برائے اصلاح: تڑپ تڑپ نہ رہی، پیاس تشنگی نہ رہی

عاطف ملک — اپریل 15، 2017 5:38 صبح
اساتذہ کرام بالخصوص محترم الف عین اور محفلین کی خدمت میں یہ چند اشعار پیش ہیں۔
تنقیدی اور اصلاحی رائے سے نوازیے گا۔
تڑپ تڑپ نہ رہی، پیاس تشنگی نہ رہی
تری نگاہ سے پہلے جو تھی، وہ تھی، نہ رہی
وہ اک نگاہِ جگر پاش کیا ملی مجھ سے
مرے وجود میں ترتیبِ عنصری نہ رہی
تم آئے تھے تو بہاریں بھی کھلکھلائی تھیں
گئے جو تم تو خزاں میں بھی زندگی نہ رہی
مسابقت میں من و تو کی سب ہوا برباد
انا تو جیت گئی، حیف! دوستی نہ رہی
ہوس نے جذبہِ الفت کو یوں مقید کیا
سلوکِ عشق میں اب خود سپردگی نہ رہی
جہاں پہ سکہ بٹھایا ہے تم نے، مان لیا!
خدائے وقت تھے وہ، جن کی قیصری نہ رہی
ترے گدا کی خدائی ہے سنگِ در تیرا
جہاں میں اس سے بڑی کوئی سروری نہ رہی
چہار سو جسے ڈھونڈا تھا، دل میں تھا عاطف
ہٹے حجاب ، تو فریادِ موسوی نہ رہی​

ٹیگ نامہ:
محترم راحیل فاروق
محترم محمد ریحان قریشی
محترم عظیم
محترم کاشف اسرار احمد
محترم وڈے استاد جی :p
محمد تابش صدیقی — اپریل 15، 2017 5:48 صبح
بہت عمدہ غزل ہے
اب نیم استاد بلکہ عطائی استاد کو ٹیگ کیا ہے تو بھگتو.
تم آئے تھے تو بہاریں بھی کھلکھلائی تھیں
گئے جو تم تو خزاں میں بھی زندگی نہ رہی
بہاریں تو ویسے ہی کھلکھلاتی ہیں. اور خزاں میں ویسے ہی زندگی نہیں ہوتی. اس کا الٹ کہیں تو شعر میں جان پڑے گی.
ہوس نے جذبہِ الفت کو یوں مقید کیا
مقَیَّد کا تلفظ شاید غلط باندھا ہے.
محمد عظیم الدین — اپریل 15، 2017 6:13 صبح
مسابقت میں من و تو کی سب ہوا برباد
انا تو جیت گئی، حیف! دوستی نہ رہی
بہت خوب عاطف بھائی
الف عین — اپریل 15، 2017 11:57 صبح
میں بھی وہی کہوں گا جو تابش کہہ چکے ہیں۔
باقی تو درست ہے غزل، بلکہ اچھی ہے۔
عاطف ملک — اپریل 15، 2017 12:07 شام
بہاریں تو ویسے ہی کھلکھلاتی ہیں. اور خزاں میں ویسے ہی زندگی نہیں ہوتی. اس کا الٹ کہیں تو شعر میں جان پڑے گی.
شاید!
مقَیَّد کا تلفظ شاید غلط باندھا ہے
شاید نہیں،یقیناً غلط باندھا ہے :)
میں بھی وہی کہوں گا جو تابش کہہ چکے ہیں۔
باقی تو درست ہے غزل، بلکہ اچھی ہے۔
تعریف کیلیے بہت بہت شکریہ سر!
تلفظ کی غلطی کو درست کرتا ہوں انشا اللہ۔
لیکن شعر کے متعلق یہ ہے کہ بہار زندگی اور خوشی کی علامت ہے اور خزاں موت کی۔۔۔۔۔کسی کے آنے اور جانے سے ان کیفیات کا انتہا کو بھی پار کر جانا اس شعر کا خیال ہے یعنی گو کہ خزاں میں ویسے ہی زندگی نہیں ہوتی لیکن تم گئے تو وہ اس سے بھی گئی گزری ہو گئی۔
جہاں تک میرا اندازہ ہے،اس شعر سے یہ مفہوم واضح نہیں ہو رہا :-(
اگر ایسا ہے تو تبدیل کر دیتا ہوں:)
بہت خوب عاطف بھائی
شکریہ عظیم بھائی!
محبت ہے آپ کی!
محمد تابش صدیقی — اپریل 15، 2017 1:43 شام
لیکن شعر کے متعلق یہ ہے کہ بہار زندگی اور خوشی کی علامت ہے اور خزاں موت کی۔۔۔۔۔کسی کے آنے اور جانے سے ان کیفیات کا انتہا کو بھی پار کر جانا اس شعر کا خیال ہے یعنی گو کہ خزاں میں ویسے ہی زندگی نہیں ہوتی لیکن تم گئے تو وہ اس سے بھی گئی گزری ہو گئی۔
جہاں تک میرا اندازہ ہے،اس شعر سے یہ مفہوم واضح نہیں ہو رہا :-(
اگر ایسا ہے تو تبدیل کر دیتا ہوں:)
خزاں تو خود زندگی نہ ہونے کا استعارہ ہے. اسی طرح بہار زندگی کا. جو مفہوم آپ کے شعر کا بن رہا ہے وہ یہ کہ بہار میں زندگی بھی تمہارے آنےسے ہے اور خزاں میں زندگی کا عدم وجود تمہارے جانے سے ہے.
اس مفہوم میں کوئی مسئلہ نہیں مگر عمومی مضمون ہے.
میری رائے تھی کہ محبوب کو ذرا اور سر چڑھایا جائے. :)
ربیع م — اپریل 15، 2017 1:45 شام
بہت عمدہ ماشاءاللہ!
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 15، 2017 1:48 شام
ہوس نے جذبہِ الفت کو یوں مقید کیا
سلوکِ عشق میں اب خود سپردگی نہ رہی
عمدہ بہت اعلی بھائی جی۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 15، 2017 1:49 شام
وہ اک نگاہِ جگر پاش کیا ملی مجھ سے
مرے وجود میں ترتیبِ عنصری نہ رہی
زبردست عاطف بھائی
فرہاد بلوچ — اپریل 15، 2017 1:56 شام
خوبصورت
فرحان محمد خان — اپریل 15، 2017 2:25 شام
جہاں پہ سکہ بٹھایا ہے تم نے، مان لیا!
خدائے وقت تھے وہ، جن کی قیصری نہ رہی
واہ واہ بہت خووب
عاطف ملک — اپریل 15، 2017 2:28 شام
خزاں تو خود زندگی نہ ہونے کا استعارہ ہے. اسی طرح بہار زندگی کا. جو مفہوم آپ کے شعر کا بن رہا ہے وہ یہ کہ بہار میں زندگی بھی تمہاری وجہ سے ہے اور خزاں میں زندگی کا عدم وجود تمہارے جانے سے ہے.
اس مفہوم میں کوئی مسئلہ نہیں مگر عمومی مضمون ہے.
دراصل اس شعر کا مرکزی خیال ہی یہ ہے کہ "اس" کے بغیر کوئی چیز اپنی اصل میں نہیں رہتی یا رہ سکتی۔
میری رائے تھی کہ محبوب کو ذرا اور سر چڑھایا جائے. :)
سر چڑھانے کو بھی تابش یہ خیال اچھا ہے :p
پر یہ جو آپ کا شاعر ہے، ذرا "کچا" ہے :LOL:
استادِ محترم الف عین !
ان کو دیکھیے گا ذرا
ہوس نے ایسا مقید کیا ہے جذبہِ شوق
یا
ہوس نے جذبہِ الفت کیا مقید یوں
سلوکِ عشق میں اب خود سپردگی نہ رہی
عاطف ملک — اپریل 15، 2017 2:38 شام
بہت عمدہ ماشاءاللہ!
شکریہ بدر بھائی! :in-love:
عمدہ بہت اعلی بھائی جی۔
:embarrassed1:
نوازش عدنان بھائی!
لیکن آپ سے کم ;)
بہت شکریہ :)
جہاں پہ سکہ بٹھایا ہے تم نے، مان لیا!
خدائے وقت تھے وہ، جن کی قیصری نہ رہی
واہ واہ بہت خووب
بہت بہت شکریہ فرحان بھائی :)
نذیر احمد قریشی — اپریل 15، 2017 2:53 شام
بہت اعلٰی۔ بہت خوب
امان زرگر — اپریل 15، 2017 3:18 شام
وہ اک نگاہِ جگر پاش کیا ملی مجھ سے
مرے وجود میں ترتیبِ عنصری نہ رہی
بہت خوبصورت جناب عاطف ملک صاحب۔۔ خوش رہیں!
کاشف اسرار احمد — اپریل 15، 2017 3:34 شام
اچھی غزل ہے عاطف بھائی۔ ڈھیروں داد !
ان دونوں اشعار میں تابش بھائی سے متفق ہوں !
تم آئے تھے تو بہاریں بھی کھلکھلائی تھیں
گئے جو تم تو خزاں میں بھی زندگی نہ رہی

ہوس نے جذبہِ الفت کو یوں مقید کیا
سلوکِ عشق میں اب خود سپردگی نہ رہی
نوید ناظم — اپریل 15، 2017 3:48 شام
بہت خوب!
الف عین — اپریل 16، 2017 4:56 صبح
ہوس نے ایسا مقید کیا ہے جذبہِ شوق
اچھا مصرع ہے
عاطف ملک — اپریل 16، 2017 4:59 صبح
بہت بہتر استادِ محترم :)
عاطف ملک — اپریل 16، 2017 5:14 صبح
بہت اعلٰی۔ بہت خوب
بہت نواش نذیر صاحب:)
بہت خوبصورت جناب عاطف ملک صاحب۔۔ خوش رہیں!
آپ کی محبت کا بہت شکریہ امان بھائی:)
سلامت رہیں۔
اچھی غزل ہے عاطف بھائی۔ ڈھیروں داد !
ان دونوں اشعار میں تابش بھائی سے متفق ہوں !
غزل کی پسندیدگی پر ممنون ہوں :in-love:
اشعار پر کام کر رہا ہوں۔
آپ کو غزل پسند آئی،گویا ہماری محنت ٹھکانے لگ گئی:in-love:
بہت نوازش،خوش رہیں نوید بھائی :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AA%DA%91%D9%BE-%D8%AA%DA%91%D9%BE-%D9%86%DB%81-%D8%B1%DB%81%DB%8C%D8%8C-%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B3-%D8%AA%D8%B4%D9%86%DA%AF%DB%8C-%D9%86%DB%81-%D8%B1%DB%81%DB%8C.95796/