برائے اصلاح (مفعولن فاعلن فعولن)

نوید ناظم — فروری 17، 2017 12:54 شام
دردِ دل کی دعا نہ دینا
چنگاری کو ہوا نہ دینا
میری شب کو سحر نہ کرنا
رخ سے زلفیں ہٹا نہ دینا
بچوں کو پیسہ دے کے جانا
ورثے میں بھی وفا نہ دینا
مجھ کو اُس کے ستم نے مارا
اُس کو جا کر بتا نہ دینا
پیوند کاری نہ غم کی کرنا
اب یہ گل بھی کھلا نہ دینا
جو زاہد کو ِملا ہوا ہے
مجھ کو ایسا خدا نہ دینا
تجھ کو شب زاد مار دیں گے
اِن کو سورج دکھا نہ دینا
کوڑھی کو آئنہ دکھایا!
اب کہتے ہو سزا نہ دینا
ہجرت کر کے تھکا ہوا ہے
اس پنچھی کو اڑا نہ دینا
نوید ناظم — فروری 17، 2017 12:57 شام
اساتذہءِ کرام سے رہنمائی کی درخواست ہے!!
الف عین — فروری 19، 2017 5:28 صبح
باقی تو درست ہے بس یہ مصرع
بچوں کو پیسہ دے کے جانا
کئی حروف کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا۔ الفاظ بدلو
نوید ناظم — فروری 19، 2017 6:43 صبح
باقی تو درست ہے بس یہ مصرع
بچوں کو پیسہ دے کے جانا
کئی حروف کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا۔ الفاظ بدلو
بہت شکریہ سر' شکر ہے آپ آ گئے۔۔۔
حکم کے مطابق الفاظ بدل دیے۔۔۔۔
بچوں کو پیسہ دے رہے ہو
ورثے میں بھی وفا نہ دینا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%85%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86.94925/