برائے اصلاح -جب یار ہو پہلو میں یہ جان نکل جائے

انس معین — جولائی 22، 2019 1:10 شام
سر اصلاح کی درخواست ہے
الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
عظیم
پھر جاوں گا کعبے کو پھر ڈھونڈوں گا بت خانے
پہلے مرے دل سے وہ بیمان نکل جائے
کچھ اور نہیں مانگا ان وقت کی گھڑیوں سے
جب یار ہو پہلو میں یہ جان نکل جائے
تم اپنا مجھے کہہ کر اک بار پکارو ناں
بے نام سے اس دل کا ارمان نکل جائے
کیا چیز نہیں چکھنی پہلے ہی بتائیے گا
جنت سے کہیں پھر نا انسان نکل جائے
محمد تابش صدیقی — جولائی 22، 2019 1:14 شام
پہلے مرے دل سے وہ بیمان نکل جائے
بے ایمان کو یوں لکھنا غالباً درست نہیں
انس معین — جولائی 22، 2019 1:17 شام
بے ایمان کو یوں لکھنا غالباً درست نہیں
یہ تو پنجابی والا ہو گیا ناں پھر ؟
الف عین — جولائی 23، 2019 3:26 صبح
پہلے شعر کا تو قافیہ ہی بے معنی ہے
دوسرا شعر درست ہے
تم اپنا مجھے کہہ کر اک بار پکارو ناں
بے نام سے اس دل کا ارمان نکل جائے
.... ناں کوئی لفظ نہیں، محض 'نا' درست ہے تاکید کے لیے۔ اس کے بعد '!' ضرور لگائیں
کیا چیز نہیں چکھنی پہلے ہی بتائیے گا
جنت سے کہیں پھر نا انسان نکل جائے
بتائیے کا الف ساقط ہو گیا کے
نا، اوپر کے شعر کے استعمال میں درست ہے، لیکن 'نہ' کے معنوں میں نہیں
پہلے ہی بتا دے/دیں یہ کیا شے نہ جکھی جائے
پھر یوں نہ ہو جنت سے انسان نکل جائے
ایک ممکنہ شکل
انس معین — جولائی 23، 2019 5:40 صبح
پہلے شعر کا تو قافیہ ہی بے معنی ہے
دوسرا شعر درست ہے
تم اپنا مجھے کہہ کر اک بار پکارو ناں
بے نام سے اس دل کا ارمان نکل جائے
.... ناں کوئی لفظ نہیں، محض 'نا' درست ہے تاکید کے لیے۔ اس کے بعد '!' ضرور لگائیں
کیا چیز نہیں چکھنی پہلے ہی بتائیے گا
جنت سے کہیں پھر نا انسان نکل جائے
بتائیے کا الف ساقط ہو گیا کے
نا، اوپر کے شعر کے استعمال میں درست ہے، لیکن 'نہ' کے معنوں میں نہیں
پہلے ہی بتا دے/دیں یہ کیا شے نہ جکھی جائے
پھر یوں نہ ہو جنت سے انسان نکل جائے
ایک ممکنہ شکل
بہت شکریہ سر
فلسفی — جولائی 23، 2019 6:28 صبح
پھر جاوں گا کعبے کو پھر ڈھونڈوں گا بت خانے
پہلے مرے دل سے وہ بیمان نکل جائے
بہت خوب انس بھائی، گو قافیہ کا مسئلہ ہے لیکن خیال اچھا ہے۔ اس کو یوں کہا جاسکتا ہے جو مطلع بھی بن جائے گا۔
اک رب ہے مرا محبوب یہ مان نکل جائے
یا پھر مرے دل سے وہ انسان نکل جائے
کیا چیز نہیں چکھنی پہلے ہی بتائیے گا
جنت سے کہیں پھر نا انسان نکل جائے
یہ بھی خوب کہا، میری زور آزمائی ملاحظہ کیجیے
ممنوع ہر اک شے کا ادراک ضروری ہے
جنت سے نہ پھر کوئی انسان نکل جائے
سر الف عین کیا یہ مصرعہ بحر میں آ سکتا ہے؟
ایسا نہ ہو جنت سے پھر انسان نکل جائے
انس معین — جولائی 23، 2019 6:39 صبح
بہت خوب انس بھائی، گو قافیہ کا مسئلہ ہے لیکن خیال اچھا ہے۔ اس کو یوں کہا جاسکتا ہے جو مطلع بھی بن جائے گا۔
اک رب ہے مرا محبوب یہ مان نکل جائے
یا پھر مرے دل سے وہ انسان نکل جائے
یہ بھی خوب کہا، میری زور آزمائی ملاحظہ کیجیے
ممنوع ہر اک شے کا ادراک ضروری ہے
جنت سے نہ پھر کوئی انسان نکل جائے
سر الف عین کیا یہ مصرعہ بحر میں آ سکتا ہے؟
ایسا نہ ہو جنت سے پھر انسان نکل جائے
بہت شکریہ ۔ عظیم بھائی ۔
ان کو بھی سامنے رکھتاہوں ۔
الف عین — جولائی 24، 2019 7:33 صبح
بہت خوب انس بھائی، گو قافیہ کا مسئلہ ہے لیکن خیال اچھا ہے۔ اس کو یوں کہا جاسکتا ہے جو مطلع بھی بن جائے گا۔
اک رب ہے مرا محبوب یہ مان نکل جائے
یا پھر مرے دل سے وہ انسان نکل جائے
یہ بھی خوب کہا، میری زور آزمائی ملاحظہ کیجیے
ممنوع ہر اک شے کا ادراک ضروری ہے
جنت سے نہ پھر کوئی انسان نکل جائے
سر الف عین کیا یہ مصرعہ بحر میں آ سکتا ہے؟
ایسا نہ ہو جنت سے پھر انسان نکل جائے
پھر انسان... وزن میں نہیں
انس معین — جولائی 27، 2019 9:43 صبح
سر غزل تبدیل کر کے دوبارہ حاضر ہوں
الف عین
عظیم
فلسفی
ہم ہجر کے قصوں کا عنوان نہ ہو جائیں
ڈرتا ہوں کہ ہم دونوں انجان نہ ہو جائیں
اک ساز نہ بن جائیں گزرے ہوئے لمحوں کا
ہم روتی ہوئی شب کے مہمان نہ ہو جائیں
دیکھو نہ ہمیں ایسے ان مست سی آنکھوں سے
ہم پھر سے کہیں تم پر قربان نہ ہو جائیں
اس زند گی کے سب رستے کتنے ہی مشکل ہیں
گر ساتھ چلو تم بھی آسان نہ ہو جائیں
تلوار اٹھا کر وہ میرے قتل کو گر آئیں
ہنستا جو مجھے دیکھیں حیران نہ ہو جائیں
اس بار نہیں چکھنا کس چیز کو جنت میں ؟
بے دخل وہاں سے پھر انسان نہ ہو جائیں
آیا نہ کوئی احمد جس شہر میں برسوں سے
اس شہر کی مانند ہم سنسان نہ ہو جائیں
سعید احمد سجاد — جولائی 28، 2019 4:02 صبح
سر غزل تبدیل کر کے دوبارہ حاضر ہوں
الف عین
عظیم
فلسفی
ہم ہجر کے قصوں کا عنوان نہ ہو جائیں
ڈرتا ہوں کہ ہم دونوں انجان نہ ہو جائیں
اک ساز نہ بن جائیں گزرے ہوئے لمحوں کا
ہم روتی ہوئی شب کے مہمان نہ ہو جائیں
دیکھو نہ ہمیں ایسے ان مست سی آنکھوں سے
ہم پھر سے کہیں تم پر قربان نہ ہو جائیں
اس زند گی کے سب رستے کتنے ہی مشکل ہیں
گر ساتھ چلو تم بھی آسان نہ ہو جائیں
تلوار اٹھا کر وہ میرے قتل کو گر آئیں
ہنستا جو مجھے دیکھیں حیران نہ ہو جائیں
اس بار نہیں چکھنا کس چیز کو جنت میں ؟
بے دخل وہاں سے پھر انسان نہ ہو جائیں
آیا نہ کوئی احمد جس شہر میں برسوں سے
اس شہر کی مانند ہم سنسان نہ ہو جائیں

انس بھائی ن کی تکرار سے تنافر ہے جو اچھا نہیں لگ رہا
الف عین — جولائی 29، 2019 7:35 صبح
سر غزل تبدیل کر کے دوبارہ حاضر ہوں
الف عین
عظیم
فلسفی
ہم ہجر کے قصوں کا عنوان نہ ہو جائیں
ڈرتا ہوں کہ ہم دونوں انجان نہ ہو جائیں
اک ساز نہ بن جائیں گزرے ہوئے لمحوں کا
ہم روتی ہوئی شب کے مہمان نہ ہو جائیں
دیکھو نہ ہمیں ایسے ان مست سی آنکھوں سے
ہم پھر سے کہیں تم پر قربان نہ ہو جائیں
اس زند گی کے سب رستے کتنے ہی مشکل ہیں
گر ساتھ چلو تم بھی آسان نہ ہو جائیں
تلوار اٹھا کر وہ میرے قتل کو گر آئیں
ہنستا جو مجھے دیکھیں حیران نہ ہو جائیں
اس بار نہیں چکھنا کس چیز کو جنت میں ؟
بے دخل وہاں سے پھر انسان نہ ہو جائیں
آیا نہ کوئی احمد جس شہر میں برسوں سے
اس شہر کی مانند ہم سنسان نہ ہو جائیں
ردیف بدل دینے کی ضرورت؟ اگرچہ تنافر کی خامی پچھلی ردیف میں بھی تھی، جان نکل، ایمان نکل وغیرہ میں ۔ مگر وہی بہتر تھی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AC%D8%A8-%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%DB%81%D9%88-%D9%BE%DB%81%D9%84%D9%88-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%8C%DB%81-%D8%AC%D8%A7%D9%86-%D9%86%DA%A9%D9%84-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92.107759/