برائے اصلاح - بات کہنے کو یوں تو بیاں ہو گئی

فلسفی — فروری 16، 2019 12:03 شام
سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے۔
بات کہنے کو یوں تو بیاں ہو گئی
اک وضاحت مگر کچھ گراں ہو گئی
چند لفظوں کی مخصوص ترتیب سے
اس کے اندر کی تلخی عیاں ہو گئی
دھڑکنیں سرکشی پر اترنے لگیں
ایک حسرت جو دل کی جواں ہو گئی
ہر زباں پر تھی کل تک کہانی مری
آج بھولی ہوئی داستاں ہو گئی
جس کی آمد پہ کھلتے تھے گل ہر طرف
وہ بہار اب کہ جیسے خزاں ہوگئی
سب خواتین لگنے لگیں محترم
اس کی بیٹی جب اپنی جواں ہو گئی
زندگی ایک سگریٹ جیسی تھی کیا؟
زور کا کش لگایا دھواں ہو گئی
چار دن بزمِ اہلِ سخن میں رہا
شاعری فلسفیؔ کی رواں ہوگئی​
وصی اللہ — فروری 16، 2019 1:01 شام
شاعری رواں ہونا بالکل نیا محاورہ ہے پہلی بار پڑھنے کو ملا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلسفی — فروری 16، 2019 1:08 شام
شاعری رواں ہونا بالکل نیا محاورہ ہے پہلی بار پڑھنے کو ملا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی کا ڈر تھا۔ :)
متبادل سوچ رہا ہوں۔
فلسفی — فروری 16، 2019 1:21 شام
متبادل مصرع یہ ہو سکتا ہے
فلسفیؔ کی طبیعت رواں ہوگئی
الف عین — فروری 17، 2019 4:51 صبح
اچھی غزل ہے فلسفی کی طبیعت واقعی رواں ہو گئی ہے۔
طبیعت کی روانی واقعی محاورہ درست ہے، شاعری کی روانی نہیں۔ باقی تو کوئی غلطی نظر نہیں آتی
فلسفی — فروری 17، 2019 5:06 صبح
اچھی غزل ہے فلسفی کی طبیعت واقعی رواں ہو گئی ہے۔
طبیعت کی روانی واقعی محاورہ درست ہے، شاعری کی روانی نہیں۔ باقی تو کوئی غلطی نظر نہیں آتی
بہت شکریہ سر
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 17، 2019 6:10 صبح
چند لفظوں کی مخصوص ترتیب سے
اس کے اندر کی تلخی عیاں ہو گئی
واہ واہ ،
بہت عمدہ فلسفی جی ،
بلاشبہ موجودہ حالات کی عکاسی ہے ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%92-%DA%A9%D9%88-%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%AA%D9%88-%D8%A8%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A6%DB%8C.105561/