فیضان قیصر — اکتوبر 19، 2016 1:51 شام
اس طرح ٹالو نا بے اعتنا ہو کر
میں یہاں آیا ہوں تم تک تبا ہوکر
لینگے بدلہ تمھارے روٹھنے کا جاں
ہم کسی بات پہ تم سے خفا ہوکر
اک گلہ ہے تمھاری دوستی سے یار
تنگ کرتے ہو تم بھی آشنا ہوکر
پایا ہے زندگی بھر دردِ دل ہم نے
مخلص و با ضمیر و با وفا ہوکر
پھر کسی کام کا رہتا نہیں انساں
چشم و مژگاں اے جاں کا مبتلا ہو کر
گو گزر جاتا ہے ہر ایک دن فیضان
بے دلی سے مگر زور آزما ہوکر
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 19، 2016 2:11 شام
مرزا تمیز الدین سے متاثر لگتے ہیں.

تفنن برطرف
اساتذہ کا انتظار فرمائیں.

فیضان قیصر — اکتوبر 19، 2016 3:01 شام
ہاہاہا۔۔ چلیں اس سے ایک بات تہ واضح ہو گئ محترم مرزا سے واقفیت رکھتے ہیں۔
الف عین — اکتوبر 19، 2016 5:22 شام
مرزا تمیز الدین سے میں تو واقف نہیں۔ لیکن
فیضان قیصر غزل کی تمیز سے واقف نہیں لگتے ہیں، جسے عروض کہا جاتا ہے۔
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 19، 2016 5:35 شام
مرزا تمیز الدین سے میں تو واقف نہیں۔ لیکن
فیضان قیصر غزل کی تمیز سے واقف نہیں لگتے ہیں، جسے عروض کہا جاتا ہے۔
مرزا تمیز الدین سے فیضان صاحب نے ہی متعارف کروایا تھا. اور ان کا بھی یہی مسئلہ بتایا تھا.

فیضان قیصر — اکتوبر 19، 2016 6:26 شام
دونوں محترم حضرات کا شکریہ۔ بات سمجھ میں آئی ہے کچھ ۔ اک اور غزل برائے اصلاح پوسٹ کر رہا ہوں ۔ امید ہے ںظر فرمائیں گے۔
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 19، 2016 6:29 شام
فیضان بھائی میرے ہلکا پھلکا مذاق برا لگا تو معذرت.
مگر اساتذہ کی گھرکی بھی کچھ نہ کچھ سکھاتی ہے.

فیضان قیصر — اکتوبر 19، 2016 6:32 شام
حضورِ والا ۔ میں مرزا کی طرح اپنی شاعری کو لیکر کسی غلط فہمی کا شکار نہیں

فیضان قیصر — اکتوبر 19، 2016 6:35 شام
آپکا شکریہ کہ آپ نے نظر فرمائی۔ اپنی اصلاح ہی مطلوب ہے صاحب۔ گھرکی سر آنکھوں پر ۔
فیضان قیصر — اکتوبر 19، 2016 7:08 شام
الف عین اور محمد تابش صاحب امید ہے رہنمائی فرماتے رہینگے۔
ادب دوست — اکتوبر 19، 2016 7:18 شام
لینگے بدلہ تمھارے روٹھنے کا جاں
ہم کسی بات پہ تم سے خفا ہوکر
کیا خوبصورت خیال ہے میاں، واہ، بس ذرا سی محنت سے بہت اچھا کہنے لگو گے ، ہمت نہ ہارنا اور کہتے رہنا ۔ استادمحترم جناب الف عین موجود ہیں اصلاح کیلئے،
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 19، 2016 7:19 شام
الف عین اور محمد تابش صاحب امید ہے رہنمائی فرماتے رہینگے۔
پیارے بھائی میں تو شاعر بھی نہیں، استادی تو دور کی بات.
استادِ محترم کے کہے پر دھیان دیں، اور عروض کو سمجھیں. اور پھر اپنی کاوش کو اس کی روشنی میں سنواریں.
