برائے اصلاح - - جو تیرے در کا ہوا نہیں ہوں

انس معین — اگست 5، 2019 5:54 شام
سر اصلاح کی گزارش ہے
الف عین
عظیم
فلسفی
جو تیرے در کا ہوا نہیں ہوں
تو اپنے گھر بھی گیا نہیں ہوں
شیخ جنت چھپائے مجھ سے
ابھی میں کافر ہوا نہیں ہو
عشق اندر سے کھا چکا ہے
ذرا بھی باقی بچا نہیں ہوں
تری گلی سے گزر گیا ہوں
میں اب کی باری رکا نہیں
فرقان احمد — اگست 5، 2019 6:55 شام
جو تیرے در کا ہوا نہیں ہوں
تو اپنے گھر بھی گیا نہیں ہوں
شیخ جنت چھپائے مجھ سے
ابھی میں کافر ہوا نہیں ہوں
عشق اندر سے کھا چکا ہے
ذرا بھی باقی بچا نہیں ہوں
تری گلی سے گزر گیا ہوں
میں اب کی باری رکا نہیں ہوں

لیجیے، دو بڑی غلطیاں تو ہم نے ہی نکال دیں! :)
الف عین — اگست 6، 2019 4:41 صبح
بحر شاید مفاعلاتن دو بار ہے۔
دو مصرعے بحر سے خارج ہو گئے ہیں جو محض فاعلات سے شروع ہو رہے ہیں، اب یہ خود ہی پہچان!
شعر کا ایک سقم اور ہے، دونوں مصرعوں کا ایک ردیف پر ختم ہونا
تری گلی سے گزر گیا ہوں
بھی *ہوں" پر ختم ہوتا ہے جو ردیف کا حصہ ہے
ترتیب بدل کر
گزر گیا ہوں تری گلی سے
کیا جا سکتا ہے
انس معین — اگست 6، 2019 6:37 صبح
بحر شاید مفاعلاتن دو بار ہے۔
دو مصرعے بحر سے خارج ہو گئے ہیں جو محض فاعلات سے شروع ہو رہے ہیں، اب یہ خود ہی پہچان!
شعر کا ایک سقم اور ہے، دونوں مصرعوں کا ایک ردیف پر ختم ہونا
تری گلی سے گزر گیا ہوں
بھی *ہوں" پر ختم ہوتا ہے جو ردیف کا حصہ ہے
ترتیب بدل کر
گزر گیا ہوں تری گلی سے
کیا جا سکتا ہے
بہت شکریہ سر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AC%D9%88-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%A7-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%DA%BA.107942/