برائے اصلاح - رات مسافر اپنی بستی چھوڑ چلے

loneliness4ever — جولائی 16، 2014 8:28 صبح
السلام علیکم
امید ہے تمام احباب اللہ کی رحمت کے سائے تلے
خوش باش ہونگے
حاضر ہوا ہوں ایک عدد کاوش لیکر اب یہ احباب ہی بتلائیں
گے کہ کاوش کامیاب ہوئی یا ناکام مگر دونوں صورتوں میں
یہ مسافر منزل سے ایک قدم اور قریب ہو جائے گا
بس احباب اور استاد حضرات رہنمائی کی مشعل کو
سدا روشن رکھیں ....
اللہ آباد و بے مثال رکھے آپ احباب کو .... آمین

رات مسافر اپنی بستی چھوڑ چلے
بند وہ سارے پلکوں کے پھر توڑ چلے
آنکھ زبانی عالم دل کا عام ہوا
بار جہاں میں رسوا کر کے چھوڑ چلے
عید خوشی پر گھر میں جل تھل خوب ہوا
پیار محبت غم سے ایسا جوڑ چلے
رات فلک سے تارے ایسے ٹوٹ گئے
یاد نگر تک رستہ پھر سے موڑ چلے
خواب سحر میں آخر آکر چیخ پڑا
چاند ستارے سارے تنہا چھوڑ چلے

س ن مخمور
الف عین — جولائی 16، 2014 12:13 شام
خوش آمدید مخمور۔
اچھی غزل ہے، اگرچہ قوافی ثقیل ہیں۔
بس ان دو مصرعوں میں تبدیلی کی جانی چاہئے میری ذاتی رائے میں
آنکھ زبانی عالم دل کا عام ہوا
یہ واضح نہیں، اور آنکھ زبانی سے کیا مراد ہے؟
عید خوشی پر گھر میں جل تھل خوب ہوا
عید خوشی کی ترکیب بھی عجیب سی لگی۔
باقی میرے خیال میں اصلاح کی ضرورت نہیں
loneliness4ever — جولائی 16، 2014 4:38 شام
خوش آمدید مخمور۔
اچھی غزل ہے، اگرچہ قوافی ثقیل ہیں۔
بس ان دو مصرعوں میں تبدیلی کی جانی چاہئے میری ذاتی رائے میں
آنکھ زبانی عالم دل کا عام ہوا
یہ واضح نہیں، اور آنکھ زبانی سے کیا مراد ہے؟

عید خوشی پر گھر میں جل تھل خوب ہوا
عید خوشی کی ترکیب بھی عجیب سی لگی۔
باقی میرے خیال میں اصلاح کی ضرورت نہیں

ممنون ہوں جناب کا، قیمتی وقت عنایت فرمایا
جی آنکھ زبانی سے اس ناچیز کی مراد
آنکھ کے راستے دل کا حال بیان ہونا تھی
محترم استاد
عید خوشی ..... بس مراد یہ تھی کہ عید کی خوشی
پر بھی گھر میں سوگ ہی رہتا ہے
کوشش کی کہ ہر ایک خوشی جیسی کوئی بات لکھ سکوں
پھر عید خوشی ذہن میں آگیا وہ ہی لکھ کر بات کہنا چاہی
سوچا یہ بھی تھا کہ عید اور خوشی کو الگ الگ کر دوں
عید ، خوشی یوں لکھ کر ... پھر کیا نہیں
اب آپ سے گذارش ہے کہ میری کم علمی کی سیاہی
کو اپنی رائے سے منور فرمائیں
اللہ آباد و بے مثال رکھے .........آمین
loneliness4ever — مارچ 24، 2015 3:50 شام
الف عین
محترم استاد
خاکسار ایک مرتبہ پھر اپنی پرانی کاوشوں کی جانب توجہ کا طالب ہے، آپ کی رائے عزیز رکھتے ہوئے
مصرعوں میں تبدیلی کر کے حاضر ہوا ہوں ... امید ہے نظر فرمائیں گے
رات مسافر اپنی بستی چھوڑ چلے
بند وہ سارے پلکوں کے پھر توڑ چلے
آنکھ جہاں سے دل کا عالم کہتی رہی
اشک نگرمیں رسوا کر کے چھوڑ چلے
عید کے دن بھی گھر میں جل تھل خوب ہوا
پیار محبت غم سے ایسا جوڑ چلے
رات فلک سے تارے ایسے ٹوٹ گئے
یاد نگر تک رستہ پھر سے موڑ چلے
خواب سحر میں آخر آکر چیخ پڑا
چاند ستارے سارے تنہا چھوڑ چلے
فاروق احمد بھٹی — مارچ 24، 2015 4:15 شام
خواب سحر میں آخر آکر چیخ پڑا
چاند ستارے سارے تنہا چھوڑ چلے
لا جواب پسند آیا یہ شعر بہت
loneliness4ever — مارچ 24، 2015 4:17 شام
لا جواب پسند آیا یہ شعر بہت

اور فقیر کو آپ کی آمد پسند آئی :)
فاروق احمد بھٹی — مارچ 24، 2015 4:18 شام
اور فقیر کو آپ کی آمد پسند آئی
اور آپ کو مبارک کے آپ نے استاد سے مذید اصلاح کی گنجائش نہ ہونے کی سند پائی
loneliness4ever — مارچ 24، 2015 4:21 شام
اور آپ کو مبارک کے آپ نے استاد سے مذید اصلاح کی گنجائش نہ ہونے کی سند پائی

یہ سب محترم استاد کی ہی شفقت اور عنایت کے سبب ہے ورنہ بندہ کہاں قابل
الف عین — مارچ 25، 2015 4:21 صبح
اب واقعی درست ہے غزل۔
loneliness4ever — مئی 11، 2015 3:47 شام
اب واقعی درست ہے غزل۔

محترم استاد یہ آپ ہی کی شفقت کی بدولت ہے
اللہ پاک صحت و تندرستی سے مالا مال فرمائے آپکو ۔۔۔ آمین

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C-%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%8C-%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91-%DA%86%D9%84%DB%92.76170/