برائے اصلاح ---------- اِس مطلبی جہاں کے سب یار ہیں عبث ---- از : manjoo

manjoo — مارچ 24، 2010 10:39 صبح

اِس مطلبی جہاں کے سب یار ہیں عبث
ایسی محبتوں کے یہ اقرار ہیں عبث
٭٭٭٭٭٭
ہے علم گر لحد میں اکیلے ہی جائیں گے
وقتی رفاقتوں کے یہ مینار ہیں عبث
٭٭٭٭٭٭
اب دوستی ہے نام مطالب کا دوستو
یہ زہر بانٹتے ہوئے اشجار ہیں عبث
٭٭٭٭٭٭
اندر کدورتیں ہیں تو باہر بشارتیں
چہروں پہ کھلتے ہوئے یہ انوار ہیں عبث
٭٭٭٭٭٭
اس بے سکوں جہاں میں کیسے سکوں ملے
منظور جانتا ہوں یہ غموار ہیں عبث
٭٭٭٭٭٭
یونس عارف — مارچ 24، 2010 12:02 شام
آپ کا شکریہ بہت ہی عمدہ۔ ۔ ۔
الف عین — مارچ 24، 2010 5:21 شام
اس کی بھی ایک بار اصلاح ہو چکی ہو گی شاید، اسی لئے یہاں پوسٹ کی گئی ہے۔ لیکن یہ نثری شاعری بہر حال نہیں ہے، اس لئے غلط زمرے میں ہے۔ ماڈریٹر اس کو مناسب زمرے میں شفٹ کر دیں۔ تفہیم کا مسئلہ بہر حال اس میں بھی ہے، مثلاً رفاقتوں کے مینار، زہر بانٹتے اشجار، اور دونوں مصرعوں‌میں بظاہر ربط بھی نظر نہیں آ رہا۔
مغزل — مارچ 24، 2010 8:24 شام
شکریہ ، جناب ، ماشا اللہ اچھی کوشش ہے ، مشق جاری رکھیے ۔
manjoo — مارچ 25، 2010 4:28 صبح
سب دوستوں کا خصوصی شکریہ۔
الف عین صاحب اس کی اصلاح فرما دیں جیسا کہ آپ نے نشاندھی فرمائ ہے۔
مغزل — مارچ 25، 2010 8:25 شام
لیجے جناب اس دھاگے کو ’’ جراحت خانے ‘‘ میں منتقل کیا جارہا ہے ۔، ۔
manjoo — اپریل 23، 2010 7:22 صبح
الف عین صاحب آپ نے اس کی اصلاح نہیں فرمائ۔
الف عین — اپریل 28، 2010 11:35 صبح
مضامین کے مفہوم ذرا درست کر دیں تو اصلاح میں آسانی ہو، ورنہ میں تو محض بحر میں کرنے کا عمل کرتا ہوں۔
الف عین — مئی 29، 2010 6:26 شام
بہر حال حاضر ہے اصلاح۔۔ یا اصلاح کی کوشش۔۔۔۔
اِس مطلبی جہاں کے سب یار ہیں عبث
ایسی محبتوں کے یہ اقرار ہیں عبث
٭٭٭٭٭٭
؂/// دوسرا مصرع واضح نہیں ہے۔ پہلا مصرع درست ہے لیکن اس صورت میں جب ’ جہاں‘ نہیں۔ نون کے اعلان کے ساتھ ’جہان‘ ہو۔
ہے علم گر لحد میں اکیلے ہی جائیں گے
وقتی رفاقتوں کے یہ مینار ہیں عبث
٭٭٭٭٭٭
/// پہلے مصرع میں ’گر‘ کیوں، یہ شرطیہ نہیں، لحد میں اکیلے ہی جانا ہے، یہ کائناتی حقیقت ہے۔
ہے علم جب لحد میں اکیلے ہی جائیں گے
لیکن دوسرے مصرع میں قافیہ درست نہیں لگتا، مینار؟
اب دوستی ہے نام مطالب کا دوستو
یہ زہر بانٹتے ہوئے اشجار ہیں عبث
٭٭٭٭٭٭
’مطالب‘ غلط ہے یہاں، کہ مراد ’مطلب کی دوستی ‘ سے ہے۔ یوں کر دو پہلا مصرع
اب دوستی تو صرف ہے خود غرضیوں کا نام
یا
اب سچی دوستی ہے وہی جو غرض کی ہو
دوسرا مصرع چل سکتا ہے اگرچہ مفہوم بلکہ تشبیہہ کے لحاظ سے پسند نہیں آیا۔
اندر کدورتیں ہیں تو باہر بشارتیں
چہروں پہ کھلتے ہوئے یہ انوار ہیں عبث
٭٭٭٭٭٭
/// بشارتیں؟ اس سے کیا مراد ہے؟
دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے۔ یوں لایا جا سکتا ہے
چہروں پہ کھل رہے ہیں جو، انوار ہیں عبث
اس بے سکوں جہاں میں کیسے سکوں ملے
منظور جانتا ہوں یہ غموار ہیں عبث
٭٭٭٭٭٭
یہاں بھی ’جہان‘ باعلان نون وزن میں آتا ہے۔ باقی شعر تو وزن میں ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%A7%D9%90%D8%B3-%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8%DB%8C-%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A8-%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B9%D8%A8%D8%AB-%D8%A7%D8%B2-manjoo.29244/