برائے اصلاح : توڑ کر حلقۂ زنجیرِ گماں بولیں گے

ریحان احمد ریحانؔ — جولائی 8، 2021 5:42 صبح
توڑ کر حلقۂ زنجیرِ گماں بولیں گے
اب یہ دیوانے سرِ بزمِ بتاں بولیں گے
تم سخن فہم ہو سمجھو گے ہمارے دکھ کو
ہم یہاں بھی نہیں بولے تو کہاں بولیں گے!
پیشِ جابر نہ ہو سر خم نہ زباں ہو خاموش
مانند قافلۂ تشنہ لباں بولیں گے
اے ستم گر تری بیداد گری کا قصہ
ہم اگر چپ بھی رہیں اشکِ رواں بولیں گے
ہے یہی رسمِ وفا سنتِ اسلاف بھی ہے
وقت پڑنے پہ سرِ نوکِ سناں بولیں گے
نوعِ انساں کے غموں کا جو مداوا نہ کرے
لوگ اس فن کو فقط کارِ زیاں بولیں گے
شکریہ۔۔
ریحان احمد ریحانؔ — جولائی 8، 2021 5:43 صبح
الف عین
یاسر شاہ
محمّد احسن سمیع :راحل:
سید عاطف علی — جولائی 8، 2021 5:52 صبح
مانند کا تلفظ اس طرح ٹھیک نہیں ۔ اسے مفعول کے برابر باندھا جائے ۔
مجھے ایسا لگا کہ بتاں کی جگہ سرِ بزمِ شہاں ہونا چاہیئے ۔
ریحان احمد ریحانؔ — جولائی 8، 2021 5:59 صبح
مانند کا تلفظ اس طرح ٹھیک نہیں ۔ اسے مفعول کے برابر باندھا جائے ۔
مجھے ایسا لگا کہ بتاں کی جگہ سرِ بزمِ شہاں ہونا چاہیئے ۔
جی آپ نے صیح بولا بزمِ شہاں زیادہ مناسب ہو گا
اور مانند کا تلفظ بھی صیح بتایا آپ نے
اگر مانند کی جگہ صورت آجائے تو کیسا رہے گا؟
محمد عبدالرؤوف — جولائی 8، 2021 6:17 صبح
اے ستم گر تری بیداد گری کا قصہ
ہم اگر چپ بھی رہیں اشکِ رواں بولیں گے
یہاں پر "رہے" زیادہ مناسب نہ لگے گا؟
ریحان احمد ریحانؔ — جولائی 8، 2021 6:24 صبح
یہاں پر "رہے" زیادہ مناسب نہ لگے گا؟
جی یہاں پر رہے ہی تھا شاید ٹائپنگ میں غلط لکھا گیا تھا
یاسر شاہ — جولائی 8، 2021 7:46 صبح
السلام علیکم ریحان بھائی
توڑ کر حلقۂ زنجیرِ گماں بولیں گے
اب یہ دیوانے سرِ بزمِ بتاں بولیں گے
خوب ہے۔
ویسے آپ ہم جیسے مارے شرم کے بزم بتاں میں بھی مشکل ہی سے بولتے ہیں جیسے بزم شہاں میں بول رہے ہوں ۔ہیں نا۔:D
تم سخن فہم ہو سمجھو گے ہمارے دکھ کو
ہم یہاں بھی نہیں بولے تو کہاں بولیں گے!
واہ ۔
پیشِ جابر نہ ہو سر خم نہ زباں ہو خاموش
مانند قافلۂ تشنہ لباں بولیں گے
مانند کی جگہ "صورت _" کر بھی دیں تو "قافلہ تشنہ لباں "کا شعر میں آگے پیچھے کوئی جواز نہیں مل رہا۔
اے ستم گر تری بیداد گری کا قصہ
ہم اگر چپ بھی رہیں اشکِ رواں بولیں گے
میری نظر میں تو "رہیں" اور "رہے" دونوں درست ہیں البتہ "رہے" زیادہ بہتر ہے کہ زمانے کا ایک تسلسل ہے اس میں جبکہ "رہیں" میں ابھی کی بات ہے بس۔
"قصہ بولیں گے" غیر فصیح ہے۔
ہے یہی رسمِ وفا سنتِ اسلاف بھی ہے
وقت پڑنے پہ سرِ نوکِ سناں بولیں گے
بہت خوب۔
نوعِ انساں کے غموں کا جو مداوا نہ کرے
لوگ اس فن کو فقط کارِ زیاں بولیں گے
بہت اچھا۔ما شاء اللہ
زوجہ اظہر — جولائی 8، 2021 7:58 صبح
توڑ کر حلقۂ زنجیرِ گماں بولیں گے
اب یہ دیوانے سرِ بزمِ بتاں بولیں گے
تم سخن فہم ہو سمجھو گے ہمارے دکھ کو
ہم یہاں بھی نہیں بولے تو کہاں بولیں گے!
پیشِ جابر نہ ہو سر خم نہ زباں ہو خاموش
مانند قافلۂ تشنہ لباں بولیں گے
اے ستم گر تری بیداد گری کا قصہ
ہم اگر چپ بھی رہیں اشکِ رواں بولیں گے
ہے یہی رسمِ وفا سنتِ اسلاف بھی ہے
وقت پڑنے پہ سرِ نوکِ سناں بولیں گے
نوعِ انساں کے غموں کا جو مداوا نہ کرے
لوگ اس فن کو فقط کارِ زیاں بولیں گے
شکریہ۔۔
بہت خوب
ریحان احمد ریحانؔ — جولائی 8، 2021 8:08 صبح
السلام علیکم ریحان بھائی
توڑ کر حلقۂ زنجیرِ گماں بولیں گے
اب یہ دیوانے سرِ بزمِ بتاں بولیں گے
خوب ہے۔
ویسے آپ ہم جیسے مارے شرم کے بزم بتاں میں بھی مشکل ہی سے بولتے ہیں جیسے بزم شہاں میں بول رہے ہوں ۔ہیں نا۔:D
تم سخن فہم ہو سمجھو گے ہمارے دکھ کو
ہم یہاں بھی نہیں بولے تو کہاں بولیں گے!
واہ ۔
پیشِ جابر نہ ہو سر خم نہ زباں ہو خاموش
مانند قافلۂ تشنہ لباں بولیں گے
مانند کی جگہ "صورت _" کر بھی دیں تو "قافلہ تشنہ لباں "کا شعر میں آگے پیچھے کوئی جواز نہیں مل رہا۔
اے ستم گر تری بیداد گری کا قصہ
ہم اگر چپ بھی رہیں اشکِ رواں بولیں گے
میری نظر میں تو "رہیں" اور "رہے" دونوں درست ہیں البتہ "رہے" زیادہ بہتر ہے کہ زمانے کا ایک تسلسل ہے اس میں جبکہ "رہیں" میں ابھی کی بات ہے بس۔
"قصہ بولیں گے" غیر فصیح ہے۔
ہے یہی رسمِ وفا سنتِ اسلاف بھی ہے
وقت پڑنے پہ سرِ نوکِ سناں بولیں گے
بہت خوب۔
نوعِ انساں کے غموں کا جو مداوا نہ کرے
لوگ اس فن کو فقط کارِ زیاں بولیں گے
بہت اچھا۔ما شاء اللہ
آپ کے اس قیمتی مشورے کے لئے میں آپ شکر گزار ہوں
جزاک اللہ
ریحان احمد ریحانؔ — جولائی 8، 2021 8:08 صبح
بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AA%D9%88%DA%91-%DA%A9%D8%B1-%D8%AD%D9%84%D9%82%DB%82-%D8%B2%D9%86%D8%AC%DB%8C%D8%B1%D9%90-%DA%AF%D9%85%D8%A7%DA%BA-%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92.116900/