برائے اصلاح " ایک عالم ہے بے قراری کا"

خورشید نیر — اگست 24، 2019 4:03 شام
اساتذۂ اکرام سے اصلاح کی گزاراش ہے
ایک عالم ہے بے قراری کا
گویا موسم ہے آہ و زاری کا
جس کا دل ہے غموں کا شیدائی
اسے کیا شکوہ غم گساری کا
عشق میں دل تو ہو گیا ایسے
جیسے کاسہ کسی بھکاری کا
بے خبر تھے جو ہم سمجھتے تھے
عشق کو کھیل اک مداری کا
ابتدا سے ہے دمِ آخر تک
زندگی نام بے قراری کا
بافقیہ — اگست 24، 2019 4:24 شام
بہت خوبصورت جناب!
آخری شعر کا پہلا مصرعہ ایک بار دیکھ لیں۔ اگر یوں کردیں تو!
ابتدا سے ہے تا دم آخر
ارشد چوہدری — اگست 24، 2019 8:30 شام
دمِ آخر کا مطلب ہی آخر تک ہے۔ اس لئے تک لگانے کی ضرورت نہیں
ختم ہوتی ہے موت سے ورنہ
زندگی نام بے قراری کا
الف عین — اگست 25، 2019 6:59 صبح
اسے کیا شکوہ غم گساری کا
کی ترتیب الٹ دیں
کیا اسے شکوہ....
تا دم آخر بہتر ہے لیکن قراری محض استعمال نہیں ہوتا، صرف بے قراری ہوتا ہے اور قرار
خورشید نیر — اگست 25، 2019 9:11 صبح
جی سر شکریہ رہنمائی کے لیے
سید عاطف علی — اگست 25، 2019 9:37 صبح
عشق میں دل تو ہو گیا ایسے
اچھی غزل ہے ، بیان پر بات ہو چکی ۔
یہاں "تو" مضمون کے مطلوبہ بیانیہ سے موافق نہیں لگ رہا ۔ اس طرح زیادہ بہتر ہو گا۔
عشق میں ہو گیا ہے دل ایسا
خورشید نیر — اگست 25، 2019 10:40 صبح
جی عاطف صاحب شکریہ رائے دینے کا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85-%DB%81%DB%92-%D8%A8%DB%92-%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%D8%A7.108177/