برائے اصلاح - مجبوریوں کے نام پہ حسرت کمائے گی

فلسفی — مئی 18، 2019 9:04 شام
سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گزارش ہے۔
مجبوریوں کے نام پہ حسرت کمائے گی
یہ زندگی ابھی ہمیں کیا کیا دکھائے گی
معلوم کس کو تھا کہ شبِ ہجر آئے گی
یوں تیرگی نصیب کی خفت مٹائے گی
داغِ مفارقت تو ہمیں دے گیا ہے وہ
لیکن اسے بھی چین سے کیا نیند آئے گی؟
وہ بے خبر تھا یا اسے احساس ہی نہ تھا
اس کے بغیر زندگی کیا ظلم ڈھائے گی
خوشبو وصالِ یار کی اس دشت ہجر میں
اک دن بہار بن کے کبھی مسکرائے گی
رعنائیاں جو موسمِ الفت کی خاص ہیں
قسمت انھیں کبھی نہ کبھی کھینچ لائے گی
اُٹھی ہے ایک دم سے جو کالی گھٹا ابھی
کچے کسی مکان پہ بجلی گرائے گی
اُس شہر میں چلیں جہاں قانون ہو کہ اب
بولے گی سچ زباں تو وہ کاٹی نہ جائے گی
اُس شہر میں چلیں جہاں قانون ہو کہ اب
شوہر کو چھوڑ کر کبھی بیوی نہ جائے گی
ارشد چوہدری — مئی 18، 2019 11:11 شام
فلسفی بھائی بہت اچھی خاص طور پر آخری شعر۔ مطلع دو ہیں۔۔ بزرگ اعتراض کریں گے
فلسفی — مئی 19، 2019 1:02 صبح
فلسفی بھائی بہت اچھی خاص طور پر آخری شعر

بہت شکریہ ارشد بھائی، آخری شعر کا سرگوشی والا مصرعہ یا بغیر سرگوشی والا :sneaky:
مطلع دو ہیں۔۔ بزرگ اعتراض کریں گے
جی اس کو حسن مطلع کہتے ہیں غالبا۔ اور مطلع کے بعد متعدد اشعار میں مکرر ایک ہی قافیہ دونوں مصرعوں میں استعمال ہوسکتا ہے۔ اس پر جیسے اساتذہ فرمائیں گے ویسے تبدیل کردیں گے۔
الف عین — مئی 19، 2019 5:05 صبح
دو مطلع ہونے میں کوئی حرج نہیں
زیادہ تر درست ہی ہے غزل
وہ بے خبر تھا یا اسے احساس ہی نہ تھا
اس کے بغیر زندگی کیا ظلم ڈھائے گی
زندگی کی ی کا گرنا نا گوار لگتا ہے
اس کے بغیر زیست عجب ظلم....
لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ 'اس' سے کون مراد ہے؟
سرگوشی والا شعر تو دوسرے کان سے نکال دیا!
اُس شہر میں چلیں جہاں قانون ہو کہ اب
بولے گی سچ زباں تو وہ کاٹی نہ جائے گی
دوسرے مصرعے میں روانی متاثر ہو گئی ہے
بولے گی سچ زبان تو کاٹی نہ....
بہتر ہو شاید
وصی اللہ — مئی 19، 2019 6:42 صبح
مطلع میں "حسرت کمانا" محاورہ سننے میں نہیں آیا کبھی۔۔۔۔
فلسفی — مئی 19، 2019 7:21 صبح
وہ بے خبر تھا یا اسے احساس ہی نہ تھا
اس کے بغیر زندگی کیا ظلم ڈھائے گی
زندگی کی ی کا گرنا نا گوار لگتا ہے
اس کے بغیر زیست عجب ظلم....
لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ 'اس' سے جون مراد ہے؟
سر پہلے مصرعے میں "وہ" سے محبوب کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرے مصرعے میں "اس" کا ربط "وہ" سے نہیں بنتا؟
ویسے تو پوری غزل میں غائب کا صیغہ ہے ورنہ تو یوں کہا جاسکتا ہے۔
تُو بے خبر تھا یا تجھے احساس ہی نہ تھا
تیرے بغیر زیست بہت ظلم ڈھائے گی
اُس شہر میں چلیں جہاں قانون ہو کہ اب
بولے گی سچ زباں تو وہ کاٹی نہ جائے گی
دوسرے مصرعے میں روانی متاثر ہو گئی ہے
بولے گی سچ زبان تو کاٹی نہ....
بہتر ہو شاید
جی بہتر ہے۔
مطلع میں "حسرت کمانا" محاورہ سننے میں نہیں آیا کبھی۔۔۔۔
چلیں حضرت اب تو سن لیا نا آپ نے :D
ویسے نشاندہی کے لیے بہت شکریہ۔ "ذلت کمانا" عام بولا جاتا ہے اسی مناسبت سے یہ استعمال کیا تھا۔ سر الف عین کیا "حسرت کمانا" استعمال کیا جا سکتا ہے؟
فلسفی — مئی 19، 2019 9:03 صبح
سر پہلے مصرعے میں "وہ" سے محبوب کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرے مصرعے میں "اس" کا ربط "وہ" سے نہیں بنتا؟
ویسے تو پوری غزل میں غائب کا صیغہ ہے ورنہ تو یوں کہا جاسکتا ہے۔
تُو بے خبر تھا یا تجھے احساس ہی نہ تھا
تیرے بغیر زیست بہت ظلم ڈھائے گی
سر ایک متبادل یہ بھی ہے
وہ بے خبر تھا یا اسے احساس ہی نہ تھا
تنہائیوں کی چوٹ بہت ظلم ڈھائے گی
وصی اللہ — مئی 19، 2019 2:17 شام
سر پہلے مصرعے میں "وہ" سے محبوب کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرے مصرعے میں "اس" کا ربط "وہ" سے نہیں بنتا؟
ویسے تو پوری غزل میں غائب کا صیغہ ہے ورنہ تو یوں کہا جاسکتا ہے۔
تُو بے خبر تھا یا تجھے احساس ہی نہ تھا
تیرے بغیر زیست بہت ظلم ڈھائے گی
جی بہتر ہے۔
چلیں حضرت اب تو سن لیا نا آپ نے :D
ویسے نشاندہی کے لیے بہت شکریہ۔ "ذلت کمانا" عام بولا جاتا ہے اسی مناسبت سے یہ استعمال کیا تھا۔ سر الف عین کیا "حسرت کمانا" استعمال کیا جا سکتا ہے؟
اللہ برکت دے مزید کمائیے۔۔۔۔۔
الف عین — مئی 20، 2019 4:12 صبح
تُو بے خبر تھا یا تجھے احساس ہی نہ تھا
تیرے بغیر زیست بہت ظلم ڈھائے گی
بہترین ہے
حسرت کمانا بھی کہا جا سکتا ہے میرے خیال میں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%85%D8%AC%D8%A8%D9%88%D8%B1%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%85-%D9%BE%DB%81-%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%92-%DA%AF%DB%8C.106898/