برائے اصلاح - فلسفیؔ تجھ پہ ترس آتا ہے

فلسفی — فروری 25، 2019 11:55 صبح
سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش۔
دکھ جب اندر سے اس کو کھاتا ہے
تو وہ باہر سے مسکراتا ہے
نیک بندوں کو سچ ہے مشکل میں
صرف اللہ یاد آتا ہے
چار دن کی ہے زندگی پھر موت
آدمی کیوں یہ بھول جاتا ہے؟
موت جس کو ملی شہادت کی
اس کی قسمت پہ رشک آتا ہے
پیاس کیا ہے، یہی تجسس اب
اس کو صحرا میں کھینچ لاتا ہے
بے وفا ہے وہ پھر بھی حیرت ہے
ہر کوئی اس کے گیت گاتا ہے
عمر گزری تری گناہوں میں
فلسفیؔ تجھ پہ ترس آتا ہے​
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 25، 2019 12:07 شام
پیاس کیا ہے، یہی تجسس اب
اس کو صحرا میں کھینچ لاتا ہے
کیا بات ہے ، واہ فلسفی جی ۔
ارشد چوہدری — فروری 26، 2019 4:19 صبح
ہمیشہ کی طرح خوبصورت تخلیق ۔ ماشاء اللہ
الف عین — فروری 26، 2019 9:04 صبح
درست ہے غزل سوائے آخری شعر کے
ترس مع را ساکن فارسی لفظ ہے بمعنی خوف و ہراس لیکن میرے خیال میں یہ مفہوم تمہارا نہیں ہے
ترس را مفتوح، ہندی بمعنی رحم... اور شاید یہی استعمال کرنا چاہتے تھے۔ تو رحم ہی کہو نا!
فلسفی — فروری 26، 2019 9:06 صبح
درست ہے غزل سوائے آخری شعر کے
ترس مع را ساکن فارسی لفظ ہے بمعنی خوف و ہراس لیکن میرے خیال میں یہ مفہوم تمہارا نہیں ہے
ترس را مفتوح، ہندی بمعنی رحم... اور شاید یہی استعمال کرنا چاہتے تھے۔ تو رحم ہی کہو نا!
ٹھیک ہے سر۔ یہ غلطی شاید آپ نے پہلے بھی ایک غزل میں نکالی تھا۔ دہرانے کے لیے معافی چاہتا ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%8C%D8%94-%D8%AA%D8%AC%DA%BE-%D9%BE%DB%81-%D8%AA%D8%B1%D8%B3-%D8%A2%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92.105723/