظ کی نشست بدل دو۔ مثلاً
تو بھی ہے اسی جہاں کا باسی
نوید ناظم — دسمبر 27، 2016 8:57 صبح
درست ہے غزل۔
اس شعر میں
تُو بھی تو ہے باسی اِس جہاں کا
باسی کا ’ی‘ کا اسقاط خوشگوار تاثتر نہیں دے رہا۔ الفاظ کی نشست بدل دو۔ مثلاً
تو بھی ہے اسی جہاں کا باسی
جی سر بہتر، کر دیا !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%85%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84-%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86.93753/