برائے اصلاح : Advise

یاسر علی — اکتوبر 3، 2020 3:57 صبح
الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
Advise
مری معصوم سی نازک
حسیں جاناں!
یہ مانا تم
بہت اچھی
بہت سچی ہو,
لیکن! پھر بھی پھر بھی نا!
ابھی تم ہو بہت کچی
تمھاری عمر ہی کیا ہے
ابھی کچھ اور تم پڑھ لو
مہکتے پھولوں کو چومو
کہ اڑتی تتلیاں پکڑو
ابھی بچپن کی پر اسرار وادی میں گزارو دن
ابھی ننھے کھلونوں سے کرو کھیلا
ابھی تم دل سے مت کھیلو
کھلونے ٹوٹ جائیں گر
دوبارہ پھر دکانوں سے ہیں مل جاتے
مگر دل ٹوٹ جائیں تو
دوبارہ پھر نہیں جڑتے
کبھی بھی دل دکانوں سے نہیں ملتے
مری مانو
اگر سمجھو
ابھی مجھ سے
محبت مت کرو جاناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
یاسر علی میثم
ارشد چوہدری — اکتوبر 3، 2020 4:36 صبح
بہت اچھی نظم ہے یاسر بھائی ، بس ایک چھوٹی سی بات ، تیسرے مصرعے یا فقرے میں لفظ کہہ نہیں بلکہ کہ ہانا چاہئے کیونہ کہہ سے مراد کہنا یا کہو ہوتا ہے (یہ مانا کہ بہت اچھی بہت سچی ہو )
الف عین — اکتوبر 3، 2020 7:22 صبح
پہلی بات، عنوان انگریزی میں کیوں؟
مری معصوم سی نازک
حسیں جاناں!
... ایسا خطاب حسن کی تعریف کے لئے موزوں ہوتی ہے، اس نظم میں اس کی ضرورت نہیں، البتہ یہ بتایا جائے کہ محبوبہ کم سن ہے!
یہ مانا تم
بہت اچھی
بہت سچی ہو,
لیکن! پھر بھی پھر بھی نا!
.. یہ دہرانا اچھا نہیں،
لیکن پھر بھی یہ لگتا ہے مجھ کو
یا اس قسم کا کوئی مصرع بہتر ہو گا
ابھی تم ہو بہت کچی
تمھاری عمر ہی کیا ہے
ابھی کچھ اور تم پڑھ لو
مہکتے پھولوں کو چومو
کہ اڑتی تتلیاں پکڑو
ابھی بچپن کی پر اسرار وادی میں گزارو دن
ابھی ننھے کھلونوں سے کرو کھیلا
.. کرو کھیلا اچھا نہیں، اسے کچھ بدلو
ابھی تم دل سے مت کھیلو
کھلونے ٹوٹ جائیں گر
دوبارہ پھر دکانوں سے ہیں مل جاتے
.... دوکانوں سے یہ مل سکتے ہیں دو بارہ
مگر دل ٹوٹ جائیں تو
دوبارہ پھر نہیں جڑتے
کبھی بھی دل دکانوں سے نہیں ملتے
... کبھی بازار میں ملتے نہیں ہیں
مری مانو
اگر سمجھو
ابھی مجھ سے
محبت مت کرو جاناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
یاسر علی — اکتوبر 3، 2020 8:18 صبح
پہلی بات، عنوان انگریزی میں کیوں؟
مری معصوم سی نازک
حسیں جاناں!
... ایسا خطاب حسن کی تعریف کے لئے موزوں ہوتی ہے، اس نظم میں اس کی ضرورت نہیں، البتہ یہ بتایا جائے کہ محبوبہ کم سن ہے!
یہ مانا تم
بہت اچھی
بہت سچی ہو,
لیکن! پھر بھی پھر بھی نا!
.. یہ دہرانا اچھا نہیں،
لیکن پھر بھی یہ لگتا ہے مجھ کو
یا اس قسم کا کوئی مصرع بہتر ہو گا
ابھی تم ہو بہت کچی
تمھاری عمر ہی کیا ہے
ابھی کچھ اور تم پڑھ لو
مہکتے پھولوں کو چومو
کہ اڑتی تتلیاں پکڑو
ابھی بچپن کی پر اسرار وادی میں گزارو دن
ابھی ننھے کھلونوں سے کرو کھیلا
.. کرو کھیلا اچھا نہیں، اسے کچھ بدلو
ابھی تم دل سے مت کھیلو
کھلونے ٹوٹ جائیں گر
دوبارہ پھر دکانوں سے ہیں مل جاتے
.... دوکانوں سے یہ مل سکتے ہیں دو بارہ
مگر دل ٹوٹ جائیں تو
دوبارہ پھر نہیں جڑتے
کبھی بھی دل دکانوں سے نہیں ملتے
... کبھی بازار میں ملتے نہیں ہیں
مری مانو
اگر سمجھو
ابھی مجھ سے
محبت مت کرو جاناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

شکریہ درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔اور عنوان بھی اردو میں کرتا ہوں۔
یاسر علی — اکتوبر 3، 2020 8:19 صبح
بہت اچھی نظم ہے یاسر بھائی ، بس ایک چھوٹی سی بات ، تیسرے مصرعے یا فقرے میں لفظ کہہ نہیں بلکہ کہ ہانا چاہئے کیونہ کہہ سے مراد کہنا یا کہو ہوتا ہے (یہ مانا کہ بہت اچھی بہت سچی ہو )
شکریہ ارشد صاحب
یاسر علی — اکتوبر 4، 2020 4:22 صبح
جناب!
درستی کے بعد اب دیکھئے۔
الف عین
نصیحت
مری نادان جاناں سن!
یہ مانا تم!
بہت اچھی،
بہت سچی ہو، لیکن! مجھ کو لگتا ہے
ابھی تم ہو بہت کچی
تمھاری عمر ہی کیا ہے
ابھی کچھ اور تم پڑھ لو
مہکتے پھولوں کو چومو
کہ اڑتی تتلیاں پکڑو
ابھی بچپن کی پر اسرار وادی میں گزارو دن
ابھی کھیلا کرو ننھے کھلونوں سے
ابھی تم دل سے مت کھیلو
کھلونے ٹوٹ جائیں گر
دوکانوں سے یہ مل سکتے ہیں دوبارہ
مگر دل ٹوٹ جائیں تو
دوبارہ پھر نہیں جڑتے
کبھی بازار سے ملتے نہیں ہیں یہ
مری مانو
اگر سمجھو
ابھی مجھ سے
محبت مت کرو جاناں۔۔۔۔۔۔۔۔ !
یاسر علی میثم
الف عین — اکتوبر 4، 2020 5:25 صبح
درست ہے نظم
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 4، 2020 5:34 صبح
جناب!
درستی کے بعد اب دیکھئے۔
الف عین
نصیحت
مری نادان جاناں سن!
یہ مانا تم!
بہت اچھی،
بہت سچی ہو، لیکن! مجھ کو لگتا ہے
ابھی تم ہو بہت کچی
تمھاری عمر ہی کیا ہے
ابھی کچھ اور تم پڑھ لو
مہکتے پھولوں کو چومو
کہ اڑتی تتلیاں پکڑو
ابھی بچپن کی پر اسرار وادی میں گزارو دن
ابھی کھیلا کرو ننھے کھلونوں سے
ابھی تم دل سے مت کھیلو
کھلونے ٹوٹ جائیں گر
دوکانوں سے یہ مل سکتے ہیں دوبارہ
مگر دل ٹوٹ جائیں تو
دوبارہ پھر نہیں جڑتے
کبھی بازار سے ملتے نہیں ہیں یہ
مری مانو
اگر سمجھو
ابھی مجھ سے
محبت مت کرو جاناں۔۔۔۔۔۔۔۔ !
یاسر علی میثم
واہ!
یاسر علی — اکتوبر 4، 2020 6:38 صبح
بہت بہت شکریہ خلیل صاحب!
داد دینے کا۔۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 4، 2020 12:04 شام
اچھی نظم ہے، اصلاح شدہ ورژن میں ایک چیز استاد محترم سے غالبا نظر انداز ہوگئی. پہلے مصرعے میں "سن" کہنے سے شتر گربہ در آیا ہے، کیونکہ باقی نظم میں "تم" کا صیغہ استعمال ہوا ہے.
کبھی بازار سے ملتے نہیں ہیں یہ
یہ مصرعہ کچھ طویل لگ رہا ہے.
اگر اس کو یوں کرلیں؟
"نہ ہیں بازار سے ملتے"
دعاگو،
راحل.
یاسر علی — اکتوبر 4، 2020 12:13 شام
اچھی نظم ہے، اصلاح شدہ ورژن میں ایک چیز استاد محترم سے غالبا نظر انداز ہوگئی. پہلے مصرعے میں "سن" کہنے سے شتر گربہ در آیا ہے، کیونکہ باقی نظم میں "تم" کا صیغہ استعمال ہوا ہے.
یہ مصرعہ کچھ طویل لگ رہا ہے.
اگر اس کو یوں کرلیں؟
"نہ ہیں بازار سے ملتے"
دعاگو،
راحل.

شکریہ راحل صاحب!
قیمتی تجاویز دینے کا۔۔
ایسے کر دیتے ہیں۔
" مری نادان اے جاناں"
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 4، 2020 12:15 شام
نہیں، اس صورت میں شدید تعقید پیدا ہورہی ہے.

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-advise.113414/