برائے اصلاح - ہم شہر بھر میں خود کو، بدنام دیکھتے ہیں

فلسفی — جولائی 9، 2019 11:16 صبح
سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے۔
ہم شہر بھر میں خود کو، بدنام دیکھتے ہیں
پتھر کو پوجنے کا، انجام دیکھتے ہیں
عاشق کی خوبیوں سے، صرفِ نظر کریں گے
اہلِ خرد جنوں کا، الزام دیکھتے ہیں
مشکل میں دوسروں کی، امداد کے بجائے
کم ظرف لوگ اپنا، آرام دیکھتے ہیں
کوشش تھی دردِ دل کو، ظاہر نہ ہونے دیں گے
ہم آئینے میں خود کو، ناکام دیکھتے ہیں
دل بے وفا کو دے کر، خاموش بیٹھ کر ہم
اب زندگی کا اپنی، انجام دیکھتے ہیں​
منذر رضا — جولائی 9، 2019 2:32 شام
حضرت فلسفی صاحب خوب غزل کہی۔ تاہم دوسرا شعر سمجھ نہیں آ سکا۔
فلسفی — جولائی 9، 2019 2:56 شام
حضرت فلسفی صاحب خوب غزل کہی۔ تاہم دوسرا شعر سمجھ نہیں آ سکا۔
بہت شکریہ منذر بھائی۔
کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ عشق والوں میں اگر کوئی خوبی بھی ہے تو اہل خرد اس کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ ان کے مطابق عاشق پر جنوں کا الزام ہوتا ہے یعنی عقل سے ماوراء۔
منذر رضا — جولائی 9، 2019 6:18 شام
خوب فلسفی صاحب۔ خیال خوب ہے۔ اور کہا بھی خوب۔ دراصل بندہ ہی کچھ کج فہم واقع ہوا ہے، جس کی وجہ سے آپ کو زحمت دی گئی۔
الف عین — جولائی 10، 2019 4:53 صبح
دوسرا شعر واقعی واضح نہیں، الفاظ بدل کر واضح کرو
اب زندگی کا اپنی، انجام دیکھتے ہیں
کیا سیدھابہتر نہیں
اب اپنی زندگی کا انجام دیکھتے ہیں
باقی درست ہے غزل
درمیان میں کوما کی ضرورت نہیں
فلسفی — جولائی 10، 2019 5:04 صبح
دوسرا شعر واقعی واضح نہیں، الفاظ بدل کر واضح کرو
اب زندگی کا اپنی، انجام دیکھتے ہیں
کیا سیدھابہتر نہیں
اب اپنی زندگی کا انجام دیکھتے ہیں
باقی درست ہے غزل
درمیان میں کوما کی ضرورت نہیں
بہت شکریہ سر۔
متبادل سوچتا ہوں۔
فلسفی — جولائی 10، 2019 10:42 صبح
دوسرا شعر واقعی واضح نہیں، الفاظ بدل کر واضح کرو
سر یہ متبادل ٹھیک رہے گا؟
اہلِ خرد سے مخفی عاشق کی خوبیاں ہیں
وہ عشق پر جنوں کا الزام دیکھتے ہیں
فلسفی — جولائی 10، 2019 8:41 شام
منذر رضا بھائی غلط املا کی نشاندہی کے لیے شکریہ
الف عین — جولائی 11، 2019 4:09 صبح
سر یہ متبادل ٹھیک رہے گا؟
اہلِ خرد سے مخفی عاشق کی خوبیاں ہیں
وہ عشق پر جنوں کا الزام دیکھتے ہیں
در اصل الزام دیکھنا محاورے کے خلاف ہے، اگر یہی قافیہ لانا ہو تو مزید بہتر طریقے سے لانا چاہیے۔
فلسفی — جولائی 11، 2019 5:35 صبح
در اصل الزام دیکھنا محاورے کے خلاف ہے، اگر یہی قافیہ لانا ہو تو مزید بہتر طریقے سے لانا چاہیے۔
جی بہتر ہے سر، ابھی تو اور کچھ سوجھ نہیں رہا، لیکن اس کو مزید بہتر کر کے پیش کروں گا۔
فلسفی — جولائی 24، 2019 11:57 صبح
جی بہتر ہے سر، ابھی تو اور کچھ سوجھ نہیں رہا، لیکن اس کو مزید بہتر کر کے پیش کروں گا۔
سر الف عین ، "الزام" والے مصرعے کا کوئی متبادل تو سمجھ میں نہیں آیا۔ لیکن ایک حسن مطلع اور ایک مزید شعر کے بارے میں آپ کی رائے درکار ہے۔
وقتِ اجل کو اپنے دو گام دیکھتے ہیں
بارش میں پھر سے بھیگی جب شام دیکھتے ہیں
نظریں اٹھا کے زاہد اس کو نہ دیکھ پایا
ہر روز جو تماشہ ہم عام دیکھتے ہیں​
انس معین — جولائی 24، 2019 5:17 شام
دل بے وفا کو دے کر، خاموش بیٹھ کر ہم
اب زندگی کا اپنی، انجام دیکھتے ہیں
واہ بہت خوب
عمدہ غزل کہی ہے جناب ۔
الف عین — جولائی 25، 2019 7:29 صبح
دوسرا شعر تو ٹھیک ہے مگر حسن مطلع واضح نہیں ہوا۔ بارش یا شام کا موت سے تعلق؟
اگر دور از کار ربط قبول کر بھی لیا جائے تو 'پھر سے بھیگی جب' اچھا نہیں لگتا
میم الف — جولائی 25، 2019 9:06 صبح
ہم شہر بھر میں خود کو، بدنام دیکھتے ہیں
پتھر کو پوجنے کا، انجام دیکھتے ہیں
کوشش تھی دردِ دل کو، ظاہر نہ ہونے دیں گے
ہم آئینے میں خود کو، ناکام دیکھتے ہیں
دل بے وفا کو دے کر، خاموش بیٹھ کر ہم
اب زندگی کا اپنی، انجام دیکھتے ہیں​
آپ اِتنا کیوں دیکھتے ہیں؟
فلسفی — جولائی 25، 2019 11:13 صبح
آپ اِتنا کیوں دیکھتے ہیں؟
کوئی دیکھے نہ دیکھے "عظیم" تو دیکھے گا :p
فلسفی — جولائی 25، 2019 11:14 صبح
دوسرا شعر تو ٹھیک ہے مگر حسن مطلع واضح نہیں ہوا۔ بارش یا شام کا موت سے تعلق؟
اگر دور از کار ربط قبول کر بھی لیا جائے تو 'پھر سے بھیگی جب' اچھا نہیں لگتا
شکریہ سر
حسن مطلع والے شعر کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DB%81%D9%85-%D8%B4%DB%81%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AE%D9%88%D8%AF-%DA%A9%D9%88%D8%8C-%D8%A8%D8%AF%D9%86%D8%A7%D9%85-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.107563/