برائے اصلاح (مفعول مفاعلن فعولن)

نوید ناظم — فروری 28، 2017 7:53 شام
اک عرض گزارنی تھی ہم نے
جان آپ پہ وارنی تھی ہم نے
اُس زلف کی طرح خم ہیں اِس میں
تقدیر سنوارنی تھی ہم نے
فرہاد بھی ہم کو یاد رکھتا
وہ نہر نکالنی تھی ہم نے
اُس وقت وجود کھا گیا تھا
جب سوچ اُجالنی تھی ہم نے
ناراض اگر نہ ہوں تو اِس بار
اک بات اچھالنی تھی ہم نے
پھر ڈال دی آنسوؤں میں آخر
یہ عمر تو ڈھالنی تھی ہم نے
اِس دل کی خلش غزل کی صورت
اک دن تو نکالنی تھی ہم نے
نوید ناظم — فروری 28، 2017 7:55 شام
محترم سر الف عین
دیگر اساتذہء کرام
الف عین — مارچ 1، 2017 5:33 صبح
یہ پنجابی غزل کہہ رہے ہو تو درست ہے، ورنہ اردو میں ردیف ’ہم کو‘ ہونی چاہئے ’ہم نے‘ نہیں۔
یہ دو اشعار سمجھ میں نہیں آئے
اُس وقت وجود کھا گیا تھا
جب سوچ اُجالنی تھی ہم نے
پھر ڈال دی آنسوؤں میں آخر
یہ عمر تو ڈھالنی تھی ہم نے
محمد ریحان قریشی — مارچ 1، 2017 5:37 صبح
مطلع میں گزارنی اور وارنی قوافی ہیں اس لیے آگے جا کر اجالنی، نکالنی وغیرہ استعمال نہیں کیے جا سکتے۔
یہ ایطائے جلی ہے۔
الف عین — مارچ 1، 2017 5:45 صبح
مطلع میں گزارنی اور وارنی قوافی ہیں اس لیے آگے جا کر اجالنی، نکالنی وغیرہ استعمال نہیں کیے جا سکتے۔
یہ ایطائے جلی ہے۔
اوہو اس پر میں نے غور ہی نہیں کیا۔
نوید ناظم — مارچ 1، 2017 7:30 صبح
سر الف عین
محمد ریحان قریشی بھائی
بہت شکریہ۔۔۔ فی الحال اس غزل کو رد کر دیا ہے ۔۔۔۔ اس پر محنت کرنے کو جی بھی نہیں چاہا رہا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%85%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84-%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86.95090/